پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

SITE صنعت کاروں کا پالیسی ریٹ میں اضافے پر شدید ردعمل، فوری نظرثانی کا مطالبہ

ایسوسی ایشن نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مالیاتی پالیسی پر فوری نظرثانی کرے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،عبدالرحمان فودا SITE پریذیڈنٹ کے ساتھ
SITE Association of Industry نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد اسے 11.5 فیصد تک بڑھانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق کاروباری برادری اس وقت معاشی بحالی کے لیے شرح سود میں کمی کی توقع کر رہی تھی، تاہم حالیہ اضافہ غیر متوقع ہونے کے ساتھ ساتھ صنعتی سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
صنعتی ترقی اور کاروباری اعتماد کو دھچکا
سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحمان فدا نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ صنعتی ترقی کے لیے منفی اثرات کا حامل ہے اور اس سے پہلے سے کمزور کاروباری اعتماد مزید متاثر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعت پہلے ہی بلند پیداواری لاگت، توانائی کے زیادہ نرخ، کمزور برآمدات اور گھریلو طلب میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، “ایسے حالات میں ریلیف فراہم کرنے کے بجائے قرض لینے کے اخراجات میں اضافہ سرمایہ کاری کی رفتار کو سست کرے گا اور ورکنگ کیپیٹل کے مسائل کو مزید سنگین بنا دے گا۔”
افراط زر اور پالیسی پر سوالات
عبدالرحمان فدا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں مہنگائی کا بڑا سبب سپلائی سائیڈ کی رکاوٹیں، شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ ہیں۔ ان کے مطابق سخت مالیاتی پالیسی ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے معاشی سرگرمیوں کو مزید سست کر سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ “ایسے ماحول میں شرح سود میں اضافہ مہنگائی کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کرتا بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو دباتا ہے اور معیشت کی رفتار کو کمزور کرتا ہے۔”
SMEs پر منفی اثرات کا خدشہ
ایسوسی ایشن نے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) پر اس فیصلے کے اثرات پر تشویش ظاہر کی۔ بیان میں کہا گیا کہ بلند شرح سود کے باعث ان اداروں کے لیے قرض تک رسائی مزید مشکل ہو جائے گی، جس سے کاروباری توسیع، جدید کاری (BMR) منصوبوں اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ متاثر ہوگا۔
مزید برآں، اس فیصلے کے نتیجے میں صنعتی یونٹس میں ملازمتوں میں کمی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا، جو معاشی اور سماجی مسائل کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثرات
عبدالرحمان فدا نے اس فیصلے کو سرمایہ کاروں کے لیے منفی سگنل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی میں تسلسل اور پیشگوئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق شرح سود میں اچانک اضافہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیتا ہے۔
پالیسی پر نظرثانی اور مشاورت کا مطالبہ
ایسوسی ایشن نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مالیاتی پالیسی پر فوری نظرثانی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ کاروباری برادری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ ایسی پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں جو معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنائیں۔
متوازن حکمت عملی کی ضرورت
ماہرین کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں ایک متوازن اور جامع حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے، جس میں مہنگائی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جائے۔
سائٹ ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ اگر بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات نہ صرف صنعتی شعبے بلکہ مجموعی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے، جس سے روزگار اور برآمدات دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button