
ایران میں سوگ کی فضا: علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی کی شہادت کی تصدیق
دوسری جانب اسرائیل نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کی قومی سلامتی سے وابستہ ایک اہم شخصیت، علی لاریجانی، کو نشانہ بنایا ہے
عرب میڈیا
رپورٹس کے مطابق ایران کے اعلیٰ حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے سینئر سیاسی و سکیورٹی رہنما علی لاریجانی کے بیٹے، مرتضیٰ لاریجانی، حالیہ حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد ایران بھر میں گہرے دکھ اور سوگ کی فضا قائم ہو گئی ہے، جبکہ سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے تعزیت اور ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔
اس سے قبل علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک ہاتھ سے لکھا پیغام جاری کیا گیا تھا، جس میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے صبر، استقامت اور قربانی کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ پیغام میں قومی یکجہتی اور دشمن کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیل نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کی قومی سلامتی سے وابستہ ایک اہم شخصیت، علی لاریجانی، کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کی مکمل تصدیق یا تردید نہیں کی، اور صورتحال کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
علی لاریجانی 1958 میں عراق کے مقدس شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ وہ ایران کے ایک نہایت بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جس نے انقلابِ ایران کے بعد ملکی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ان کے بھائی صادق لاریجانی ایران کی عدلیہ کے سربراہ رہ چکے ہیں، جبکہ لاریجانی خاندان کو ایران کے طاقتور ترین حلقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
عسکری خدمات اور سیاسی سفر
ایران عراق جنگ کے دوران علی لاریجانی نے پاسداران انقلاب میں اہم کردار ادا کیا اور چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں۔ جنگ کے بعد انہوں نے سیاست کا رخ کیا اور جلد ہی اہم حکومتی عہدوں تک پہنچ گئے۔
1992 سے 2003 تک وہ وزیر ثقافت و اسلامی رہنمائی رہے، جبکہ 1993 سے 2004 تک ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے سربراہ بھی رہے۔ اس دوران انہوں نے میڈیا اور ثقافتی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالا۔
قومی سلامتی اور جوہری پروگرام میں کلیدی کردار
2005 میں علی لاریجانی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے ایران کے حساس جوہری پروگرام کی نگرانی کی۔ اسی حیثیت میں وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے مرکزی نمائندے رہے۔
بعد ازاں صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ اختلافات کے باعث انہوں نے استعفیٰ دے دیا، تاہم 2025 میں انہیں دوبارہ اسی عہدے پر تعینات کیا گیا۔
وہ 2008 سے 2020 تک ایران کی پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ) کے اسپیکر بھی رہے اور اس دوران انہوں نے 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے Joint Comprehensive Plan of Action میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
بین الاقوامی سفارتکاری اور اسٹریٹجک اہمیت
علی لاریجانی کو 2021 میں چین کے ساتھ 25 سالہ اسٹریٹجک معاہدے کے مذاکرات کی ذمہ داری بھی سونپی گئی، جو ایران کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔
وہ عالمی سطح پر ایک سخت گیر مگر تجربہ کار مذاکرات کار کے طور پر جانے جاتے تھے، جو ایران کے مفادات کے دفاع میں بھرپور انداز میں سامنے آتے تھے۔
حالیہ کشیدہ صورتحال اور قیادت کا کردار
حالیہ مہینوں میں ایران کو اندرونی احتجاج اور بیرونی دباؤ کا سامنا رہا، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث۔ اس نازک صورتحال میں علی لاریجانی نے سکیورٹی اور اسٹریٹجک معاملات کی عملی قیادت سنبھالی۔
اطلاعات کے مطابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے انہیں حساس ریاستی امور کی نگرانی اور ممکنہ حملوں کے مقابلے میں ایران کی بقا کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
سیاسی اہمیت اور ممکنہ اثرات
علی لاریجانی کو ایران کے سب سے بااثر سیاسی اور سکیورٹی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت داخلی سیاست، پارلیمانی قیادت اور بین الاقوامی سفارتکاری کے امتزاج کی عکاس تھی۔
ان کے بیٹے کی شہادت اور خود ان پر ممکنہ حملے کی خبریں نہ صرف ایران کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی مزید بڑھا سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان خبروں کی مکمل تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ واقعہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جائیں گے۔
نتیجہ
علی لاریجانی کی زندگی ایک ہمہ جہت قیادت کی مثال ہے، جس میں عسکری تجربہ، سیاسی بصیرت اور سفارتی مہارت شامل ہیں۔ موجودہ صورتحال نہ صرف ایک ذاتی سانحہ ہے بلکہ ایران کے سیاسی اور سکیورٹی ڈھانچے کے لیے بھی ایک اہم آزمائش بن چکی ہے۔
آنے والے دنوں میں اس معاملے کی مزید تفصیلات اور اس کے اثرات عالمی سیاست میں واضح ہونے کی توقع ہے۔



