
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
بیجنگ: پاکستان سفارتخانے نے بیجنگ میں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET) کے موضوع پر ایک اہم سمپوزیم کا انعقاد کیا، جس میں گھریلو آلات، برقی سازوسامان، اور بیٹری و پاور اسٹوریج مینوفیکچرنگ کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ سمپوزیم کا عنوان "مہارتوں کی ترقی اور اکیڈمیا و صنعت کے اشتراک کے لیے شراکت داری کا فروغ تھا”۔
اس تقریب میں چینی کمپنیوں، معروف (TVET)اداروں اور پاکستانی کاروباری نمائندگان نے شرکت کی اور ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور سکلز ڈویلپمنٹ کے مواقع پر غور کیا۔ چین کی وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی تحفظ کے حکام سمیت 41 چینی اداروں اور کمپنیوں کے نمائندگان بھی شریک ہوئے، جبکہ پاکستان سے وزیر منصوبہ بندی، معاونِ خصوصی برائے صنعت، چیئرپرسن NAVTTC اور دیگر کمپنیوں نے آن لائن شرکت کی۔
چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ سفارتخانہ شعبہ جاتی اور نتائج پر مبنی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے دسمبر 2025 کے زرعی ٹی وی ای ٹی فورم کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ سمپوزیم لاہور میں 9-10 مئی 2026 کو منعقد ہونے والی پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس (B2B) سرمایہ کاری کانفرنس کی تیاری کا حصہ ہے۔ انہوں نے چینی کمپنیوں کو اس کانفرنس میں بھرپور شرکت کی دعوت دی۔
سفیر پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی وی ای ٹی صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ہنر مند افرادی قوت ناگزیر ہے۔ انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت انسانی وسائل اور مہارتوں کی منتقلی میں بڑھتے تعاون کو بھی اجاگر کیا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے اپنے ویڈیو پیغام میں پاکستان کی 5.6 ارب ڈالر مالیت کی گھریلو آلات کی مارکیٹ اور برقی سازوسامان کی درآمدات میں 75 فیصد اضافے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہنر مند تکنیکی ماہرین درآمدی انحصار کو کم کر کے مقامی پیداوار کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے CPEC 2.0 کے تحت “لائیولی ہڈ کوریڈور” اور “اڑان پاکستان” پروگرام کو تعاون کے اہم مواقع قرار دیا اور 250 ٹی وی ای ٹی مراکز کی اپ گریڈیشن اور 60 ہزار افراد کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان کیا۔
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت ہارون اختر نے چینی شراکت داروں کے ساتھ تربیتی پروگرامز اور مراکزِ مہارت کے قیام پر زور دیا، جبکہ چیئرپرسن NAVTTC گل مینا بلال احمد نے مشترکہ تربیتی پروگرامز اور صنعتی اپرنٹس شپ کو فروغ دینے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے ٹریڈ و انویسٹمنٹ اتاشی محمد ایاز نے 21 ترجیحی شعبوں میں تعاون کے مختلف ماڈلز پیش کیے۔
سمپوزیم کے دوران چینی اداروں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ تعاون میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے شرکاء کے درمیان مشترکہ مواقع اور تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی ہوا۔
اختتامی کلمات میں سفیر خلیل ہاشمی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس قسم کی سرگرمیوں کو عملی اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا، اور لاہور میں ہونے والی آئندہ سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کے لیے چینی اداروں کی دلچسپی کو سراہا۔



