
خصوصی سکیورٹی فیچرز کے حامل نئے کرنسی نوٹ، ڈیزائن، تھیم اور لانچ سے متعلق اہم پیش رفت
سٹیٹ بینک پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن اور جدید سکیورٹی فیچرز پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد جعلی کرنسی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر قابو پانا اور ملکی کرنسی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔
مخدوم حسین-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان میں کرنسی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی کابینہ نے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کا جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کابینہ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ کمیٹی نئے بینک نوٹوں کے مجوزہ ڈیزائن، سکیورٹی فیچرز اور مجموعی تصور کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو پیش کرے گی، جس کے بعد رواں برس نئے کرنسی نوٹوں کی منظوری متوقع ہے۔
بدھ کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلیٰ حکام نے نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سٹیٹ بینک پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن اور جدید سکیورٹی فیچرز پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد جعلی کرنسی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر قابو پانا اور ملکی کرنسی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ نئے کرنسی نوٹ جدید عالمی سکیورٹی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے جا رہے ہیں، اور اس مقصد کے لیے معروف بین الاقوامی ماہرین اور ڈیزائنرز کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ یہ نئے نوٹ نہ صرف تکنیکی اعتبار سے مضبوط ہوں گے بلکہ ان میں پاکستان کی ثقافتی، جغرافیائی اور تاریخی شناخت کو بھی بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔
حکام نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں 100، 500، 1000 اور 5000 روپے مالیت کے نئے کرنسی نوٹ متعارف کروانے کی تجویز ہے۔ ان نوٹوں میں جدید اور بہتر سکیورٹی تھریڈ، واٹر مارکس، مائیکرو پرنٹنگ اور دیگر جدید فیچرز شامل ہوں گے، جو جعلی نوٹوں کی شناخت کو آسان اور جعلسازی کو مشکل بنائیں گے۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن میں پاکستان کی علاقائی اور جغرافیائی اہمیت کو نمایاں کیا جائے گا، جب کہ مختلف تاریخی یادگاروں اور قومی ورثے کی علامتوں کو بھی نوٹوں کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد کرنسی کو محض لین دین کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی شناخت اور ثقافتی ورثے کے اظہار کا ذریعہ بنانا ہے۔
مزید برآں، نئے ڈیزائنز میں خواتین کے قومی ترقی میں کردار، معاشرتی و مالیاتی تبدیلی اور سماجی شمولیت جیسے اہم موضوعات کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس سے کرنسی نوٹ ایک مثبت قومی پیغام کے حامل ہوں گے اور عوام میں معاشرتی شعور اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری کا عمل 2024 میں شروع کیا تھا، جس کے تحت ایک پیشہ ورانہ آرٹ اور ڈیزائن مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس مقابلے میں ملک بھر سے ماہر ڈیزائنرز اور فنکاروں نے اپنے تخلیقی آئیڈیاز پیش کیے، جن میں سے منتخب ڈیزائنز کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔
بعد ازاں 2024 ہی میں نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کا انتخاب مکمل کر لیا گیا تھا اور اس بات کا باضابطہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ گورنر سٹیٹ بینک نے حتمی ڈیزائنز کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم، ان ڈیزائنز کی وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری کا مرحلہ تاحال باقی تھا، جس کے لیے اب ذیلی کابینہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد اس سے قبل یہ بیان دے چکے ہیں کہ نئے کرنسی نوٹ 2025 میں جاری کر دیے جائیں گے، تاہم مختلف انتظامی اور منظوری کے مراحل کے باعث یہ عمل تاخیر کا شکار رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے نوٹوں پر تمام تکنیکی اور ڈیزائن کا کام مکمل ہو چکا ہے اور جیسے ہی وفاقی حکومت حتمی منظوری دے گی، نوٹوں کی پرنٹنگ کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن فائنل ہونے کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان تمام بینکوں کو ایک واضح ٹائم فریم جاری کرے گا، جس کے اندر موجودہ کرنسی نوٹوں کو مرحلہ وار نئے نوٹوں سے تبدیل کیا جائے گا۔ اس دوران پرانے اور نئے نوٹ کچھ عرصے تک ساتھ ساتھ زیرِ گردش رہنے کا امکان ہے تاکہ عوام کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ماہرین کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں کا اجرا پاکستان کے مالیاتی نظام میں ایک اہم اصلاح ثابت ہو سکتا ہے، جو نہ صرف جعلی کرنسی کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد دے گا بلکہ ملکی کرنسی پر عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کرے گا۔



