
روئٹرز، اے ایف پی، اے پی
نیتن یاہو ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کو اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ قرار دیتے ہیں اور وہ طویل عرصے سے تہران میں حکومت کی تبدیلی کے حامی رہے ہیں۔

مذاکرات کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش
ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ڈھائی گھنٹے سے زائد بند کمرے میں بات چیت کی، جسے ٹرمپ نے ”بہت اچھی ملاقات‘‘ قرار دیا تاہم کہا کہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ماضی کے برعکس اس بار دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے بات چیت نہیں کی، جس سے ملاقات کا انداز نسبتاً محتاط دکھائی دیا۔ نیتن یاہو کے دفتر نے بیان میں کہا، ”وزیر اعظم نے مذاکرات کے تناظر میں ریاست اسرائیل کی سکیورٹی ضروریات پر زور دیا اور دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ اور ہم آہنگی جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔‘‘ روئٹرز کے مطابق نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات کو صرف جوہری پروگرام تک محدود نہ رکھے بلکہ اس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کے معاملات بھی شامل کیے جائیں۔
ایران کی شرائط
یہ ملاقات گزشتہ ہفتے عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والےبالواسطہ مذاکرات کے بعد ہوئی، جنہیں دونوں فریقین نے تعمیری قرار دیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر حدود طے کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس نے اپنے میزائل پروگرام پر مذاکرات کو ”ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ہے۔

منگل کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں ”نہ ایٹمی ہتھیار ہوں اور نہ میزائل‘‘ کی ضمانت شامل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ”ہم نے پچھلی بار ان کی جوہری صلاحیت کو نشانہ بنایا تھا اور دیکھنا ہوگا کہ اس بار مزید کچھ کرنا پڑے گا یا نہیں۔‘‘ امریکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے تاکہ ایران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے اور اگر صدر ٹرمپ فیصلہ کریں تو فوجی کارروائی کے لیے تیاری بھی مکمل ہو۔



