مشرق وسطیٰتازہ ترین

افغانستان: زلزلہ زدہ علاقوں میں غذائی تحفظ کی یو این کوششیں

مشرقی افغانستان میں زلزلے سے متاثرہ آبادیوں میں خوراک کی پیداوار بحال کرنے، غذائیت میں بہتری لانے اور روزگار کو تحفظ دینے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں

ایجنسیاں
افغانستان میں زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقے پہلے ہی خشک سالی، موسمی سیلابوں اور معاشی مشکلات ست دوچار تھے۔

20 لاکھ یورو مالیت کا یہ منصوبہ ‘فرانسیسی اقدام برائے غذائی تحفظ و غذائیت (ففسین) کی معاونت سے چلایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد گھریلو سطح پر خوراک کی پیداوار کو مضبوط بنانا، متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذا تک رسائی میں بہتری لانا، بنیادی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا اور بالخصوص خواتین اور بچوں میں غذائی قلت کو کم کرنا ہے۔

Tweet URL

اس منصوبے سے صوبہ کنڑ اور ننگرہار میں 51 ہزار 870 افراد مستفید ہوں گے جہاں اگست 2025 کو آنے والے زلزلے کے بعد لوگوں کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ بہت سے گھرانے ایسی بستیوں میں زندگی کو ازسرنو تعمیر کر رہے ہیں جہاں حالیہ نقل مکانی اور ہمسایہ ممالک سے مہاجرین کی جبری واپسی کے باعث پہلے ہی زمین، خوراک اور بنیادی سہولیات پر دباؤ بڑھ چکا ہے۔

بالواسطہ تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار مزید افراد اس سے فائدہ اٹھائیں گے کیونکہ اس کے تحت اضلاع میں خوراک کی پیداوار، غذائیت اور بنیادی خدمات کو مضبوط بنایا جائے گا۔

منصوبے کی ترجیحات

فرانسیسی وزارت برائے یورپ و خارجہ امور میں ڈائریکٹر برائے عالمی امور سالینا کاتالانو نے کہا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے فرانس، ایف اے او اور یونیسف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اجتماعی طور پر افغان عوام خصوصاً غذائی قلت کے خطرے سے دوچار خواتین اور بچوں کے مسائل کا ٹھوس حل فراہم کیا جا سکتا ہے۔

اس اقدام کے تحت: 

  • مربوط، صنفی اعتبار سے حساس اور مقامی لوگوں کی مدد سے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
  • متاثرہ آبادی کی فوری ضروریات پوری کرنے کے ساتھ زلزلے کے طویل المدتی اثرات سے نمٹنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
  • خواتین، نوعمر لڑکیوں اور پانچ سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت میں کمی لائی جائے گی۔
  • روزگار کے ذرائع کا تحفظ کیا جائے اور مقامی غذائی نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔
  • خواتین کی سربراہی میں چلنے والے گھرانوں، حاملہ و دودھ پلانے والی ماؤں اور کم سن بچوں والے خاندانوں پر پر خاص توجہ دی جائے گی۔
  • زرعی ماحولیاتی طریقوں کو فروغ اور پیداواری وسائل کو تحفظ دیا جائے گا تاکہ لوگ مجبوری میں اپنے مویشی یا اہم وسائل اونے پونے نہ بیچیں۔

افغانستان میں ‘ایف اے او ‘کے نمائندے رچرڈ ٹرنچرڈ نے کہا ہے کہ جب زلزلہ آیا تو بہت سے خاندانوں نے اپنے گھر ہی نہیں بلکہ خوراک کا انتظام کرنے کے ذرائع بھی کھو دیے۔ دیہی برادریوں کے لیے بحالی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آیا وہ اپنے مویشیوں کو زندہ رکھ سکتے ہیں، دوبارہ کاشت کر سکتے ہیں اور موسم سرما گزار سکتے ہیں۔

فرانس کی یہ مالی معاونت افگان خاندانوں کو باعزت بحالی کا موقع فراہم کرے گی اور انہیں ناقابل تلافی نقصان کا باعث بننے والے فیصلوں سے بچائے گی۔

افغانستان کے صوبہ لغمان میں 21 اپریل 2025 کو ایک چرواہا پی پی آر ویکسینیشن کے بعد بکریوں کو نشان زد کرنے میں ایف اے او کے ویٹرنری ڈاکٹروں کی مدد کرتا ہے۔
© FAO/Hashim Azizi

یونیسف کے معاون اقدامات

افغانستان میں یونیسف کے نمائندے تاج الدین اویوالے نے کہا ہے کہ ملک میں غذائی قلت سے متاثرہ بچوں میں تقریباً 80 فیصد کی عمر دو سال سے کم ہے جو بقا اور صحت مند نشوونما کے لیے نہایت اہم عرصہ ہے۔

اس حوالے سے یونیسف مندرجہ ذیل اقدامات کرے گا:

  • نگہداشت کرنے والے افراد کو شیر خوار اور کم عمر بچوں کے لیے مناسب خوراک سے متعلق رہنمائی دی جائے گی۔
  • نوجوانوں کو ہنر کی تربیت دے کر مقامی سطح پر غذائیت سے بھرپور خوراک پیدا کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔
  • پانی، صفائی اور حفظان صحت کی خدمات کو فروغ دیا جائے گا تاکہ محفوظ انداز میں خوراک تیار کی جا سکے۔
  • جان لیوا کمزوری کا شکار بچوں کا بروقت علاج کیا کایئ گا تاکہ ان کی زندگیوں کو تحفظ دیا جا سکے۔

فرانس کی معاونت سے دونوں اقوام متحدہ کے دونوں ادارے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے نظام مضبوط کریں گے جو بچوں اور ماؤں کو غذائی قلت سے محفوظ رکھیں اور مستقبل کے بحرانوں کے سامنے مضبوطی پیدا کریں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button