بین الاقوامیاہم خبریں

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے تناظر میں بھارت کا روس سے خام تیل خریدنے کا فیصلہ، توانائی کی سپلائی برقرار رکھنے کی حکمت عملی

ایران نے تہران پر حملوں کے بعد خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے

نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران پر حالیہ حملوں کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر بھارت نے روس سے خام تیل کی خریداری بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی حکومتی ذرائع نے نجی ٹی وی چینل NDTV کو بتایا ہے کہ حکومت توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے اور ملکی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے متبادل ذرائع سے تیل کی درآمد بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے باعث تیل کی عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ خاص طور پر ایران پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر بھارت نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روسی خام تیل کی خریداری بڑھانے پر غور شروع کر دیا ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی منڈی میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور توانائی کی سپلائی کے روٹس متاثر ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

بھارتی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت متعدد سفارتی اور تجارتی محاذوں پر مسلسل بات چیت کر رہی ہے تاکہ توانائی کی فراہمی کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔ ان کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں ملک میں خام تیل کی صورتحال قابو میں ہے اور فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی امکان نہیں۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش

ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت کے پاس اس بات کے لیے بھی متبادل منصوبے موجود ہیں کہ اگر ایران میں جاری جنگ کے باعث سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو جائے یا تہران کے زیر کنٹرول اہم بحری راستہ Strait of Hormuz بند ہو جائے تو بھی توانائی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

ایران نے تہران پر حملوں کے بعد خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس انتباہ کے بعد خطے میں بحری نقل و حمل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ٹینکروں پر حملے اور انشورنس بحران

رپورٹس کے مطابق عمان کے ساحل کے قریب کم از کم دو آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد کئی انشورنس کمپنیوں نے ہرمز کے راستے سفر کرنے والے جہازوں کے لیے انشورنس فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی بحری ٹریفک کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔

یہ آبی گزرگاہ دنیا کی سب سے اہم توانائی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اور قدرتی گیس کی تجارت کا نصف سے زیادہ حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

بھارت کی توانائی ضروریات

توانائی ماہرین کے مطابق بھارت کی بڑی مقدار میں تیل کی درآمدات اسی راستے سے ہوتی ہیں۔ اندازوں کے مطابق ہرمز کے ذریعے بھارت روزانہ 2.5 سے 2.7 ملین بیرل خام تیل درآمد کرتا ہے جو ملک کی یومیہ کھپت یعنی تقریباً چھ ملین بیرل کا تقریباً نصف بنتا ہے۔

روسی تیل کی خریداری میں اضافہ

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی حکومت اس امکان پر غور کر رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران توانائی کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے روس سے خام تیل کی خریداری میں مزید اضافہ کیا جائے۔

ایران پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو: روئٹرز
ایران پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو: روئٹرز

اس سے قبل بھی بھارت روسی خام تیل کا بڑا خریدار رہا ہے، خاص طور پر یوکرین جنگ کے بعد جب روس نے اپنی تیل کی برآمدات پر رعایتی قیمتیں دینا شروع کیں۔

امریکی پابندیوں کی صورتحال

ذرائع کے مطابق امریکہ نے بھارت کو روس سے تیل کی خریداری کے معاملے میں ایک محدود مدت کے لیے چھوٹ دے رکھی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ رعایت اگلے ماہ کے اوائل تک برقرار رہے گی، جس کے بعد نئی صورتحال سامنے آ سکتی ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں بھارت سمیت کئی بڑے درآمدی ممالک اپنی توانائی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں تاکہ عالمی منڈی میں ممکنہ بحران کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button