پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

فرانزک تحقیقات سے ثابت ہو گیا کہ ریڈیو پاکستان پشاور پر حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی اور سیاسی ہدایات کے تحت کیا گیا، تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری

فرانزک رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا، عرفان سلیم اور آئی ایس ایف کے عامر چمکنی کی براہِ راست شمولیت ثابت ہو چکی ہے

انصار ذاہد سیال-پاکستان.وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ فرانزک تحقیقات نے واضح طور پر ثابت کر دیا ہے کہ 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور پر ہونے والا حملہ کسی وقتی یا جذباتی ردعمل کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک منظم، منصوبہ بند اور سیاسی ہدایات کے تحت کی جانے والی کارروائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اندرونی انکوائری خود کو بری الذمہ ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، جبکہ آزاد اور مستند فرانزک شواہد نے ان کے تمام دعوؤں کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی جامع اور آزاد تحقیقات میں اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ پی ٹی آئی کے متعدد اہم رہنما ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے، آتش زنی اور سرکاری املاک کی تباہی میں براہِ راست ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ فرانزک رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا، عرفان سلیم اور آئی ایس ایف کے عامر چمکنی کی براہِ راست شمولیت ثابت ہو چکی ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ تحقیقات انسداد دہشت گردی عدالت کے احکامات کی روشنی میں کی گئیں، جس کے تحت پولیس کو ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں مکمل اور جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ فرانزک تجزیے کے دوران پشاور سے حاصل ہونے والی 16 ویڈیوز کا فریم بہ فریم معائنہ کیا گیا، جن میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ، چھیڑ چھاڑ یا رد و بدل کے شواہد نہیں ملے۔ اس سے ویڈیوز کی صداقت اور قابلِ اعتماد ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ان ویڈیوز میں موجود چہروں کو ملزمان کی سرکاری اور عوامی پروفائل تصاویر سے میچ کر کے شناخت کی گئی، جو کہ ناقابلِ تردید شواہد ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جائے گا۔ یہ واقعات ریاستِ پاکستان، قومی اداروں اور عوامی املاک پر براہِ راست حملہ تھے، اور ریاست کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں نااہلی جیسے اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کا طرزِ سیاست ابتدا ہی سے دنگا، فساد، توڑ پھوڑ اور انتشار پر مبنی رہا ہے۔ اقتدار میں رہتے ہوئے بھی اس جماعت کی کارکردگی صفر رہی اور عوام کو محض نمائشی نعروں اور غیر سنجیدہ اقدامات کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں کراچی میں وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے میڈیا پر پتھراؤ اور گاڑیوں کو نقصان پہنچانا اس جماعت کے انتشار پسند رویے کا کھلا ثبوت ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی دھمکیوں، انتشار اور سازشوں کے باوجود پاکستان مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہر آنے والا سال بہتری اور خوشخبریاں لے کر آ رہا ہے، ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، مہنگائی میں نمایاں کمی آ رہی ہے اور عوام کی زندگی کے مختلف شعبوں میں بہتری محسوس کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی استحکام، مضبوط انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں مسلم لیگ (ن) کا کردار نمایاں اور قابلِ فخر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ کیس اس وقت پشاور کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور فرانزک شواہد عدالت میں جمع کرا دیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور آزاد فرانزک شواہد نے ان کے بیانیے کی مکمل نفی کر دی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بانی پی ٹی آئی خود یہ دعویٰ کر چکے تھے کہ اگر توڑ پھوڑ فرانزک سے ثابت ہو گئی تو وہ معافی مانگیں گے، مگر واضح شواہد سامنے آنے کے باوجود آج تک کسی قسم کی شرمندگی یا معذرت سامنے نہیں آئی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایشیا میں معتبر سمجھی جانے والی فرانزک ایجنسی، جسے میاں شہباز شریف نے قائم کیا اور جسے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف جدید خطوط پر استوار کر رہی ہیں، نے ان عناصر کے ملوث ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور، لاہور اور دیگر شہروں میں ہونے والی توڑ پھوڑ کی فوٹیجز موجود ہیں، کور کمانڈر ہاؤس پر حملے کی تصاویر اور ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آ چکی ہیں، اور کئی افراد خود کیمروں کے سامنے اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے آگ لگائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ مراد سعید کی آڈیوز بھی موجود ہیں جن میں وہ براہِ راست ہدایات جاری کرتے سنائی دیتے ہیں، جبکہ جن افراد کو ابتدا میں ایجنسیوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی وہ بعد میں خود پی ٹی آئی کے کارکن نکلے، جن میں سے کئی تاحال جیل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات سیاسی انتقام نہیں بلکہ ان کے اپنے اقدامات اور ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر قائم کیے گئے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال اور خواجہ آصف کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے گئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے کبھی سیاسی انتقام کی سیاست نہیں کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کچھ رہنماؤں کو نہ تو قومی اداروں کو بدنام کرنے کے واقعات نظر آتے ہیں اور نہ ہی خیبر پختونخوا میں ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی ابتر حالت دکھائی دیتی ہے، جہاں 70 فیصد اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
اختتام پر وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ مثبت مقابلے، مذاکرات اور تعاون پر یقین رکھتی ہے اور عوام کی فلاح و بہبود، ملکی سلامتی اور مضبوط انفراسٹرکچر کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے، انتشار پھیلانے والے عناصر کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا اور عوام کے مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button