
اس پابندی سے متاثر ہونے والے ممالک میں براعظم ایشیا، افریقہ اور یورپ کے مختلف ممالک شامل ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے سے امریکی امیگرنٹ ویزا کی تمام اقسام بشمول خاندانی، ملازمت سے متعلق اور ڈائیورسٹی ویزا متاثر ہوں گی۔ تاہم اس فیصلے کا اطلاق وزیٹر ویزوں پر نہیں ہو گا۔
اس معطلی کے باعث ان ہزاروں پاکستانیوں کے سفری، تعلیمی اور ملازمت سے متعلق منصوبوں میں تاخیر ہو سکتی ہے جو ہر سال امریکی ویزا کے لیے درخواست دیتے ہیں۔
پاکستان نے جمعرات کے روز کہا کہ وہ امریکی حکام سے رابطے میں ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے وزارت کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا: “امریکہ اپنی ویزا پالیسیوں کا جائزہ لے رہا ہے، اور ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ہی پاکستان کے لیے ویزا سروسز بحال کر دے گا۔‘‘
ویزا کی یہ پابندی امریکہ کے پبلک چارج رول سے منسلک ہے، جس کے تحت یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا تارکینِ وطن کے سرکاری امدادی پروگراموں پر انحصار کرنے کا امکان ہے یا نہیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی ویزا سروسز کی معطلی ہوتی رہی ہے، تاہم حکام کے مطابق اس اقدام کا دائرہ کار بے مثال ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امیگرنٹ ویزا پروسیس کی یہ معطلی 21 جنوری سے نافذ ہو گی اور اس کا اطلاق پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، ایران، روس، افغانستان، نائجیریا، یمن، تھائی لینڈ اور برازیل سمیت 75 ممالک کے درخواست گزاروں پر ہو گا۔ فیصلے کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ان ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن اکثر سرکاری فلاحی پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں۔
محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک حکام اس بات کو یقینی نہ بنا لیں کہ نئے آنے والے تارکینِ وطن امریکی ٹیکس دہندگان کے وسائل پر بوجھ نہیں بنیں گے۔
عہدیداروں نے اس اقدام کو انتظامیہ کی ’’امریکہ فرسٹ‘‘ پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے۔
ایک عہدیدار نے کہا، ”ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ امریکی عوام کی سخاوت کا مزید غلط استعمال نہ ہو۔‘‘
محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹامی پِگٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا محکمہ ”اپنے حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان ممکنہ تارکینِ وطن کو نااہل قرار دے گا جو امریکہ پر عوامی بوجھ بن سکتے ہیں اور امریکی عوام کی سخاوت کا فائدہ اٹھائیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”ان 75 ممالک سے امیگریشن کو اس وقت تک روکا جائے گا جب تک محکمۂ خارجہ امیگریشن پراسیسنگ کے طریقۂ کار کا ازسرِنو جائزہ نہیں لے لیتا، تاکہ ان غیر ملکی شہریوں کے داخلے کو روکا جا سکے جو فلاحی اور عوامی فوائد حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔‘‘

کون سے ممالک اس پابندی کی زد میں آئے ہیں
بدھ کے روز جن ممالک کے لیے یہ پابندی اعلان کی گئی، وہ ہیں:
افغانستان، البانیا، الجزائر، اینٹیگوا اور باربوڈا، آرمینیا، آذربائیجان، بہاماس، بنگلہ دیش، بارباڈوس، بیلاروس، بیلیز، بھوٹان، بوسنیا، برازیل، برما، کمبوڈیا، کیمرون، کیپ وردے، کولمبیا، کانگو، کیوبا، ڈومینیکا، مصر، اریٹیریا، ایتھوپیا، فجی، گیمبیا، جارجیا، گھانا، گریناڈا، گوئٹے مالا، گنی، ہیٹی، ایران، عراق، آئیوری کوسٹ، جمیکا، اردن، قازقستان، کوسوو، کویت، کرغزستان، لاؤس، لبنان، لائبیریا، لیبیا، مقدونیہ، مالدووا، منگولیا، مونٹی نیگرو، مراکش، نیپال، نکاراگوا، نائجیریا، پاکستان، جمہوریہ کانگو، روس، روانڈا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈینز، سینیگال، سیرا لیون، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام، تنزانیہ، تھائی لینڈ، ٹوگو، تیونس، یوگنڈا، یوراگوئے، ازبکستان اور یمن۔
نئی ہدایت میں مزید سخت اور مخصوص شرائط شامل کی گئی ہیں۔ اس کے مطابق قونصلر حکام کو ویزا کے خواہش مند افراد کے بارے میں مختلف تفصیلات کو مدنظر رکھنا ہو گا، جن میں ان کی عمر، صحت، خاندانی حیثیت، مالی حالت، تعلیم، مہارتیں اور کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے کے باوجود ماضی میں سرکاری امداد کے استعمال کا ریکارڈ شامل ہے۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کی انگریزی زبان پر مہارت کا جائزہ لیا جائے اور اس مقصد کے لیے انگریزی میں انٹرویو بھی کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے امریکہ میں داخلے کے لیے اہل افراد کی تعداد مزید محدود ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریپبلکن انتظامیہ پہلے ہی امیگریشن کے قوانین کو سخت کر رہی ہے۔



