
سپرپاور امریکہ لیکن ایمپاور ایران۔۔!!………پیر مشتاق رضوی
امریکہ کواسرائیل ، کانگریس اور خلیجی ملک سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ ایران کو اپنی حکومت کے اندر والوں کو راضی کرنا پڑتا ہے
جر من چانسلر فریڈرک مرز کا کہنا ہے کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ امریکہ کی کیا حکمت عملی ہے تاہم ایرانی مذاکرات کار نہایت مہارت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں،۔ ایران کو جتنا سمجھا گیا تھا، اس سے زیادہ مضبوط ثابت ہوا۔جبکہ ٹرمپ نے عالمی معشیت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور امریکہ کی سپر پاور حیثیت کو داؤ پر لگا دیا ہیے دنیا جان چکی ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خواہش پر ایران کوجارحیت کا نشانہ بنایا ہےاسرائیلی مفادات ہی امریکہ ایران مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں ایران جوہری بم نہ بنائے یہ اسرائیل اور امریکہ کی ریڈ لائن ہے اسرائیل کو2015ء کے معاہدے پر بھی اعتراض تھا کہ 10/15 سال بعد ایران کو بم بنانے کی اجازت مل جائے گی ایران کے بیلسٹک میزائل اور حزب اللہ، حماس، حوثی کو سپورٹ اسرائیل کے لیے براہ راست خطرہ ہیں کوئی بھی ڈیل جو صرف جوہری پروگرام روکے مگر میزائل/پراکسی نہ روکے اسرائیل کو منظور نہیں۔امریکہ میں انتہا پسند عیسائی لابی اسرائیل کی حامی ہے۔ کانگریس میں دونوں پارٹیوں کے اکثر ارکان ایران ڈیل کی مخالفت کرتے ہیں تاکہ اسرائیلی حمایت نہ کھو دیں اسرائیل چاہتا ہے امریکہ پابندیاں ہٹانے کے بجائے اور سخت کرے ایران میں رجیم چینج کے ساتھ ساتھ امام خمینی کے اسلامی نظریاتی انقلاب کو مٹا کر ایران کی عسکری طاقت کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے جبکہ ڈیل سے ایرانی حکومت کو ازسر نو تقویت ملتی ہے۔جیسا کہ اپریل 2024ء اور جون 2025ء میں اسرائیل نے شام/ایران میں متعدد سرکردہ ایرانی جرنیلون کو شہید کیا۔ جون 2025ء میں ایران نے اسرائیل پر براہ راست میزائل داغے۔ اس کے بعد امریکہ ایران کے خفیہ مذاکرات 3 ماہ رک گئے تھے۔ مبصرین کے مطابق ایران امریکہ امن مذاکرات میں صرف اسرائیل ہی رکاوٹ نہیں بلکہ اور بھی عوامل کار فرما ہیں ریپبلکن عموماً کسی بھی ڈیل کے مخالف ہیں ٹرمپ نے 2018ء میں معاہدہ توڑا تھا اور اب 2025ء میں بھی سخت موقف ہے۔سعودی عرب، یو اے ای بھی ڈرتے ہیں کہ ڈیل کے بعد ایران مضبوط ہو کر یمن، عراق، لبنان میں ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ایران کے لئے امریکہ مکمل ناقابل اعتبار ہے کہ وہ معاہدہ کرے ٹرمپ پھر معاھدہ توڑ سکتا ہے جیسے 2018ء میں ہوا۔جبکہ امریکہ کو ڈر ہے ایران مشرق وسطی’ میں ناقابل تسخیر طاقت بن سکتا ہے اس لئےامریکہ اسرائیل کو مکمل نظرانداز کر کے ایران سے ڈیل کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آتا کیونکہ اگر امریکہ ایران سے ڈیل کرے تو اسرائیل کو یقین دلانا پڑے گا کہ ایران اس پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس کے لیے "علاقائی سیکیورٹی پیکیج” چاہیے۔ اصل مسئلہ "اعتماد کا فقدان” ہے۔ امریکہ کواسرائیل ، کانگریس اور خلیجی ملک سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ ایران کو اپنی حکومت کے اندر والوں کو راضی کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ڈیل ہوتی ہے تو بہت معمولی، عارضی اور "خاموش” ہوتی ہے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پس پردہ بات چیت چل رہی ہے، مگر کوئی بڑا معاہدہ اسرائیلی، ایرانی سخت گیروں اور امریکی الیکشن سیاست کی وجہ سے رکا ہوا ہے ایران جنگ کے خلاف امریکی فوج کا ٹرمپ پر شدید اندرونی دباؤ بھی ہےٹرمپ کے دونوں ادوار 2017-2020ء اور 2025-2026ء میں پینٹاگون کی امریکی فوجی قیادت ایران سے بڑی جنگ کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دباؤ "عوامی بیان” سے زیادہ "بند دروازوں” کے پیچھے تھا۔ فوجی قیادت کے شدید خدشات لاحق ہیں اور امریکی فوج کا ٹرمپ پر اعتراض ہے کہ عراق-افغانستان کے بعد جرنیل جانتے ہیں کہ ایران 80 ملین کا ملک ہے، پہاڑی علاقہ ہے ایران رجیم چینج آپریشن کے کے لئے 10 سال کا طویل عرصہ لگ سکتا ہے ، جس کے لئے 5 لاکھ فوجی 5 ٹریلین ڈالر سے زائد جنگی بجٹ درکار ہو گا جبکہ آبنائےہرمز ی بندش سے دنیا کا 20% تیل رک جاتاہے۔ امریکہ میں پیٹرول 10 ڈالر سے زائد فی گیلن سے ہو گا۔ عالمی کساد بازاری۔ امریکی سینٹ کمان کے ایک کمانڈر نی وائٹ ہاؤس کو "وار گیم” کی تفصیل بتائی تھی کہ جنگ کے پہلے ہفتے ہی عالمی معیشت کریش ہو گی ٹرمپ کاروباری ہے، اسے اس کا خوف بھی ہے جنگ کے دوران امریکی اڈوں پر حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے عراق، شام، بحرین، قطر، عرب امارات میں 40,000 امریکی فوجی ہیں۔ ایرانی میزائل 10 منٹ میں پہنچتے ہیں۔ 2020ء میں عین الاسد پر حملے میں 100سے زائد امریکی ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔ پینٹاگون نے ٹرمپ کو بتایا کہ "مکمل جنگ سے روزانہ تابوت امریکہ آئیں گے”۔ ٹرمپ کی یہ سیاسی موت ہے۔ ایران جنگ کے نتیجہ میں امریکہ کی چین-روس پر توجہ ہٹے گی جبکہ پینٹاگون کی اولین ترجیح چین ہے امریکہ روس ایران میں پھنسے تو بحیرہ جنوبی چین خالی چھوڑنا پڑے گا۔ جبکہ ٹرمپ چین کو بڑا خطرہ مانتا ہے۔
ٹرمپ چاہتا ہے کہ دو ہفتےتباہ کن بمباری کی جائے تاکہ ایران جھک جائے، وہ "فاتح” بنے۔ امریکی فوج کہتی ہے کہ”ایران عراق نہیں”وہاں نہ فضائی نہ زمینی جنگ جیتی جا سکتی ہے اسی لیے ٹرمپ نے اب تک ناکہ بندی ،پابندی اور خفیہ حملے اور سنگین نتائج کی دھمکی کا راستہ چنا ہے۔ یہ فوج کو قابل قبول ہے کیونکہ امریکی فوجیوں لاشیں امریکہ نہیں آئیں گی امریکی فوج ٹرمپ پر ایران جنگ کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ ٹرمپ خود بھی”کمزور” دکھائی نہیں دینا چاہتا، مگر "لوزر” بھی نہیں بننا چاہتا۔ فوج اسے روز بتاتی ہے کہ ایران جنگ = "لوز-لوز”۔ اسی لیے وہ جنگ بندی کراتا ہے، مذاکرات منسوخ کرتا ہے، دھمکی دیتا ہے، مگر حملہ نہیں کرتا ، مبصرین کے نزدیک اگلے چند دن بہت اہم ہیں۔ اگر ایران "متحد تجویز” نہ دے اور ٹرمپ حملے کا حکم دے، تو دیکھنا ہو گا پینٹاگون عمل کرتا ہے یا استعفے ہوتے ہیں۔ اگر امریکی فوج انکار کردے تو ٹرمپ کیا کرے گایہ "آئینی بحران” کی صورتحال ہو گی۔ امریکہ کی 250 سالہ تاریخ میں کبھی فعال فوج نے صدر کے جنگی حکم سے کھل کر انکار نہیں کیا۔ لیکن ٹرمپ کے مزاج اور ماضی کو دیکھ کر یہ ممکنات ہیں کہ کمانڈر ان چیف” والا راستہ اپنایا جائے کہ جرنیل بدلواور حکم منواؤ، چیئرمین جوائنٹ چیفس، سیکرٹری دفاع، سینٹ کمان کے کمانڈر کو فوراً ہٹا دیا جائے ٹرمپ نے اپنی پہلے دور اقتدار میں اب اپنے وفادارپینٹاگون میں لائے ہیں۔ یہ "ہاں” کہنے والے ہیں دراصل ٹرمپ بزنس مین ہے۔ اگر دیکھے کہ فوج نہیں مان رہی یا کانگریس ساتھ نہیں اورعوام مخالفت میں ہے تو "یو ٹرن ” لے کر دعوئ کرے گا کہ میں جنگ روکنا چاہتا تھا، کچھ جرنیلوں نے خفیہ سازش کی” ایران کے کسی خالی گوداموں پر میزائل مار کر کہے "مشن پورا ہوا”۔اور پھر ایران پر الزام لگا کر ٹرمپ کہے گا کہ "میں نے امن کی پیشکش کی، انہوں نے ٹھکرا دی۔ اب جو ہو گا اس کے ذمہ دار ایرای قیادت ہے۔ اگر امریکی فوج "انکار” نہیں کرتی، "تاخیر ، متبادل” دیتی ہے۔ اگر ٹرمپ "تہران پر قبضہ کرو” کہے تو فوج کہے گی "سر، اس کے لیے 5 لاکھ فوجی چاہئیں، دو سال لگیں گے”۔ ٹرمپ اور امریکہ لاشون سے ڈرتے ہیں جبکہ ایرانی شوق شہادت رکھتے ہیں اور موت سے نہیں ڈرتے ٹرمپ خود پیچھے ہٹ جائے گا۔ اس لیے اصل جنگ "واشنگٹن کے کمروں” میں ہو گی، ایران میں نہیں۔ ٹرمپ شو چاہتا ہے، فوج تابوت نہیں چاہتی بیچ کا راستہ ” ایٹمی اور ڈرون پر پابندی ،خوف ، دھمکی” ہے – اور یہی 2018ء سے چل رہا ہے۔ جبکہ ٹرمپ کو امریکی فوج نے "جنگ” سے روکا ہوا ہے، "دباؤ” سے نہیں روکا۔ وہ ناکہ بندی، پابندی، دھمکی جاری رکھے گا کیونکہ اس میں امریکی لاشیں نہیں آتیں۔ بہرحال ٹرمپ "چوہے بلی کا کھیل” جاری رکھے گا۔۔۔


