کھیلتازہ ترین

ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کے لیے ایران کی 10 شرائط، امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کو باضابطہ آگاہ کر دیا گیا

“ہم فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ضرور شرکت کریں گے، لیکن میزبان ممالک کو ہمارے خدشات اور مطالبات کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔”

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے قبل ایران نے اپنی شرکت کو بعض اہم شرائط سے مشروط کرتے ہوئے میزبان ممالک امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کو باضابطہ طور پر اپنے تحفظات اور مطالبات سے آگاہ کر دیا ہے۔ ایرانی فٹ بال فیڈریشن نے واضح کیا ہے کہ قومی ٹیم ٹورنامنٹ میں ضرور حصہ لے گی، تاہم ایرانی وفد، قومی شناخت اور ثقافتی اقدار کے احترام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے اس مؤقف نے عالمی فٹ بال حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ، ایران اور امریکہ کے درمیان شدید سیاسی کشیدگی، اور عالمی سفارتی تنازعات کھیلوں کے میدان تک پہنچ چکے ہیں۔

ایران کی شرکت پر سوالات کیوں اٹھے؟

فیفا ورلڈ کپ 2026، جو 11 جون سے 19 جولائی تک امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں منعقد ہو گا، تاریخ کا سب سے بڑا فٹ بال ایونٹ تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ایران کی شرکت کے حوالے سے اس وقت غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی جب فروری 2026 میں تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں جنگ بھڑک اٹھی۔

اس جنگ کے بعد ایران اور مغربی ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے، جبکہ ایرانی شہریوں اور سرکاری شخصیات پر سفری پابندیوں کے امکانات بھی زیرِ بحث آنے لگے۔

صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب گزشتہ ماہ کینیڈا نے ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج کو فیفا کانفرنس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ اس واقعے نے تہران میں شدید ردعمل پیدا کیا اور ایرانی حکام نے اسے “کھیلوں کو سیاست سے جوڑنے کی مثال” قرار دیا۔

“ہم شرکت کریں گے، مگر اپنی شناخت پر سمجھوتہ نہیں”

ایرانی فٹ بال فیڈریشن نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا:

“ہم فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ضرور شرکت کریں گے، لیکن میزبان ممالک کو ہمارے خدشات اور مطالبات کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔”

بیان میں مزید کہا گیا:

“ایران اپنی قومی، مذہبی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ ورلڈ کپ میں شریک ہو گا اور اپنے عقائد، نظریات اور اقدار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔”

ایرانی حکام کے مطابق قومی ٹیم صرف اس صورت میں مکمل اطمینان کے ساتھ ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی جب میزبان ممالک ایرانی وفد کے تحفظ، عزت اور آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت فراہم کریں گے۔

ایران کی 10 شرائط کیا ہیں؟

ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ تہران نے میزبان ممالک کے سامنے دس اہم شرائط رکھی ہیں۔

اگرچہ تمام شرائط کی مکمل تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق اہم مطالبات میں شامل ہیں:

  • ایرانی کھلاڑیوں، کوچز اور وفد کو بروقت ویزوں کا اجراء
  • قومی پرچم اور قومی ترانے کا مکمل احترام
  • سیاسی مظاہروں یا اشتعال انگیز کارروائیوں سے تحفظ
  • ہوائی اڈوں پر خصوصی سکیورٹی انتظامات
  • ٹیم ہوٹلوں کی سخت نگرانی اور حفاظت
  • اسٹیڈیم تک محفوظ نقل و حرکت
  • ایرانی شائقین کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہونا
  • مذہبی اور ثقافتی آزادی کی ضمانت
  • میڈیا میں ایران مخالف سیاسی مہمات سے گریز
  • ٹیم کے ساتھ فیفا قوانین کے مطابق غیرجانبدارانہ رویہ

مہدی تاج نے کہا:

“ہم چاہتے ہیں کہ ایرانی ٹیم کو ایک اسپورٹس ٹیم کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ سیاسی تنازع کے فریق کے طور پر۔”

امریکہ کا ردعمل

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خدشات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایرانی فٹ بال ٹیم اور کھلاڑیوں کا خیر مقدم کرے گا۔

انہوں نے کہا:

“فٹ بال دنیا کو جوڑنے والا کھیل ہے اور امریکہ تمام شریک ٹیموں کو خوش آمدید کہتا ہے۔”

تاہم روبیو نے یہ بھی واضح کیا کہ ایرانی وفد کے ان افراد پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں جن کا تعلق پاسدارانِ انقلاب یا ایران کے سکیورٹی اداروں سے ہو۔

یہ بیان اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ اگرچہ امریکہ کھیلوں کو جاری رکھنا چاہتا ہے، لیکن سیاسی اور سکیورٹی معاملات اب بھی واشنگٹن کی پالیسی کا اہم حصہ ہیں۔

فیفا کا مؤقف

فیفا کے صدر Gianni Infantino نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ورلڈ کپ کے تمام میچز طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے اور کسی ٹیم کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا:

“فیفا کا بنیادی مقصد کھیل کو سیاست سے دور رکھنا اور تمام ٹیموں کے لیے مساوی ماحول فراہم کرنا ہے۔”

فیفا حکام کے مطابق ایران کے میچز امریکہ میں شیڈول کے مطابق ہی کھیلے جائیں گے اور سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

ایران کا گروپ اور ممکنہ چیلنجز

ایرانی قومی ٹیم کو گروپ جی میں رکھا گیا ہے جہاں اسے:

  • New Zealand
  • Belgium
  • Egypt

کے خلاف میچز کھیلنے ہوں گے۔

ایرانی ٹیم دورانِ ورلڈ کپ ریاست ایریزونا کے شہر توسان میں قیام کرے گی۔ امریکی حکام کے مطابق وہاں ٹیم کی حفاظت کے لیے اضافی سکیورٹی تعینات کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق ایران کے میچز کے دوران سیاسی مظاہروں، انسانی حقوق کے نعروں اور ایران مخالف احتجاج کا امکان موجود ہے، جس کے باعث سکیورٹی ادارے خصوصی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔

کھیل اور سیاست ایک بار پھر آمنے سامنے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا معاملہ اس حقیقت کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے کہ عالمی کھیلوں کے بڑے ایونٹس مکمل طور پر سیاست سے الگ نہیں رہ سکتے۔

ماضی میں بھی:

  • روس۔یوکرین جنگ
  • قطر ورلڈ کپ کے انسانی حقوق تنازعات
  • اسرائیل۔فلسطین کشیدگی
  • اولمپکس میں سفارتی بائیکاٹس

جیسے معاملات کھیلوں کی دنیا کو متاثر کرتے رہے ہیں۔

اب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے فٹ بال کے سب سے بڑے عالمی ٹورنامنٹ کو بھی سیاسی مباحثے کا حصہ بنا دیا ہے۔

ایرانی عوام کی امیدیں

سیاسی تنازعات کے باوجود ایرانی عوام اپنی قومی ٹیم سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایرانی شائقین نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیم کو سیاسی تنازعات سے دور رکھتے ہوئے مکمل سپورٹ فراہم کی جائے۔

بہت سے ایرانی صارفین کا کہنا ہے کہ فٹ بال قومی اتحاد اور عوامی جذبات کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے کھیل کو سفارتی کشمکش کا میدان نہیں بننا چاہیے۔

عالمی نظریں ورلڈ کپ پر مرکوز

دنیا بھر کے مبصرین اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو ایران کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں۔

اگر میزبان ممالک اور ایران کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے تو ورلڈ کپ 2026 ایک کامیاب عالمی ایونٹ ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اگر کشیدگی برقرار رہی تو یہ تنازع کھیلوں کی تاریخ کے بڑے سفارتی بحرانوں میں شامل ہو سکتا ہے۔

فی الحال ایرانی ٹیم کی شرکت برقرار ہے، مگر آنے والے ہفتے یہ طے کریں گے کہ آیا فٹ بال واقعی سیاست سے بالاتر رہ پاتا ہے یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button