پاکستاناہم خبریں

وزیر اعظم شہباز شریف اور عالمی رہنماؤں نے "بورڈ آف پیس” کے چارٹر پر دستخط کیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے نیا عالمی پلیٹ فارم

ڈیووس، سوئٹزرلینڈ: وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور دیگر عالمی رہنماؤں نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں "بورڈ آف پیس” کے چارٹر پر دستخط کیے، جسے عالمی سطح پر بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک نیا اور مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تقریب کا انعقاد سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں کیا گیا، جس میں دنیا بھر کے اہم رہنماؤں اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

"بورڈ آف پیس” کا مقصد بین الاقوامی تنازعات کا حل
ابتداء میں فلسطین کے علاقے میں اسرائیل کی دو سالہ جنگ کے بعد غزہ میں امن کی نگرانی کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، لیکن اس بورڈ کا چارٹر بین الاقوامی سطح پر تنازعات کے حل میں وسیع تر کردار ادا کرنے کی بات کرتا ہے۔ ٹرمپ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں اس بورڈ کو عالمی امن کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ اس کے ذریعے دنیا بھر کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

پاکستان سمیت 19 ممالک کے رہنماؤں کی شمولیت
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت 19 ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام نے اس دستخطی تقریب میں شرکت کی۔ ان ممالک میں ارجنٹائن، آذربائیجان، بحرین، ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قازقستان، مراکش، اور دیگر شامل تھے۔ ٹرمپ کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھے رہنماؤں نے اپنے نام بانی کے چارٹر میں شامل کیے اور اس عالمی پلیٹ فارم کی حمایت کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور عالمی رہنماؤں نے "بورڈ آف پیس" کے چارٹر پر دستخط کیے

ٹرمپ کا بیان: "دنیا کے تمام مسائل کا حل ہمارے ہاتھ میں ہے”
ٹرمپ نے اس موقع پر کہا، "دنیا کے بیشتر ممالک اس بورڈ کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ یہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ ہم نے اس بورڈ کی بنیاد رکھی ہے تاکہ عالمی مسائل کو اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر حل کیا جا سکے۔”

امریکی صدر نے مزید کہا، "یہ کمرہ، جہاں پر آپ سب موجود ہیں، ایک منفرد موقع کی نمائندگی کرتا ہے۔ آپ میں سے ہر ایک یہاں اس لیے ہے کیونکہ آپ کے پاس دنیا کے لیے ایک مؤثر حل ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس بورڈ کا کردار بہت اہم ہے۔”

غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کا منصوبہ
اپنے خطاب میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے مسئلے پر خاص طور پر زور دیا اور کہا کہ "حماس کو غیر مسلح ہونا چاہیے، ورنہ یہ فلسطینی تحریک کا خاتمہ ہو جائے گا۔” ٹرمپ نے کہا، "غزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے ہمیں اسے غیر فوجی طور پر حکومتی طور پر منظم کرنا ہوگا، اور اس کا آغاز حماس کے ہتھیاروں کو ترک کرنے سے ہو گا۔”

غزہ کی دوبارہ تعمیر: "عظیم رئیل اسٹیٹ” کے طور پر غزہ کی تشہیر
ٹرمپ نے غزہ کو "عظیم رئیل اسٹیٹ” کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ امریکہ اس علاقے کی دوبارہ تعمیر میں سنجیدہ ہے۔ ان کے مطابق، یہ منصوبہ نہ صرف فلسطین بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔ امریکی صدر نے یقین دہانی کرائی کہ عالمی سطح پر غزہ کی جنگ بندی کے دوران بڑی سطح پر انسانی امداد بھی فراہم کی گئی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات سے نکالنے میں مدد ملی۔

"بورڈ آف پیس” کے نئے ممبران کی شرائط اور تنازعات
بورڈ آف پیس کے مستقل اراکین کو اس میں شامل ہونے کے لیے 1 بلین ڈالر کی فیس ادا کرنا ہوگی، جس کی وجہ سے بعض نقادوں نے اس کے "پے ٹو پلے” ورژن ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بعض ممالک نے اس فیس کو تنازعات پیدا کرنے کا ذریعہ قرار دیا، کیونکہ اس سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شبیہہ متاثر ہو سکتی ہے۔

کیا یہ بورڈ اقوام متحدہ کا متبادل بنے گا؟
ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور اس کا مقصد عالمی مسائل کے حل میں مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ امریکی صدر نے کہا، "ہم اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کرکے دنیا کے لیے ایک بہت منفرد ادارہ بنا سکتے ہیں۔”

فرانس، برطانیہ اور چین کی غیر حاضری
بورڈ آف پیس کے اس دستخطی اجلاس میں فرانس نے شمولیت سے انکار کیا، جب کہ برطانیہ نے کہا کہ وہ اس وقت بورڈ کا حصہ نہیں بن رہا۔ چین نے بھی ابھی تک اس بارے میں کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا بورڈ میں شامل ہونے کا اعلان
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس بورڈ میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے، تاہم وہ اس دستخطی تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات ہیں اور انہیں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے وارنٹ گرفتاری کا سامنا ہے۔

روسی صدر پوتن کی شرکت کی توقع
ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو بھی بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ پوتن نے اس بارے میں رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن روسی رہنما نے ابھی تک اس دعوت کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

مستقبل کی توقعات اور "بورڈ آف پیس” کا عالمی کردار
ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ جب "بورڈ آف پیس” مکمل طور پر فعال ہو جائے گا، تو اس کے ذریعے عالمی تنازعات کے حل میں اہم پیشرفت کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اس بورڈ کی تشکیل اور اس کے اقدامات عالمی سطح پر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گے۔

خلاصہ
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سمیت عالمی رہنماؤں نے "بورڈ آف پیس” کے چارٹر پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد بین الاقوامی تنازعات کا حل اور عالمی امن کا قیام ہے۔ ٹرمپ نے اس موقع پر غزہ کے مسئلے پر بات کی اور اس کے حل کے لیے اپنے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، بورڈ کے رکن ممالک کی شمولیت اور اس کے کردار پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button