پاکستانتازہ ترین

وزیراعظم کا دورۂ سعودی عرب، خطے کی صورتِ حال پر پاکستان کے سفارتی رابطے تیز

پاکستان اس صورتحال پر گہری تشویش رکھتا ہے اور خلیجی ممالک پر حملوں کی بھی مذمت کرتا ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،دفتر خارجہ کے ساتھ

اسلام آباد: پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ وزیراعظم سعودی عرب کے ایک روزہ دورے پر جا رہے ہیں جہاں وہ سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران خطے کی مجموعی صورتِ حال اور باہمی تعلقات پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ بھی قریبی سفارتی رابطے برقرار رکھے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ وزیراعظم یہ دورہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی خلیجی ممالک کی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے جاری ہیں اور عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی رہنماؤں سے ان کی ٹیلی فونک گفتگو بھی ہو چکی ہے۔

ایران کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف

ترجمان نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب مذاکرات کے حوالے سے بات چیت جاری تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس صورتحال پر گہری تشویش رکھتا ہے اور خلیجی ممالک پر حملوں کی بھی مذمت کرتا ہے۔

طاہر حسین اندرابی کے مطابق پاکستان اس موجودہ صورتحال میں تین بنیادی نکات پر زور دے رہا ہے:

  1. تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے۔

  2. عالمی قوانین کی خلاف ورزی سے گریز کیا جائے۔

  3. تمام فریقین اپنے مسائل سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کو ایران کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔ ان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اب تک تین مرتبہ رابطہ ہو چکا ہے جبکہ وزیراعظم نے بھی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کر کے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

پاکستانی شہریوں کی واپسی

ترجمان نے بتایا کہ ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کی واپسی کا عمل جاری ہے۔ اب تک تقریباً چار ہزار پاکستانیوں کو ایران سے واپس لایا جا چکا ہے جبکہ اٹھارہ سو پاکستانی آذربائیجان اور دیگر راستوں کے ذریعے رکاوٹوں کو عبور کر کے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سے واپس آنے والے پاکستانیوں کی تعداد ایران سے آنے والوں کے مقابلے میں کم ہے۔

افغانستان سے متعلق خدشات

افغانستان کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کابل کی جانب سے اسلام آباد پر حملے جاری ہیں جبکہ پاکستان پہلے ہی دہشت گردی کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے بارے میں پالیسی پہلے سے واضح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان سے یہ ضمانت مانگی ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور وہاں سے ہونے والے حملوں کو روکا جائے۔

دیگر علاقائی معاملات

ترجمان نے ایران کے تیل بردار جہازوں سے متعلق معاملات کو ایران اور متعلقہ حکومتوں کا اندرونی معاملہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اس پر کوئی مخصوص مؤقف نہیں رکھتا۔

اسی طرح ایران اور بھارت کے درمیان معاملات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر براہ راست تبصرہ نہیں کر سکتا۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور رابطوں کو فروغ دینے کے لیے پل کا کردار ادا کر رہا ہے اور مختلف دارالحکومتوں کے درمیان سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فی الحال وزیراعظم کے ایران کے دورے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے، تاہم پاکستان کی قیادت خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ موجودہ صورتحال کو سفارتی ذرائع سے بہتر انداز میں سنبھالا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button