
ایران میں ملک گیر احتجاج: انٹرنیٹ تک رسائی محدود
موجودہ قیادت کے خلاف نعروں کے علاوہ بہت سے مظاہرین ملک میں دوبارہ بادشاہت کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جسے 1979 کے اسلامی انقلاب کے ذریعے ختم کر دیا گیا تھا۔
افسر اعوان ڈی پی اے، اے ایف پی کے ساتھ
سوشل میڈیا پر آنے والی رپورٹس میں انٹرنیٹ کی ”شدید ترین‘‘ بندش کا تذکرہ کیا جا رہا ہے اور یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ عالمی انٹرنیٹ تک رسائی کسی بھی وقت مکمل طور پر معطل کی جا سکتی ہے۔
ایران گزشتہ ایک ہفتے سے شدید سیاسی بے چینی کی لپیٹ میں ہے۔احتجاج کا آغاز ابتدائی طور پر دارالحکومت تہران میں حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ہوا تھا، تاہم یہ دیکھتے ہی دیکھتے ملک گیر لہر میں تبدیل ہو گیا۔

موجودہ قیادت کے خلاف نعروں کے علاوہ بہت سے مظاہرین ملک میں دوبارہ بادشاہت کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جسے 1979 کے اسلامی انقلاب کے ذریعے ختم کر دیا گیا تھا۔
ماضی میں بھی 2009، 2019، اور 2022 کے احتجاجی مظاہروں اور گزشتہ سال جون میں اسرائیلی فوجی حملوں کے دوران ایرانی حکومت نے بین الاقوامی انٹرنیٹ تک رسائی کو محدود یا مکمل بند کر دیا تھا۔ ایسی صورتحال میں صرف حکام کی منظور شدہ قومی ویب سائٹس ہی کام کرتی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر ان پابندیوں کے دو اہم مقاصد ہیں۔ پہلا مقصد آن لائن منظم ہونے والے مظاہرین کی رابطہ کاری کو روکنا ہے اور دوسرا مقصد احتجاج کی وائرل ویڈیوز، تصاویر اور رپورٹس کو عالمی سطح پر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہونے سے روکنا ہے۔

حکومت کی جانب سے تاحال کوئی درست معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کا ذکر ہے، جن میں مبینہ طور پر 12 زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ اب تک سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تاہم آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق ہونا باقی ہے۔



