اداریہ

ایک نئی امید بندھ گئی…..ناصف اعوان

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کو یورپی ممالک کی طرز پر پبلک فرینڈلی بنائیں گی ۔

بلاشبہ حکومت پنجاب صوبہ کے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے لہذا اس حوالے سے وہ نت نئے پروگرام متعارف کروا رہی ہے ۔ لوگوں کے دیرینہ مسائل ومشکلات کا خاتمہ اس کی اولین ترجیح ہے ۔ اب جو یورپی ممالک کی طرز پر سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کو پبلک فرینڈلی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ اس میں زکوۃ فنڈز سے مستحق افراد کو ہر طرح کی دوائیں مفت فراہم کی جائیں گی ۔ انہیں راشن کارڈز بھی دئیے جائیں گے تاکہ انہیں خط غربت کے نیچے زندگی بسر کرنے کا احساس نہ ہو ۔
یتیم خانے بھی قائم کیے جا رہے ہیں اور گداگروں کا ڈیٹا بھی حاصل کیا جا رہا ہے ۔ سب سے اہم یہ کہ صنعتی زونوں پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ایسے لوگ جو بے روزگار ہیں انہیں روزگار فراہم کیا جا سکے ۔ یورپ میں ایسا ہی سماجی بہبود کا نظام ہے جس میں شہریوں کی تعلیم صحت اور روزگار سے متعلق سوچنا اور ان کے لئےانتظام کرنا حکومت کی زمہ داری ہوتی ہے لہذا پنجاب حکومت یہ زمہ داری قبول کر رہی ہے تو اس پر اسے شاباش دی جانی چاہیے کیونکہ جو کام گزشتہ حکومتیں نہیں کر سکیں انہیں موجودہ حکومت کرنے جا رہی ہے مگر اگر بجلی کے بلوں کے حوالے سے بھی کوئی قدم اٹھالیا جاتا ہے تو یقین کریں اسے ایک انقلاب کی دستک سمجھا جائے گا اس اقدام سے اس پر حزب اختلاف کو تنقید کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ سوشل میڈیا پر ان کی تقاریر کے کلپس بھی چلنا بند ہو جائیں گے جو عوام میں بے چینی پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں مگر عوام کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پنجاب حکومت اگر کچھ ٹیکس لگا رہی ہے تو ان کا استعمال بھی کر رہی ہے جس سے غریب عوام کو ریلیف مل رہا ہے ۔ لگتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ایسے مشیر میسر ہیں جو سوشل سائنس سے خوب آگاہی رکھتے ہیں لہذا عوام کی مشکلات جو حکمرانوں سے اوجھل تھیں ان پر توجہ مرکوز کرکے ختم کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے ۔کہا جا سکتا ہے کہ چند ماہ بعد عوام کی بہت سی شکایت کا ازالہ ہو جائے گا اور سیاست میں ایک واضح تبدیلی محسوس کی جا سکے گی مگر حکومت کو انتظامی اداروں پر گہری نگاہ رکھنا ہو گی کیونکہ وہ روایتی انداز کو خیر باد نہیں کہنا چاہتے ان میں عوام کی خدمت کا جذبہ کافی حد تک سرد پڑ چکا ہے پھر ان کی سہل پسندی اب پختہ ہو چکی ہے عوام کے مسائل کو وہ ایک بوجھ خیال کرتے ہیں لہذا جب تک اس پہلو کو یش نظر نہیں رکھا جاتا تمام کوششیں بے سود ثابت ہو سکتی ہیں ۔ پیرا فورس جس کا کام گراں فروشوں ناجائز تجاوزات اور ذخیرہ اندوزوں کو قانونی گرفت میں لانا تھا مگر وہ مبینہ طور سے دیہاڑیاں لگانے لگی ہے اور حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button