سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ہونے والے کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو مسئلۂ فلسطین پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ انہوں نے اجلاس میں اعلیٰ سطحی شرکت کو اس بحث کی اہمیت کا مظہر قرار دیتے ہوئے بحرین کے وزیر خارجہ، فلسطین کے وزیر خارجہ اور دیگر معزز شخصیات کی موجودگی کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری، ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ آئیدے اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی بریفنگز کو بھی سراہا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بدستور نہایت غیر مستحکم ہے جہاں متعدد باہم جڑے بحران موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر سختی سے عملدرآمد ہی مزید کشیدگی کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ میں جنگ بندی نے وقتی ریلیف فراہم کیا ہے تاہم یہ اب بھی نازک ہے اور خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیلی حملوں میں 800 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنگ بندی کا مکمل احترام کیا جائے اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔
پاکستانی مندوب نے امید ظاہر کی کہ غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر جلد عملدرآمد ہوگا، خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تاخیر سے انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد پر زور دیا۔
انہوں نے مغربی کنارے کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبادکاروں کا بڑھتا ہوا تشدد، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور اراضی پر قبضے کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔ انہوں نے عرب و اسلامی ممالک کی جانب سے اسرائیلی اقدامات کی مذمت اور یروشلم میں مقدس مقامات، خصوصاً مسجد اقصیٰ، کی بے حرمتی کے واقعات کو فوری روکنے کا مطالبہ دہرایا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عالمی کوششیں تیز ہو رہی ہیں اور جولائی میں ہونے والی اعلیٰ سطحی کانفرنس اس ضمن میں اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت ہے۔
لبنان، شام اور یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں استحکام کے لیے فوری جنگ بندی، سیاسی حل اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں سے ہونے والے جانی نقصان پر تشویش کا اظہار کیا اور قرارداد 1701 پر عملدرآمد پر زور دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی عالمی امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال کے تناظر میں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
اپنے اختتامی کلمات میں پاکستانی مندوب نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ مسئلۂ فلسطین کا حل طلب رہنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل، اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا حصول ناگزیر ہے۔ پاکستان نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔



