پاکستاناہم خبریں

ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اتحاد؟ ممکنہ ‘مسلم نیٹو’ پر عالمی توجہ

پاکستان پر کسی بھی بڑے حملے کو سعودی عرب کے مفادات کے خلاف تصور کیا جائے گا، اور اسی تناظر میں باہمی ردِعمل کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

بین الاقوامی دفاعی اور سفارتی حلقوں میں حالیہ رپورٹس نے خاصی توجہ حاصل کی ہے، جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب ایک مشترکہ اسلامی دفاعی بلاک کے قیام پر کام کر رہے ہیں۔ تجزیہ کار اس ممکنہ اتحاد کو علامتی طور پر “مسلم نیٹو” قرار دے رہے ہیں، جو اگر عملی شکل اختیار کرتا ہے تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ مجوزہ دفاعی فریم ورک پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود مضبوط دفاعی تعلقات پر استوار بتایا جا رہا ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں اور دفاعی تعاون کو بعض مبصرین اس سطح تک بیان کرتے رہے ہیں کہ پاکستان پر کسی بھی بڑے حملے کو سعودی عرب کے مفادات کے خلاف تصور کیا جائے گا، اور اسی تناظر میں باہمی ردِعمل کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

ترکی کی شمولیت: ایک واضح اسٹریٹجک قدم

حالیہ رپورٹس کے مطابق ترکی اس دفاعی فریم ورک میں شمولیت کے لیے مذاکرات کے آخری مراحل میں ہے۔ اگرچہ تینوں ممالک کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ اور تفصیلی اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی ذرائع اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت محض اتفاق نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتحال کا نتیجہ ہے۔

ترکی کی شمولیت کو اس اتحاد کے لیے ایک اسٹریٹجک بریک تھرو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ترکی حالیہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت، خصوصاً ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل سسٹمز اور جدید عسکری سازوسامان کے حوالے سے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ اس کے تجربے اور ٹیکنالوجی کو پاکستان کی جوہری صلاحیت اور سعودی عرب کی مالی و توانائی وسائل کے ساتھ جوڑنے سے ایک ایسا اتحاد وجود میں آ سکتا ہے جو دفاعی لحاظ سے خود کفیل اور اثر و رسوخ کا حامل ہو۔

تین مختلف طاقتیں، ایک ممکنہ اتحاد

تجزیہ کاروں کے مطابق اس مجوزہ بلاک کی طاقت اس کے متنوع مگر تکمیلی عناصر میں پنہاں ہے۔ پاکستان ایک تجربہ کار فوج، ایٹمی صلاحیت اور انسداد دہشت گردی میں دہائیوں کے عملی تجربے کے ساتھ کھڑا ہے۔ سعودی عرب خطے کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے، جس کے پاس تیل، سرمایہ اور اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت ہے۔ ترکی، دوسری جانب، ایک نیٹو رکن ہونے کے باوجود دفاعی خود مختاری کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے اور جدید عسکری ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تینوں عناصر کا امتزاج ایک ایسے دفاعی ڈھانچے کی بنیاد رکھ سکتا ہے جو نہ صرف مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو بلکہ مسلم دنیا میں دفاعی تعاون کی ایک نئی مثال بھی قائم کرے۔

عالمی تناظر: نیٹو کے چیلنجز اور نیا پیغام

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب نیٹو کو اندرونی اختلافات، وسائل کی تقسیم، اور بدلتی ہوئی عالمی ترجیحات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اسی پس منظر میں مسلم ممالک کے درمیان ایک خود مختار دفاعی اتحاد کا تصور زور پکڑ رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ اتحاد عملی صورت اختیار کرتا ہے تو یہ دنیا کو ایک واضح پیغام دے گا کہ مسلم ممالک اب صرف انفرادی یا دوطرفہ دفاعی انتظامات تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ اجتماعی سلامتی اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

خدشات اور سوالات

تاہم، کچھ حلقے اس ممکنہ بلاک کے حوالے سے سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔ ان میں یہ خدشہ شامل ہے کہ آیا یہ اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا یا خطے میں نئے جیوپولیٹیکل تناؤ کو جنم دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران، بھارت، اور مغربی طاقتوں کا ممکنہ ردِعمل بھی ایک اہم عنصر سمجھا جا رہا ہے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اتحاد کی کامیابی کا انحصار شفافیت، واضح مقاصد، اور علاقائی استحکام کے اصولوں پر ہوگا۔ اگر اسے محض دفاعی اور سلامتی کے دائرے تک محدود رکھا گیا تو یہ مسلم دنیا کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

نتیجہ: ابتدائی اشارے، بڑے مضمرات

فی الحال، ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ مشترکہ دفاعی بلاک کے بارے میں اطلاعات ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ تاہم، اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ پیش رفت نہ صرف مسلم دنیا میں دفاعی تعاون کی نئی جہت متعارف کرا سکتی ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک اہم اسٹریٹجک اشارہ ہو گی۔

آنے والے مہینوں میں سرکاری بیانات، دفاعی معاہدات اور سفارتی سرگرمیاں اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا “مسلم نیٹو” محض ایک تجزیاتی اصطلاح رہے گی یا حقیقت کا روپ دھار لے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button