بین الاقوامیتازہ ترین

جنگ کے میدانوں سے خلاء کی وسعتوں تک ریڈیو آج بھی کارآمد

ہر سال 13 فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ 80 برس قبل اسی روز اقوام متحدہ کے ریڈیو نے اپنی نشریات کا آغاز کیا تھا۔

حبیب کنوبانا یونیسف کے ساتھ

دنیا ٹیلی ویژن، کمپیوٹر اور موبائل فون کی روشن سکرینوں میں جتنی بھی کھو جائے، ریڈیو کی خاموش مگر مضبوط موجودگی برقرار ہے جس کی لہریں وہاں تک پہنچ جاتی ہیں جہاں نظر نہیں پہنچ سکتی۔ کہیں یہ جدید ٹیکنالوجی سے ہم قدم ہے اور کہیں ایسی جگہوں پر لوگوں کا واحد اور ناگزیر سہارا بن جاتا ہے جہاں دوسری ٹیکنالوجی ساتھ نہیں دے پاتی۔

ہر سال 13 فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ 80 برس قبل اسی روز اقوام متحدہ کے ریڈیو نے اپنی نشریات کا آغاز کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی اطلاعاتی ٹیموں نے دنیا کے کونے کونے سے ریڈیو کے بارے میں ایسی کہانیاں جمع کی ہیں جو ایک سادہ سی حقیقت بیان کرتی ہیں کہ جنگ، قدرتی آفات یا بہت بڑے ڈیجیٹل خلا سے متاثرہ ایسے علاقوں میں ریڈیو آج بھی خبر اور تسلی دینے کے ساتھ رابطے کا مستحکم اور قابل اعتماد ذریعہ ہے جہاں دوسرے آلات کے سگنل نہیں پہنچ پاتے۔

اقوام متحدہ ریڈیو سے یو این نیوز تک

80 سال پہلے جب دنیا دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے سنبھل رہی تھی، نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ایک سادہ سٹوڈیو سے اس کے ریڈیو کی نشریات شروع ہوئیں۔ اس ریڈیو پر پانچ زبانوں میں خبریں اور فیچر پروگرام نشر کیے جاتے تھے اور عموماً سلامتی کونسل کے اجلاسوں کی مکمل کارروائی سنی جا سکتی تھی۔

وقت کے ساتھ ایڈورڈ آر مرو، مارلن برانڈو، آڈرے ہیپبرن اور فرینک سناترا جیسی معروف شخصیات نے اس ریڈیو پر عالمی کہانیوں کو آواز دی جبکہ سامعین نے جان ایف کینیڈی، میخائل گورباچوف، نیلسن منڈیلا، فیدل کاسترو اور پوپ جان پال دوم جیسے رہنماؤں کی تاریخی تقاریر بھی سنیں۔

یہی روایت آج ‘یو این نیوز’ میں ڈھل گئی ہے جو 10 زبانوں میں خبریں دیتا ہے اور 170 سے زیادہ ممالک میں اس کے سامعین موجود ہیں۔ یہ پلیٹ فارم تازہ خبریں، انٹرویو، براہ راست کوریج اور دنیا کو درپیش اہم ترین مسائل پر جامع اطلاعات پیش کرتا اور ان کے حل کے لیے جاری کوششوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

نئی ٹیکنالوجی نے چاہے کتنی ہی تبدیلیاں کیوں نہ متعارف کرائی ہوں، ایک بنیادی اصول آج بھی برقرار ہے کہ ان لوگوں تک روایت اور جدت کو یکجا کر کے مستند اور قابل بھروسہ اطلاعات پہنچائی جائیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

media:entermedia_image:416e3972-4770-46cb-9ea6-f4cd12e7843f
© Unsplash/Will Francis

غزہ میں ریڈیو نشریات کی بحالی

مسلح تنازعات کا سامنا کرنے والے علاقوں میں اس مشن کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے پہلے 23 مقامی ریڈیو سٹیشن کام کر رہے تھے۔ حماس کے اسرائیل پر حملوں سے بعد شروع ہونے والی جنگ میں یہ تمام سٹیشن تباہ ہو گئے۔

اس کے باوجود زمان ایف ایم کے ڈائریکٹر رامی الشرافی اس تباہ شدہ علاقے میں ریڈیو کی نشریات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کی ایک نازک مگر پرعزم کاوش ہے۔

جب یو این نیوز عربی نے اس ریڈیو سٹیشن کا دورہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ زمان ایف ایم نے اپنی نشریات دوبارہ شروع کر دی ہیں اور اس وقت یہ غزہ کی پٹی میں ایف ایم فریکوئنسی پر نشر ہونے والا واحد ریڈیو سٹیشن ہے۔

غزہ میں بیماریوں کے پھیلاؤ، تعلیمی نظام کے انہدام اور عوامی خدمات کی معطلی کے باعث قابل اعتماد نشریات کی بے حد ضرورت ہے۔

قیام امن میں اہم کردار

جنگوں کا شکار دیگر خطوں میں بھی ریڈیو استحکام کی علامت ہے۔ 2002 میں جمہوریہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن مونوسکو کے تحت قائم ہونے والا ریڈیو اوکاپی ایک قابل اعتماد آواز بن چکا ہے۔

فرانسیسی اور چار قومی زبانوں میں نشریات پیش کرنے والا یہ سٹیشن تشدد اور نقل مکانی سے متاثرہ لوگوں کے لیے مستند معلومات فراہم کرتا ہے۔

ملک کے شورش زدہ مشرقی علاقے بوکاؤ میں ایک سامع نے بتایا کہ ریڈیو اوکاپی امن کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ یہ قابل اعتماد اور غیر جانبدارانہ اطلاعات نشر کرتا ہے۔ جب لوگ کسی خبر کی صداقت جاننا چاہتے ہیں تو وہ عام طور پر ریڈیو اوکاپی سے ہی رجوع کرتے ہیں۔

بہت سے لوگوں کے لیے یہ سٹیشن شہری شراکت اور جوابدہی کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ ایک شہری نے بتایا کہ یہ ریڈیو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جنگ کے متاثرین اپنا دکھ بیان کر سکیں تاکہ وہ حکام تک پہنچ سکے۔

ریڈیو اوکاپی کا اثر صرف اطلاعات تک محدود نہیں بلکہ یہ نفرت انگیز تقاریر کا مقابلہ کرتے ہوئے سماجی ہم آہنگی کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ لبمباشی میں ایک سامع نے کہا کہ ریڈیو اوکاپی نے نفرت پر اکسانے والے پیغامات کو روکنے یا ان میں کمی لانے میں مدد دی ہے۔ ملک کی مختلف برادریوں کے مابین مکالموں پر مبنی اس کے پرگرام قومی یکجہتی کے ذریعے امن کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

خواتین کے تحت چلنا والا یہ ریڈیو سٹیشن افغانستان کی خواتین اور لڑکیوں میں اپنے حقوق کے بارے میں آگہی پیدا کرنے میں مصروف عمل ہے۔
© UN Women/Sayed Habib Bidell

تحفظ زندگی کے لیے اطلاعات

یوگنڈا کے کیانگوالی مہاجر کیمپ میں مقیم بہاتی یوحانے کے لیے کانگو میں بڑھتے تشدد کے دوران ریڈیو اوکاپی واقعتاً زندگی کو تحفظ دینے کا ذریعہ ثابت ہوا۔ انہوں نے یو این نیوز سواہلی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ان کے علاقوں میں لوگوں کو ریڈیو سے سکیورٹی کے بارے میں معلومات نہ ملتیں تو شاید آج وہ زندہ نہ ہوتے۔

وسطی افریقی جمہوریہ میں بھی ریڈیو دور دراز اور غیر محفوظ علاقوں میں تنہائی کو کم کرنے کا ذریعہ ہے۔ ملک میں اقوام متحدہ کا مشن مینوسکا اپنے ریڈیو سٹیشن گویرا ایف ایم اور مقامی نشریاتی اداروں کی مدد کرتا ہے تاکہ مستند معلومات تک مستحکم رسائی حاصل ہو سکے۔

حالیہ عرصہ کے دوران مقامی لوگوں میں 500 سے زیادہ ریڈیو سیٹ تقسیم کیے گئے جن سے نہ صرف قابل اعتماد معلومات کی ترسیل بہتر ہوئی بلکہ ان افواہوں کا سدباب بھی ہوا جو سفر، تجارت اور پڑوسیوں کے باہمی تعلقات میں رکاوٹ بن سکتی تھیں۔

یہ کوششیں ایک پرانی روایت کو زندہ کرتی ہیں جو کئی دہائیاں پہلے شروع ہوئی تھی جب یو این نیوز سواہلی نے ریڈیو تنزانیہ (اب تنزانیہ براڈکاسٹنگ کارپوریشن) کے ساتھ مل کر 1970 سے 1990 کی دہائی تک ہفتہ وار پروگرام ‘موانگازا وا اوموجا وا ماتائیفا’ نشر کیا۔

ریڈیو کے سابق پروگرام کنٹرولر ایڈا سانگا کو یاد ہے کہ اس پروگرام نے بہت سے لوگوں میں امید اور امنگ پیدا کرنے میں مدد دی کیونکہ اس میں ترقی کی کہانیاں اور مسائل کے قابل عمل حل پیش کیے جاتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ سامعین بے تابی سے اس پروگرام کا انتظار کرتے تھے تاکہ انہیں امن، انسانی حقوق، ماحولیاتی مسائل اور پڑوسی ممالک میں جاری تنازعات کے بارے میں مستند معلومات مل سکیں۔

اقوام متحدہ کا تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارہ (یونیسکو) بھی نازک حالات سے دوچار علاقوں میں ریڈیو سٹیشنوں کا اہم شراکت دار ہے جو انہیں بحرانوں کے دوران فعال رکھنے اور تحفظ زندگی سے متعلق معلومات کی فراہمی جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ افغانستان میں یہ ادارہ 10 ریڈیو سٹیشنوں کی معاونت کر رہا ہے جو بنیادی خدمات کی فراہمی سے متعلق رہنمائی نشر کرتے ہیں اور تقریباً دو کروڑ افراد ان کے سامع ہیں جن میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد تقریباً 40 فیصد ہے۔

قدرتی آفات اور ریڈیو کے ہیرو

پرامن علاقوں میں موسمیاتی آفات کے دوران ریڈیو کی خاموش طاقت اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔ جب طوفان یا سیلاب ٹیلی فون لائنوں اور انٹرنیٹ رابطوں کو منقطع کر دیتے ہیں تو عموماً ریڈیو سگنل ہی بیرونی دنیا سے آخری قابل اعتماد رابطہ ثابت ہوتے ہیں۔

میکسیکو میں 1985 میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد جب روایتی مواصلاتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو گئے تو ریڈیو کے شوقیہ آپریٹروں نے ضروری روابط قائم کرنے میں مدد دی جنہیں قومی ہیرو قرار دیا گیا۔

آج میکسیکن فیڈریشن آف ریڈیو امیچورز اپنی اس صلاحیت کے باعث نیشنل ایمرجنسی نیٹ ورک کی قیادت کر رہی ہے جس کے ذریعے سمندری طوفانوں، سیلاب اور زلزلوں کے دوران نہایت اہم معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

2023 میں سمندری طوفان اوٹس کے دوران ریڈیو آپریٹروں نے انتہائی مشکل حالات میں فوری طور پر عارضی مواصلاتی نظام قائم کر لیا تھا۔ فیڈریشن کے صدر جیسس میگوئل سارمیانتو نے یو این نیوز ہسپانوی کو بتایا کہ انہوں نے تانبے کی تاروں کو اینٹینا میں تبدیل کیا، اپنا سامان اور بیٹریاں چالو کیں اور فوراً نشریات شروع کر دیں۔ اس طرح وہ متاثرہ علاقوں کی صورت حال، سیلاب کی شدت اور اس بارے میں اطلاعات دیتے رہے کہ کون سے علاقے قابل رسائی ہیں یا نہیں۔

media:entermedia_image:dc139d28-71d6-46c6-b831-00a95e2f8f7e
© FAO/Arete/Ismail Taqsta

شمولیت اور رسائی کا ذریعہ

ریڈیو رسائی اور سماجی شمولیت کو فروغ دینے میں بھی طاقتور کردار ادا کرتا ہے۔ 2014 میں انڈیا میں ریڈیو اڑان کا آغاز ہوا جو ملک کا پہلا آن لائن ریڈیو سٹیشن ہے جسے بصارت سے محروم میزبان اور عملہ چلاتا ہے۔

آج اس ریڈیو کی نشریات 120 ممالک میں ایک لاکھ 25 ہزار سامعین تک پہنچتی ہیں جو جسمانی معذور افراد کے حقوق، تعلیم، ٹیکنالوجی اور سماجی شمولیت جیسے موضوعات پر پروگرام نشر کرتا ہے۔ اس کے ذریعے فیشن شو، گائیکی کے مقابلے، تلاش رشتہ اور ٹیلنٹ کو سامنے لانے جیسے غیرروایتی پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

اس ریڈیو کے بانی دانش مہاجن نے یو این نیوز ہندی کو بتایا کہ بصارت سے محروم فرد کے طور پر ان کا ذاتی تجربہ پروگراموں کو سامعین کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتا ہے۔

انہوں نے یو این نیوز کے نشریاتی مواد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی جسمانی معذوری سے متعلق کوئی پروگرام، مذاکرہ یا خصوصی تقریب منعقد ہوتی ہے تو اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کیے گئے موضوعات، مکالمے اور حوصلہ افزا تقاریر ان لوگوں کے لیے بے حد فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔

دانش مہاجن مصنوعی ذہانت میں بھی نئے امکانات دیکھتے ہیں۔ ان کے بقول یہ ایک انقلابی ٹیکنالوجی ہے جو سمارٹ چشموں جیسے آلات کے ذریعے بصارت سے محروم افراد کو اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے میں مدد دے کر رسائی کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔

جذبات سے عاری مصنوعی ذہانت

مصنوعی ذہانت سمعی دنیا کو تیزی سے بدل رہی ہے۔ چین میں یہ تبدیلیاں خاص طور پر تیز رفتار ہیں جہاں پوڈکاسٹ کے سامعین کی تعداد 15 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

چین کی فودان یونیورسٹی کے پروفیسر سن شاؤ جنگ نے یو این نیوز چینی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سمعی مواد روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے خبری میزبان اور مصنوعی آوازیں تیزی سے عام ہو رہی ہیں، جو ایسے پیمانے پر درستگی، رفتار اور کثیر لسانی رسائی فراہم کرتی ہیں جو کبھی ناقابل تصور تھا۔

وہ اس حوالے سے ایک اہم نکتہ بھی اٹھاتے ہیں کہ انسانی آواز کی معمولی خامیاں، ٹھہراؤ، ہچکچاہٹ اور جذباتی رنگ ہی دراصل اسے روح عطا کرتے ہیں۔ جب آفات کے مناظر کا بیان، متاثرہ افراد، ان کے دکھ اور ضروریات کی بات ہو تو مصنوعی ذہانت ایسے جذباتی اور ہمدردانہ پہلو کھو دیتی ہے جو انسانی شفقت اور تعلق سے جڑے ہوتے ہیں۔

جی پی ایم کور آبزرویٹری سیٹلائٹ کا مشاہدہ جو زمین کے گرد گھومتا ہے، جو بادلوں اور نیلے سیارے کے پس منظر میں اپنے شمسی پینل اور آلات کی نمائش کرتا ہے۔
© NASA/Britt Griswold

خلا میں ریڈیو مواصلات

1957 میں پہلا مصنوعی سیارہ زمینی مدار میں چھوڑے جانے کے بعد ریڈیو کی لہریں خلائی مواصلات، زمینی ماحول کی نگرانی اور نیویگیشن میں بھی مدد دے رہی ہیں۔

بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو) میں شعبہ خلائی خدمات کے سربراہ الیگزنڈر والے نے یو این نیوز پرتگالی کو بتایا کہ حساس ٹیکنالوجی سے لیس سیٹلائٹ موسمیاتی تبدیلی کے تیز رفتار اثرات کی درست نگرانی کے لیے آئی ٹی یو کے محفوظ سپیکٹرم بینڈز پر انحصار کرتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امریکہ اور چین سمیت بڑی خلائی طاقتوں کی جانب سے چاند پر مستقل اڈے قائم کرنے کے منصوبے ریڈیو مواصلات کی ضرورت میں نمایاں اضافہ کریں گے۔ ان کے مطابق، یہ اضافہ چاند کے شیلڈڈ زون کے لیے خطرہ بن سکتا ہے جسے 1970 کی دہائی کے آئی ٹی یو معاہدے کے تحت اس لیے محفوظ رکھا گیا تھا کہ کائنات کے ابتدائی لمحات کے مطالعے کے لیے ضروری خاموشی برقرار رہے۔

انہوں نے کہا کہ 2027 کے آخر میں ریڈیو کے ضوابط سے متعلق کانفرنس میں پہلی مرتبہ چاند پر ریڈیو سپیکٹرم کے انتظام کے لیے باقاعدہ فریم ورک کے قیام پر بات چیت ہو گی۔ اس میں مواصلاتی روابط کی ضرورت اور سائنسی مقاصد کے لیے سپیکٹرم کے تحفظ کے درمیان مناسب توازن تلاش کرنا شامل ہو گا۔

جنگ زدہ خطے ہوں یا قدرتی آفات سے متاثرہ علاقے، رسائی اور شمولیت کی کوششیں ہوں، ڈیجیٹل جدت ہو یا خلا کی وسعتیں، ریڈیو اپنی خاموش مگر غیر معمولی طاقت کا مظاہرہ کرتا رہتا ہے۔

تصاویر اور تیز رفتار ٹیکنالوجی سے معمور دنیا میں بھی یہ ان دیکھی لہریں یاد دلاتی ہیں کہ ابلاغ کی سادہ ترین صورتوں میں ہی عموماً آگاہی دینے، تحفظ فراہم کرنے اور انسانوں کو جوڑنے کی سب سے زیادہ قوت ہوتی ہے۔

 

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button