بین الاقوامیاہم خبریں

ایران شاید جنگ بندی کی پابندی نہ کرے ، وہ اپنے مفادات کے مطابق عمل کرے گا:ایرانی ٹیلی وژن

ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ "ہم تیار ہیں... اور جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں تباہ کن ضربیں لگائیں گے".

ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ جاری جنگ بندی کی مکمل پابندی کا پابند نہیں ہوگا اور اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ملک کی عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی نئی جارحیت ہوئی تو بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ افواج ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ پاسداران نے خبردار کیا کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں دشمن کے باقی ماندہ اثاثوں پر "تباہ کن ضربیں” لگائی جائیں گی، جبکہ جنگ بندی کے دوران بھی مکمل چوکسی اور نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کے لیے تیار ہیں تاکہ امن مذاکرات کو مزید موقع دیا جا سکے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اسرائیل، جو اس تنازع میں امریکہ کا اتحادی ہے، اس فیصلے سے متفق ہے یا نہیں۔
اپنے ایک سوشل میڈیا بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے پاکستانی ثالثوں کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی کو عارضی طور پر روک دیا ہے تاکہ تہران کی قیادت کو مذاکرات کے ذریعے کسی متفقہ حل تک پہنچنے کا موقع دیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ سمندری راستوں سے ایرانی تجارت پر امریکی بحریہ کی نگرانی جاری رہے گی، جسے تہران نے "جنگی اقدام” قرار دیا ہے۔
پاکستان نے اس تنازع کے حل کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی میزبانی کی ہے۔ یہ جنگ، جو دو ماہ قبل شروع ہوئی، ہزاروں جانیں لے چکی ہے اور عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر چکی ہے۔
ایرانی ردعمل میں احتیاط اور شکوک نمایاں ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے "تسنیم” کے مطابق ایران نے جنگ بندی میں توسیع کی کوئی درخواست نہیں کی، اور اگر امریکی دباؤ جاری رہا تو وہ سمندری حصار کو طاقت کے ذریعے توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر نے امریکی اعلان کو "چال” قرار دیتے ہوئے اس کی اہمیت کو کم تر بتایا۔
ادھر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی حکومت اندرونی اختلافات کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی صورتحال جنگ بندی میں توسیع کے فیصلے کی ایک بڑی وجہ بنی۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد میں جاری امن مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت بھی غیر یقینی ہے، جس سے مذاکرات کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ابتدائی مذاکرات میں کسی حتمی معاہدے تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی تھی، اور بات چیت کا بڑا محور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر تھے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی محدود کرے تاکہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے، جبکہ ایران اس الزام کی تردید کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے، اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو خطہ ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button