تہران نے امن مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجویز پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دی، سرکاری میڈیا
پاکستان ابھی تک ایرانی امریکی امن مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے
ایرانی ایجنسیاں
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تہران نے امن مذاکرات کی خاطر اپنی ایک نئی تجویز اس تنازعے میں ثالثی کرنے والے اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دی ہے۔ یہ بات ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعہ یکم مئی کے روز بتائی۔
ایرانی دارالحکومت تہران سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا نے بتایا، ’’اسلامی جمہوریہ ایران نے امن مذاکرات سے متعلق اپنی تازہ ترین تجویز تحریری طور پر دونوں ممالک کے مابین ثالثی کرنے والے ملک پاکستان کے ذریعے جمعرات 30 اپریل کی شام امریکہ تک پہنچا دی۔‘‘

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ 28 فروری کو ایران پر فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی، جس میں پہلے ایک محدود فائر بندی طے پائی تھی اور اب اس سیزفائر کی توسیع شدہ مدت پر عمل درآمد جاری ہے۔
عباس عراقچی کی پانچ ممالک کے وزرائے خارجہ سے فون پر گفتگو
ایران جنگ میں فائر بندی کے نفاذ کے بعد پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں دونوں ممالک کے اعلیٰ مذاکراتی نمائندوں کے مابین تاریخی نوعیت کے پہلے براہ راست مذاکرات 11 اپریل کو ہوئے تھے، جن میں فریقین کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔
اس کے بعد سے پاکستان ایرانی امریکی امن مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے مسلسل کوشاں تو ہے، تاہم ابھی تک یہ دوسرا دور ممکن نہیں ہو سکا۔ ایران جنگ میں فائر بندی سے پہلے یہ بہت ہلاکت خیز سہ فریقی تنازعہ تقریباﹰ 40 روز تک جاری رہا تھا۔

اس وقت دونوں فریقوں کے درمیان امن بات چیت معطل ہے اور ایران نے کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جبکہ امریکہ نے بھی آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
اسی دوران ایرانی وزرات خارجہ کی طرف سے جمعے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، قطر، ترکی، عراق اور آذربائیجان کے اپنے ہم منصب وزراء کے ساتھ ٹیلی فون پر علیحدہ علیحدہ بات چیت کرتے ہوئے انہیں آگاہ کیا کہ تہران کی طرف سے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کون سے نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔



