
نورووائرس آلودہ سطحوں، خوراک اور پانی اور متاثرہ افراد سے قریبی رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اسے ”وومیٹنگ بگ‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
طبی ماہرین نے سب سے پہلے 1972 میں الیکٹرانک مائیکروسکوپ کے ذریعے نورو وائرس کو دریافت کیا۔ اس کے بعد سے انہوں نے نورو وائرس کی مختلف اقسام کو دریافت کیا جن میں سے کئی قسمیں انسانوں کے لیے بہت تیزی سے پھیلنے والی ہیں۔
نورو وائرس کہاں پائے جاتے ہیں؟
نورو وائرس پوری دنیا میں پایا جا سکتا ہے۔ اسے عالمی سطح کا چیلنج کہنا غلط نہ ہوگا۔
یہ وائرس اسہال کے تمام غیر بیکٹیریل کیسز میں سے تقریباً 50 فیصد کا سبب بنتا ہے۔ یہ وائرس اپنی انتہائی متعدی نوعیت کی وجہ سے مختلف برادریوں میں تیزی سے پھیل سکتا ہے۔
زیادہ خطرے کا شکار کون؟
۔ پانچ سال سے کم عمر کے بچے
۔ کمزور مدافعتی نظام والے افراد
۔ معمر افراد
اسی وجہ سے اس کی وبا کی لہریں اکثر بچوں کے ڈے کیئر سینٹرز اور بزرگوں کی رہائش گاہوں کو متاثر کرتی ہیں۔
وہ جگہیں جہاں لوگ طویل عرصے تک محدود رہتے ہیں، انفیکشن کے لیے زیادہ خطرناک ہیں، جیسے کہ بحری جہاز، کھیلوں کی بڑی تقریبات، اجتماعات اور کانفرنسیں۔

ماضی میں نورو وائرس کی وبائیں بڑے بڑے مقابلوں اور طویل تقریبات کو متاثر کر چکی ہیں، جس کے سبب مسافروں کی بڑی تعداد بیمار ہوئی اور کئی بار تو متاثرہ بحری جہازوں کو قرنطینہ پر مجبور بھی کر دیا گیا۔
حالیہ مثال
2024 میں ایک اطالوی گاؤں میں نورووائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے سبب سینکڑوں افراد کو ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ اس سے نورو وائرس کی شدت اور تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت ظاہر ہوتی ہے۔
نورو وائرس کہاں سے آتا ہے؟
نورو وائرس انسان کے اندر ہی ہوتا ہے۔ یہ معدے اور آنتوں میں پرورش پاتا ہے اور کسی محلول کے قطروں اور وائرس سے متاثرہ افراد کے ساتھ رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ کسی صحت مند شخص کو متاثر کرنے کے لیے اس وائرس کے انتہائی معمولی ذرات ہی کافی ہوتے ہیں، جو پاخانے یا قے کے ذریعے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔
صرف 10 سے 100 وائرس ذرات بیماریوں کا سبب بننے کے لیے کافی ہیں۔
اگر کوئی شخص ٹائلٹ استعمال کرنے کے بعد تھوڑے سے آلودہ ہاتھوں سے بھی دروازے کا ہینڈل چھوئے اور اس ہینڈل کو کوئی اور پکڑ لے اور بغیر ہاتھ دھوئے اسی ہاتھ سے کچھ کھا لے، تو صرف چھ سے پچاس گھنٹے کے اندر وہ شدید بیمار ہو سکتا ہے۔
کیا کھانا آپ کو متاثر کر سکتا ہے؟
نورو وائرس کسی مخصوص ماحول میں کافی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ فوڈ چین کے ذریعے دوبارہ انسانی معدے میں پہنچ جاتا ہے۔
پھل اور سبزیاں بھی وائرس سے متاثرہ ہو سکتی ہیں، خاص طور پر اگر کھاد کے طور پر انسانی فضلہ استعمال کیا گیا ہو یا اگر زرعی کارکن پھل چننے سے پہلے ہاتھ اچھی طرح نہ دھوئیں۔

شیل فش بھی ایک بڑا ذریعہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں کے پانیوں میں پائی جانے والی شیل فش جہاں گندا پانی دریاؤں، جھیلوں یا سمندر میں بہا دیا جاتا ہے۔
پینے کا پانی بھی خطرناک ہو سکتا ہے، اگر صاف پانی کے پائپ گندے پانی کے پائپوں کے قریب ہوں۔ آلودہ پانی صاف پانی کے پائپ میں داخل ہو سکتا ہے۔ یہی خطرہ اس وقت بھی ہوتا ہے، جب پینے کے پانی کا کوئی کنواں گندے پانی کے قریب ہو۔
ایک متاثرہ شخص دوسروں کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
سب سے زیادہ خطرہ اس وقت ہوتا ہے جب بیماری ظاہر ہوتی ہے (یعنی اسہال اور قے کے دوران)، لیکن علامات مکمل طور پر ختم ہونے کے بعد بھی دو دن تک یہ خطرہ برقرار رہتا ہے کہ نورو وائرس کے شکار مریض سے دوسرے افراد تک یہ وائرس منتقل ہو جائے۔ بیماریوں کی علامات دور ہونے کے بعد بھی وائرس دو ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے تک انسانی جسم سے خارج ہوتا رہتا ہے۔ اس دوران متاثرہ شخص کے قریب رہنے والے افراد کو سختی سے حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔
قے اور اسہال کے باعث مریض کے جسم سے بہت زیادہ پانی نکل جاتا ہے۔ ایسے مریض کو انفیوژن یا ڈرپ لگانا ضروری ہو سکتا ہے، خاص طور پر چھوٹے بچوں اور معمر افراد کو۔
نورو وائرس کے خلاف کوئی دوا موجود نہیں۔ مریض کو زیادہ سے زیادہ الگ تھلگ رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ دوسروں کو متاثر نہ کرے۔ طبی دیکھ بھال کرنے والوں کو بھی اضافی احتیاط برتنا چاہیے۔

اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھیں؟
نورو وائرس کے خلاف کوئی ویکسین موجود نہیں ہے۔ واحد مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں اور جراثیم کش مصنوعات استعمال کریں۔ کسی دروازے کے ہینڈل یا دیگر سطحوں پرآلودگی کے امکان کو کم سے کم رکھیں، مثلاﹰکسی کمپیوٹر کا کی بورڈ، ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول، ٹائلٹ وغیرہ۔
متاثرہ افراد کی دیکھ بھال کرنے والوں کو ربڑ کے دستانے، سرجیکل ماسک اور حفاظتی گاؤن پہننا چاہییں، کپڑوں کو گرم پانی سے دھونا بھی ضروری ہے۔
کھانے میں احتیاط
پھلوں کو چھیلیں اور صاف کریں سبزیوں کو اچھی طرح پکائیں اور ایک اور چیز جو فائدہ مند ہو سکتی ہے، وہ ہے لیموں کا رس۔ اس کا زیادہ استعمال کریں۔ اگرچہ اس کا حتمی سائنسی ثبوت ابھی نہیں ملا، تاہم کافی شواہد موجود ہیں کہ یہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔



