مشرق وسطیٰاہم خبریں

ایران: احتجاج کے باوجود مذہبی حکمرانوں کی گرفت مضبوط کیوں؟

اس سے قبل انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 600 بتائی تھی۔

روئٹرز کے ساتھ

اسلامی جمہوریہ ایران میں ملک گیر احتجاج اور برسوں کی بیرونی دباؤ کے باوجود، تاحال مذہبی حکومت میں کسی ایسے ٹوٹ پھوٹ کے آثار نظر نہیں آتے جو دنیا کی سب سے مضبوط حکومتوں میں سے ایک کے خاتمے کا باعث بن سکیں۔

روئٹرز کے ایک سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ ایران کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ کے پاس ’’تمام آپشنز‘‘ موجود ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے دو سرکاری ذرائع اور دو تجزیہ کاروں نے روئٹرز کو بتایا کہ جب تک سڑکوں پر دکھائی دینے والی بے چینی اور بیرونی دباؤ حکمران طبقے کے خلاف اعلیٰ سطح پر انحراف پیدا نہیں کرتے، اس وقت تک، کمزور ہی صحیح، موجودہ نظام کے برقرار رہنے کے امکانات برقرار ہیں۔

ایک ایرانی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ تقریباً 2,000 افراد ان احتجاجات میں مارے جا چکے ہیں، اور ہلاکتوں کا الزام ان لوگوں پر عائد کیا جنہیں اس نے دہشت گرد قرار دیا، اور جو اس کے بقول عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی موت کے ذمہ دار ہیں۔

اس سے قبل انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 600 بتائی تھی۔

ایرانی نژاد امریکی ماہرِ تعلیم اور علاقائی تنازعات و امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر ولی نصر نے کہا کہ ایران کا پرت دار سکیورٹی ڈھانچہ، بیرونی دباؤ کو اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے بغیر انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ یہ سکیورٹی ڈھانچہ پاسداران انقلاب فورس اور نیم فوجی فورس بسیج پر قائم ہے اور جن کی مجموعی تعداد تقریباً دس لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا، ”اس طرح کی کسی تبدیلی کے کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عوام بہت زیادہ عرصے تک سڑکوں پر موجود رہیں، اور ریاست کا انتشار ہو۔ اور مزید یہ کہ اس کے لیے ریاست کے کچھ حصوں کو، خصوصاً سکیورٹی فورسز کو، منحرف ہونا پڑتا ہے۔‘‘

ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ایرانی مظاہرین کی حمایت میں سوئٹرزلینڈ میں مظاہرہ
امریکہ میں قائم حقوقِ انسانی کی تنظیم ایچ آراے این اے کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی حکومت کے کریک ڈاؤن میں 573 اموات کی تصدیق کی ہےتصویر: Michael Buholzer/KEYSTONE/picture alliance

بقا کا مطلب استحکام نہیں

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ ای، جن کی عمر 86 سال ہے، ماضی میں ملک میں پیدا ہونے والی بے چینی کی کئی لہروں سے گزر چکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ انسٹیٹیوٹ کے پال سیلم نے کہا کہ یہ 2009 کے بعد پانچویں بڑی عوامی بغاوت ہے، جو حکومت کے اندر گہری اور حل طلب داخلی بحران کے باوجود اس کے لچک اور یکجہتی کا ثبوت ہے۔

سابق امریکی سفارتکار اور ایران کے ماہر ایلن آئیئر کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال کو بدلنے کے لیے مظاہرین کو اتنی قوت پیدا کرنا ہو گی کہ وہ ریاست کی مستحکم برتریوں پر قابو پا سکیں۔ جن میں طاقتور ادارے، علماء کی حکمرانی کے وفاداروں کا ایک خاصا بڑا حلقہ، اور 9 کروڑ آبادی والے ملک کی جغرافیائی اور آبادیاتی وسعت شامل ہے۔

اسی دوران ملک میں بدامنی کے باعث سپلائرز ایرانی خریداروں کے ساتھ نئے معاہدوں پر دستخط کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بقا کا مطلب استحکام نہیں ہوتا۔ اسلامی جمہوریہ 1979 کے بعد اپنے سب سے سنگین چیلنجز میں سے ایک کا سامنا کر رہی ہے۔ پابندیوں نے معیشت کا گلا گھونٹ دیا ہے اور بحالی کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا۔ اسٹریٹیجک طور پر یہ اسرائیل اور امریکہ کے دباؤ میں ہے، اس کا جوہری پروگرام متاثر ہو چکا ہے، اور اس کا علاقائی ”محورِ مزاحمت‘‘، یعنی پراکسی مسلح گروہ، لبنان، شام اور غزہ میں اپنے اتحادیوں کے بھاری نقصانات کے باعث کمزور پڑ گئے ہیں۔

نصر نے کہا کہ اگرچہ انہیں نہیں لگتا کہ اسلامی جمہوریہ ”سقوط کے لمحے‘‘ تک پہنچ چکی ہے، لیکن یہ ”اب آگے بڑھنے میں شدید مشکلات کی حالت‘‘ میں ہے۔

احتجاج اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری

احتجاج 28 دسمبر کو مہنگائی کے بے قابو اضافے کے ردِ عمل میں شروع ہوئے تھے، جو بعد میں براہِ راست مذہبی حکمرانی کے خلاف ہو گئے۔ سیاسی طور پر، پرتشدد کریک ڈاؤن نے اسلامی جمہوریہ کی باقی ماندہ قانونی حیثیت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔

امریکہ میں قائم حقوقِ انسانی کی تنظیم ایچ آراے این اے کا کہنا ہے کہ اس نے 573 اموات کی تصدیق کی ہے، جن میں 503 مظاہرین اور 69 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ گروپ کے مطابق 10,000 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ایران نے سرکاری ہلاکتوں کا کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کیے، اور روئٹرز ان اعداد کی آزادانہ تصدیق کرنے سے قاصر رہا۔

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کو پھانسی کی دھمکیوں پر عمل کیا تو غیر متعینہ ‘انتہائی سخت کارروائی‘ کی جائے گی، جبکہ تہران نے امریکی انتباہ کو ‘فوجی مداخلت کا بہانہ‘ قرار دیا ہے۔

ٹرمپ، جنہوں نے پہلے ایران میں مظاہرین سے کہا تھا کہ ’مدد راستے میں ہے‘ نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اگر ایران نے مظاہرین کو پھانسی دینا شروع کی تو امریکہ کارروائی کرے گا۔

امریکی صدر نے کہا ’اگر وہ ایسا کریں گے تو ہم بہت سخت کارروائی کریں گے۔‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button