پاکستاناہم خبریں

کراچی اور لاہور کے درمیان تعاون کا نیا باب: میئر مرتضی وھاب کا لاہور دورہ، شہری نظام میں بہتری کے لیے مشترکہ اقدامات

واسا نے فوری مثبت جواب دیتے ہوئے 29 اپریل کو دورے کی تاریخ مقرر کی، جس کے بعد وفد نے نہ صرف ہیڈکوارٹرز بلکہ فیلڈ آپریشنز کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر کراچی اور لاہور ک کا موازنہ ایک عرصے سے زیرِ بحث رہا ہے۔ اکثر یہ سوال دہرایا جاتا ہے کہ "کراچی کب لاہور بنے گا؟”. ایک ایسا جملہ جو کبھی سنجیدہ تجزیے اور کبھی مزاحیہ میمز کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں اس بحث کو ایک عملی رخ اس وقت ملا جب کراچی کے میئر مرتضی وھاب نے لاہور کا دورہ کیا۔


غیر متوقع دورہ اور دلچسپ منظر

بدھ کے روز ٹی وی اسکرینوں پر ایک غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا، جب میئر کراچی لاہور میں نمودار ہوئے اور ان کے ساتھ پنجاب کے وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین موجود تھے۔ ابتدائی طور پر یہ منظر کئی حلقوں کے لیے حیران کن تھا، تاہم جلد ہی واضح ہو گیا کہ یہ دورہ باہمی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔


دورے کا مقصد: پانی اور سیوریج نظام کا جائزہ

میئر کراچی اپنے افسران کے ہمراہ لاہور کے پانی اور سیوریج کے نظام کا مشاہدہ کرنے آئے تھے۔ اس دورے کی میزبانی WASA (واسا) نے کی، جو پنجاب میں شہری پانی اور نکاسی آب کے نظام کا اہم ادارہ ہے۔

چونکہ واسا محکمہ ہاؤسنگ کے تحت کام کرتا ہے، اس لیے بلال یاسین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ یہ دورہ نہ صرف تکنیکی تبادلہ خیال بلکہ دونوں شہروں کے درمیان عملی تعاون کی ایک مثال بن کر سامنے آیا۔


خط و کتابت سے عملی اقدام تک

اس پیش رفت کی بنیاد 21 اپریل کو رکھی گئی، جب بلدیہ عظمیٰ کراچی نے لاہور واسا کو باضابطہ خط لکھا۔ ایک سرکاری افسر کے مطابق یہ خط "خوشگوار حیرت” کا باعث بنا، جس میں میئر کراچی نے لاہور آ کر وہاں کے نظام کا جائزہ لینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

واسا نے فوری مثبت جواب دیتے ہوئے 29 اپریل کو دورے کی تاریخ مقرر کی، جس کے بعد وفد نے نہ صرف ہیڈکوارٹرز بلکہ فیلڈ آپریشنز کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔


صحافیوں کے سوالات اور حکام کا ردعمل

واسا ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے بعض سخت اور تنقیدی سوالات بھی کیے، جن پر بلال یاسین نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے سوالات سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ:

"یہ ایک خوبصورت بات ہے کہ دو مختلف سیاسی جماعتیں عوامی مفاد کے لیے ایک ساتھ بیٹھ کر کام کر رہی ہیں اور ایک دوسرے سے سیکھ رہی ہیں۔”


میئر کراچی کا مؤقف: مقابلہ نہیں، تعاون ضروری

میئر Murtaza Wahab نے اس موقع پر واضح کیا کہ شہروں کا موازنہ منفی انداز میں نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق:

  • کسی شہر کو نیچا دکھانا درست نہیں
  • ادارے ریوینیو کے بغیر نہیں چل سکتے
  • کراچی میں بارش کے بعد پانی چند گھنٹوں میں نکال لیا جاتا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ لاہور میں سروس ڈیلیوری میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، لیکن کراچی کی آبادی اور مسائل مختلف نوعیت کے ہیں۔


“سسٹر سٹی” تصور اور مستقبل کی حکمت عملی

میئر کراچی نے عالمی سطح پر رائج “سسٹر سٹی” تصور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی اور لاہور کے درمیان بھی اسی نوعیت کا تعاون فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ مستقبل میں واسا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MoU) بھی طے پا سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا:

"لاہور پاکستان کا دل ہے، اور ہم نے اس کی ترقی سے سیکھا ہے، لیکن کراچی کے مسائل مختلف ہیں—ہمیں پانی بھی 125 کلومیٹر دور سے لانا پڑتا ہے۔”


واسا کی بریفنگ اور فیلڈ وزٹ

Water and Sanitation Agency کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کراچی کے وفد کو:

  • پانی کی فراہمی کے نظام
  • سیوریج انفراسٹرکچر
  • ریوینیو کلیکشن میکانزم
  • جدید ٹیکنالوجی کے استعمال

پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اس کے علاوہ وفد کو لاہور کے مختلف فیلڈ آپریشنز، ڈرینیج سسٹمز، ڈسپوزل اسٹیشنز اور مون سون کی تیاریوں کا عملی مشاہدہ بھی کروایا گیا۔


تجزیہ: مقابلے سے آگے بڑھ کر تعاون کی طرف

ماہرین کے مطابق یہ دورہ پاکستان کے دو بڑے شہروں کے درمیان ایک مثبت پیش رفت ہے، جہاں مقابلے کی فضا کو کم کر کے تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ اقدام نہ صرف شہری مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ دیگر شہروں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے کہ کس طرح ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے بہتر سروس ڈیلیوری ممکن بنائی جا سکتی ہے۔


نتیجہ

کراچی اور لاہور کے درمیان موازنہ اپنی جگہ، لیکن حالیہ پیش رفت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر دونوں شہر ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں تو شہری سہولیات میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ یہ دورہ اس بات کا عندیہ ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے بڑے شہر محض موازنہ کا حصہ نہیں بلکہ باہمی تعاون کے عملی ماڈل بن سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button