
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی ہے، جسے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہے اور اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بامقصد مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے۔
وزیراعظم نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نہ صرف اس جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے بلکہ ایک غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن، معیشت اور توانائی کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس پیشرفت پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے بیان کو اپنے پلیٹ فارم “ٹرتھ سوشل” پر شیئر کیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پسِ پردہ مثبت اور تعمیری بات چیت جاری ہے، جس کے باعث ایران کے اہم انفراسٹرکچر، خصوصاً بجلی گھروں پر ممکنہ بڑے حملوں کو عارضی طور پر پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
تاہم ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔ ایرانی حکام نے بعض میڈیا رپورٹس کو “نفسیاتی جنگ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی اس معاملے پر محتاط مگر مثبت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کا حامی رہا ہے اور اگر متعلقہ فریقین چاہیں تو اسلام آباد ایسے کسی بھی مذاکراتی عمل کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کو امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ براہِ راست بات چیت کے لیے ایک غیر جانبدار مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک امریکی وفد جلد پاکستان کا دورہ کر سکتا ہے، جہاں ایرانی حکام کے ساتھ ممکنہ ملاقاتیں متوقع ہیں، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ادھر برطانوی میڈیا کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی گفتگو کی۔ ان رابطوں میں خطے کی موجودہ صورتحال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سفارتی حل کی فوری ضرورت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ تنازع نہ صرف سکیورٹی بلکہ توانائی اور پانی کے تحفظ جیسے اہم معاملات کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے، خصوصاً خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس بحران کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کی جوہری تنصیبات اور عسکری قیادت کو نشانہ بنایا۔ اس کے ردعمل میں ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، کویت اور بحرین سمیت کئی خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ مذاکرات ممکن ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے میں جنگ بندی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی مزید مستحکم بنا سکتے ہیں۔



