
سید عاطف ندیم،جنرل ندیم شاہ کی تقریب سے
جاپان کے قومی دن اورجاپانی شہنشاہ نارو ہیٹو کی 66 ویں سالگرہ کی شاندار تقریب مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔جس کے مہمان خصوصی صدر مملکت آصف علی زرداری تھے۔یاد گار تقریب میں پاکستانی حکومت کے مشیر سرمایہ کاری بورڈاور پاکستان جاپان بزنس فورم کے وائس چیئرمین سید فیروزعالم شاہ ،جاپان کے اعزازی قونصل جنرل سید ندیم عالم شاہ ان کی اہلیہ خدیجہ ندیم سمیت مختلف ممالک کے معزز سفارت کار، سرکاری حکام ، بزنس مین، حکومتی وزیروں سمیت سیاستدانوں کی بڑی تعد اد نے شرکت کی ۔پاکستان میں تعینات جاپان کے سفیر اکاماٹسو شویچی اور ان کی اہلیہ نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔اس موقع پرپاکستانی حکومت کے مشیر سرمایہ کاری بورڈ سید فیروز عالم شاہ اورجاپان کے اعزازی قونصل جنرل سید ندیم عالم شاہ ان کی اہلیہ خدیجہ ندیم نے جاپانی سفیر اور ان کی اہلیہ کوجاپانی شہنشاہ نارو ہیٹو کی 66 ویں سالگرہ پر گلدستہ پیش کرکے مبارک باد دی اور جاپان کے انتخابات میں شاندار کامیابی پر وزیراعظم سانائے تاکائیچی کو خصوصی مبارکباد پیش کی۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے تقریب کے اختتام پر شہنشاہ جاپان کی سالگرہ کاکیک کاٹا ۔پاکستان میں تعینات جاپان کے سفیر اکاماٹسو شویچی نے اپنے خطاب میں پاکستان اور جاپان کے مابین گہرے اور دیرینہ تعلقات کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے آغاز سے جاپان پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کر رہا ہے،عالمی امن کیلئے ہم خیال ملکوں کا متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے، چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
یہ دلکش تقریب جاپان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی، احترام اور مشترکہ ترقی کے عزم کی علامت بن گئی۔شاندار تقریب نہ صرف ماضی کے مضبوط تعلقات کا جشن تھی بلکہ ایک روشن مستقبل کی اُمید بھی، جس میں دونوں ممالک تعلیم، ٹیکنالوجی اور معیشت میں مل کر نئی بلندیوں کو چھونے کیلئے کوشاں ہیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ جاپان نے روایات اور جدت کو ایک ساتھ اپنایا، جاپانی عوام کے نظم وضبط اور وقار کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، دہائیوں پر محیط سفارتی تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط ہو رہے ہیں۔ جاپان ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا، آفات میں مدد پر جاپان کی حکومت اور عوام کے مشکور ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں 80 سے زائد جاپانی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جاپانی کمپنیوں کی موجودگی پاکستان پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔




