پاکستاناہم خبریں

صدر آصف علی زرداری چار روزہ سرکاری دورے پر بحرین پہنچ گئے، اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں متوقع

ایوانِ صدر کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری بھی صدرِ مملکت کے ہمراہ تھیں، جو اس دورے کی سفارتی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،ایوان صدر آفس کے ساتھ

صدرِ مملکت آصف علی زرداری منگل کے روز چار روزہ سرکاری دورے پر بحرین کے دارالحکومت منامہ پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ یہ دورہ پاکستان اور بحرین کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایوانِ صدر کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان کے مطابق، صدر آصف علی زرداری کا بحرین پہنچنے پر بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر شیخ محمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور بحرینی وزیر خارجہ شیخ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے استقبال کیا۔ استقبال کی تقریب میں باہمی احترام اور دوستانہ تعلقات کی جھلک نمایاں تھی۔

ایوانِ صدر کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری بھی صدرِ مملکت کے ہمراہ تھیں، جو اس دورے کی سفارتی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

اہم ملاقاتیں اور مصروف سفارتی شیڈول

سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کے مطابق صدر زرداری اپنے دورے کے دوران بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

اس کے علاوہ صدرِ مملکت منامہ میں واقع بحرین اکنامک ڈویلپمنٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک استقبالیہ تقریب سے خطاب بھی کریں گے، جہاں وہ بحرینی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کریں گے۔

بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر سے ملاقات

بحرین پہنچنے کے فوراً بعد صدر آصف علی زرداری نے بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر شیخ محمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دفاعی تعاون، سلامتی کے امور اور باہمی دلچسپی کے دیگر موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

دفتر خارجہ کا مؤقف

دفتر خارجہ نے اس ہفتے کے آغاز میں جاری بیان میں کہا تھا کہ صدر کے دورے کا مقصد پاکستان اور بحرین کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو نئی جہت دینا ہے۔ بیان کے مطابق بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی توجہ دی جائے گی۔

دفتر خارجہ نے کہا،

خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری بھی صدرِ مملکت کے ہمراہ تھیں، جو اس دورے کی سفارتی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے
خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری بھی صدرِ مملکت کے ہمراہ تھیں، جو اس دورے کی سفارتی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے

"یہ دورہ پاکستان کے برادر خلیجی ملک کے ساتھ دیرینہ تعاون کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تجارت و سرمایہ کاری، دفاع و سلامتی، اور عوامی سطح پر روابط میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔”

پاکستان-بحرین تعلقات کا پس منظر

پاکستان اور بحرین کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں پر مبنی قریبی تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک مختلف بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے رہے ہیں اور دفاع، سلامتی، محنت کشوں کی فلاح اور اقتصادی تعاون میں شراکت داری کو فروغ دیتے آئے ہیں۔

گزشتہ سال نومبر میں وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران پاکستان کی جانب سے مملکت کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ اس موقع پر اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے، تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر خصوصی زور دیا گیا تھا۔

وزیراعظم نے اس وقت پاکستان-جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاہدے سے نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ خلیجی خطے کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی روابط بھی مضبوط ہوں گے۔

سلامتی اور داخلی تعاون

اس سے قبل ستمبر میں بحرین کے وزیر داخلہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، امیگریشن اور داخلی سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ ان معاہدوں کو حالیہ سفارتی روابط کی ایک اہم کڑی سمجھا جاتا ہے۔

اہمیت اور متوقع نتائج

سفارتی ماہرین کے مطابق صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور بحرین کے سیاسی و سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ اقتصادی شراکت داری، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال میں خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون بن چکے ہیں، اور صدر کا یہ دورہ اسی حکمت عملی کا تسلسل ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button