کالمزسید عاطف ندیم

"ہر طوفان کے سامنے راستہ کھلتا ہے، ہرمز ہمیشہ بہتا ہے!”…..سید عاطف ندیم

یہی وہ مقام ہے جہاں "ہرمز ہمیشہ بہتا ہے" کی حقیقت سامنے آتی ہے۔ چاہے جتنے بھی سیاسی یا عسکری طوفان آئیں، عالمی ضرورت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ راستہ مکمل طور پر بند نہ ہو سکے۔

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جغرافیہ صرف زمین کے ٹکڑوں کا نام نہیں بلکہ طاقت، معیشت، سیاست اور تہذیب کا محور بھی ہے۔ انہی جغرافیائی حقائق میں ایک نہایت اہم مقام آبنائے ہرمز کا ہے، جو محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ تصور کی جاتی ہے۔ "ہر طوفان کے سامنے راستہ کھلتا ہے، ہرمز ہمیشہ بہتا ہے!”—یہ جملہ صرف ایک سلوگن نہیں بلکہ ایک گہرا فلسفہ اور حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی ان چند گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک جیسے سعودی عرب، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات اپنی توانائی کی ترسیل کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں "ہرمز ہمیشہ بہتا ہے” کی حقیقت سامنے آتی ہے۔ چاہے جتنے بھی سیاسی یا عسکری طوفان آئیں، عالمی ضرورت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ راستہ مکمل طور پر بند نہ ہو سکے۔
یہاں بہت سے طوفان آتے ہیں یہاں "طوفان” سے مراد صرف قدرتی آفات نہیں بلکہ سیاسی کشیدگی، جنگی خطرات، پابندیاں، بحری ناکہ بندیاں اور عالمی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی بھی ہے۔ تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا اس میں خلل ڈالنے کی دھمکیاں دی گئیں، مگر حقیقت یہی رہی کہ یہ راستہ کبھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے سب سے اہم پہلو عالمی طاقتوں کا توازن ہے۔ امریکہ، ایران، اور خلیجی ممالک سب اس خطے میں اپنے مفادات رکھتے ہیں۔ اگر کوئی ایک فریق اس گزرگاہ کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو دیگر طاقتیں فوری طور پر ردعمل دیتی ہیں کیونکہ یہ مسئلہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں یہ جملہ اپنی معنویت ظاہر کرتا ہے”ہر طوفان کے سامنے راستہ کھلتا ہے”یعنی جب عالمی مفادات خطرے میں ہوں تو طاقتیں متحرک ہو جاتی ہیں اور راستے کھول دیے جاتے ہیں۔
دنیا کی معیشت تیل اور توانائی پر چلتی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی، عالمی تجارت رک جائے گی اور اقتصادی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے عالمی طاقتیں کبھی بھی اس راستے کو مکمل بند نہیں ہونے دیتیں۔
یہاں "ہرمز ہمیشہ بہتا ہے” ایک معاشی اصول بن جاتا ہےکہ توانائی کی ترسیل کا سلسلہ کسی بھی صورت میں جاری رہتا ہے۔
ماضی میں ایران-عراق جنگ، خلیجی جنگیں اور حالیہ کشیدگیاں اس بات کی مثال ہیں کہ اگرچہ حالات سنگین ہوئے، مگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔ کبھی جہازوں پر حملے ہوئے، کبھی خطرات بڑھے، مگر راستہ بہرحال کھلا رہا۔
یہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی نظام مکمل بندش کو برداشت نہیں کرتا،طاقتیں فوری مداخلت کرتی ہیں،اقتصادی دباؤ راستہ کھولنے پر مجبور کرتا ہے.
یہ جملہ صرف جغرافیہ یا سیاست تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
"ہر طوفان کے سامنے راستہ کھلتا ہے”
یہ امید، حوصلہ اور استقامت کا پیغام ہے۔
زندگی میں مشکلات آتی ہیں، مگر راستے بند نہیں ہوتے۔
"ہرمز ہمیشہ بہتا ہے”
یہ تسلسل، بقا اور حرکت کی علامت ہے۔یعنی رکنا موت ہے، بہنا زندگی ہے۔
آج کے دور میں ٹیکنالوجی نے بھی اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اگر ایک راستہ متاثر ہو تو متبادل راستے تلاش کیے جائیں۔ پائپ لائنز، متبادل بندرگاہیں اور دیگر ذرائع اس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا کسی ایک گزرگاہ پر مکمل انحصار نہیں رکھنا چاہتی۔
مگر اس کے باوجود آبنائے ہرمز کی اہمیت کم نہیں ہوئی، کیونکہ یہ سب سے مختصر اور مؤثر راستہ ہے۔
اگرچہ عسکری طاقت اہم ہے، مگر اصل حل ہمیشہ سفارت کاری میں ہوتا ہے۔ مذاکرات، معاہدے اور عالمی قوانین اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کشیدگی کم ہو اور راستے کھلے رہیں۔یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر ہمیشہ یہ کوشش کی جاتی ہے کہ حالات بگڑنے نہ پائیں، اور اگر بگڑ بھی جائیں تو جلد سنبھال لیے جائیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button