پاکستاناہم خبریں

قومی سلامتی اور بیانیے پر اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دشمن قوتیں نہ صرف عسکری بلکہ نظریاتی اور نفسیاتی محاذ پر بھی پاکستان کو نشانہ بنا رہی ہیں، جس کے لیے قومی سطح پر مربوط اور سچائی پر مبنی بیانیہ ناگزیر ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے قومی سلامتی اور ریاستی بیانیے کے معاملات پر اتحاد اور اتفاقِ رائے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ داخلی و خارجی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ صرف مشترکہ موقف اور قومی یکجہتی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق، ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ ریمارکس نیشنل پیغامِ امن کمیٹی (این پی اے سی) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران دیے، جس کی قیادت کمیٹی کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی کر رہے تھے۔ ملاقات راولپنڈی میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے دفتر میں منعقد ہوئی، جس میں قومی سلامتی، داخلی استحکام اور ریاستی بیانیے سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

داخلی سلامتی کے چیلنجز پر جامع گفتگو

ملاقات کے دوران لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فتنہ الخوارج، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور تحریک طالبان افغانستان کے تناظر میں پاکستان کو درپیش داخلی سلامتی کے چیلنجز پر کھلے اور جامع مکالمے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مشترکہ اور متفقہ مؤقف کو مزید مضبوط کیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دشمن قوتیں نہ صرف عسکری بلکہ نظریاتی اور نفسیاتی محاذ پر بھی پاکستان کو نشانہ بنا رہی ہیں، جس کے لیے قومی سطح پر مربوط اور سچائی پر مبنی بیانیہ ناگزیر ہے۔

کشمیر اور غزہ پر اصولی مؤقف کا اعادہ

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کشمیر اور غزہ کے حوالے سے پاکستان کے اصولی اور دوٹوک مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم اور محکوم اقوام کی حمایت پاکستان کی اخلاقی، انسانی اور سفارتی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ حق اور انصاف کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی مظلوموں کی آواز بنتا رہے گا۔

نفسیاتی جنگ کے خلاف بیانیے کی اہمیت

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی بیداری اور حقائق پر مبنی بیانیہ دشمن کی جانب سے کی جانے والی نفسیاتی جنگ کا سب سے مؤثر جواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ افواہوں، جھوٹے پروپیگنڈے اور ریاست مخالف بیانیے کا مقابلہ صرف سچ، شعور اور قومی اتحاد کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

ملاقات کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں فوج اور مذہبی و سماجی قیادت کے درمیان اعتماد سازی اور عملی تعاون میں مزید پیش رفت ہوگی۔

این پی اے سی کی مسلح افواج سے مکمل یکجہتی

اس موقع پر نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کے وفد نے پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا اور ریاست مخالف بیانیے اور دشمنانہ پروپیگنڈے کا بھرپور مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کمیٹی نے فتنہ الخوارج کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی اور واضح کیا کہ دہشت گردی کسی بھی صورت میں، کسی بھی نظریے یا جواز کے تحت قابلِ قبول نہیں ہے۔

مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم

این پی اے سی نے اعلان کیا کہ وہ مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی و سماجی پلیٹ فارمز کے ذریعے اسلامی اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور آئینی مساوات کے پیغام کو ملک بھر میں عام کرے گی۔ کمیٹی نے نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ واریت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر بھی اتفاق کیا۔

اس کے علاوہ، ریاستی بیانیے کو مؤثر انداز میں فروغ دینے کے لیے مساجد، مدارس اور یونیورسٹیوں میں آگاہی اور رہنمائی سیشنز کے انعقاد کو مزید وسعت دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

فوج کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا تسلسل

ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کے خلاف فوج کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیا تھا۔

یہ ریمارکس فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لاہور گیریژن کے دورے کے دوران افسران سے خطاب کرتے ہوئے دیے تھے، جہاں انہوں نے ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور عزم کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی استحکام کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر پرعزم ہیں اور قومی خدمت کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔

نتیجہ

مبصرین کے مطابق، ڈی جی آئی ایس پی آر اور نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات قومی سطح پر بیانیے کے استحکام، داخلی سلامتی اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو بدلتے ہوئے سیکیورٹی ماحول میں پاکستان کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button