
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
معرکۂ حق میں نمایاں کردار ادا کرنے والے غازی اور قوم کے ہیرو کیپٹن علی حسن (تمغۂ جرأت) نے بھارت کے خلاف حالیہ جنگ کو ایک عظیم اور فیصلہ کن معرکہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج نے غیر معمولی دلیری، پیشہ ورانہ مہارت اور بہترین حکمت عملی کے ذریعے دشمن کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔
ایک خصوصی گفتگو میں کیپٹن علی حسن نے کہا کہ معرکۂ حق میں کامیابی صرف عسکری طاقت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے پوری قوم کی دعائیں، یکجہتی اور افواجِ پاکستان کی اعلیٰ تربیت کارفرما تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ہر مشکل گھڑی میں اپنی افواج کے ساتھ کھڑی رہی، جس نے جوانوں کے حوصلے مزید بلند کیے۔
کیپٹن علی حسن نے 10 مئی کے دن کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی فتح کی خبر موصول ہوئی تو جوانوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی خوشی اور فخر کا باعث تھا، جس نے پوری قوم کو ایک مضبوط رشتے میں جوڑ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ معرکۂ حق کے غازیوں اور شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر یہ ثابت کیا کہ فتح کا دارومدار صرف اسلحے پر نہیں ہوتا بلکہ اصل کامیابی اس بے خوف جذبے، ایمان اور عزم میں پوشیدہ ہوتی ہے جو حق اور سچائی کے لیے ڈٹ جاتا ہے۔ “یہی جذبہ ہماری اصل طاقت ہے،” انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا۔
کیپٹن علی حسن کے مطابق یہ معرکہ تاریخ میں ایک سنہری باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ داستان آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے گی اور انہیں وطن کے دفاع، خودمختاری اور وقار کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار رہنے کی ترغیب دے گی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کامیابی نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی کامیابیاں قومی یکجہتی کو مضبوط کرتی ہیں اور ملک کے دفاعی اداروں پر عوام کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔
ادھر عوامی حلقوں میں بھی کیپٹن علی حسن اور دیگر غازیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قوم اپنے ہیروز کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
معرکۂ حق کی کامیابی کو پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان اپنے دفاع اور علاقائی استحکام کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔



