پاکستان پریس ریلیزFahad Fayyaz Alamاہم خبریں

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جارحیت، پاک فوج کا مؤثر جواب

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی جارحیت یا دہشتگردی کا بھرپور جواب دیا جائے گا تاکہ ملک کے عوام اور سرحدوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی کے دوران افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے مبینہ بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاک فوج نے بھرپور اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں “آپریشن غضب للحق” کے تحت جاری ہیں، جن کا مقصد ملکی سرحدوں کا دفاع اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہے۔

آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں تیز
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے دشمن کی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیتے ہوئے مختلف سرحدی علاقوں میں آپریشنل سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اس دوران جدید حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

چمن سیکٹر میں اہم اہداف تباہ
ذرائع کے مطابق چمن سیکٹر میں پاک فوج نے افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ کارروائی کے دوران سرشان، المر جان، ایدھی پوسٹ اور گاڑی سمیت دیگر تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جس سے دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

دفاع وطن کیلئے غیر متزلزل عزم
سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ افواجِ پاکستان ملک کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر کاربند ہے اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ آپریشن غضب للحق اسی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے ذریعے دہشتگرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

آپریشن اہداف کے حصول تک جاری رہے گا
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام مقررہ اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سرحدی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

خطے میں امن کی ضرورت
ماہرین کے مطابق سرحدی کشیدگی کے باوجود خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں بھی ضروری ہیں۔ تاہم، پاکستان نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی جارحیت یا دہشتگردی کا بھرپور جواب دیا جائے گا تاکہ ملک کے عوام اور سرحدوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button