پاکستاناہم خبریں

وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان: بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور معاشی استحکام کی جانب پیش رفت

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون جاری رہے گا اور موجودہ معاشی چیلنجز پر قابو پایا جا سکے گا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے واجب الادا بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں اہم پیش رفت حاصل کر لی ہے، جس کے تحت تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کے بائی لیٹرل قرضے ادا کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو ملکی معیشت کے استحکام کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

کابینہ اجلاس سے ابتدائی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ زرِمبادلہ کے ذخائر بھی اب مستحکم سطح پر ہیں، جو معیشت میں بہتری کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مشکل حالات کے باوجود ذمہ داری کے ساتھ مالی معاملات کو سنبھالا اور قرضوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا۔


سعودی قیادت کا شکریہ اور تعاون کا اعتراف

وزیراعظم نے اس موقع پر سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور محمد بن سلمان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور معاشی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون جاری رہے گا اور موجودہ معاشی چیلنجز پر قابو پایا جا سکے گا۔


امن کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششیں

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں خطے میں امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کوششیں بدستور جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور مستقبل میں بھی خطے میں استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔


وفاق اور صوبوں کے درمیان مشاورت

کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مشترکہ فیصلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے رکاوٹوں کو ختم کر کے باہمی تعاون کو فروغ دیا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

وزیراعظم نے متعلقہ کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ صوبوں کے ساتھ مشاورت کا عمل ایک ماہ تک جاری رکھے تاکہ عوام کو دی جانے والی سبسڈیز برقرار رکھی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔


معاشی بہتری کے آثار اور مستقبل کی حکمت عملی

ماہرین کے مطابق بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور زرِمبادلہ کے ذخائر میں استحکام پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل پالیسی اقدامات، برآمدات میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط ضروری ہوگا۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید معاشی اصلاحات متوقع ہیں، جن کا مقصد نہ صرف مالی استحکام بلکہ عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔


نتیجہ

وزیراعظم کے حالیہ بیانات اور حکومتی اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت معیشت کی بحالی اور استحکام کے لیے سرگرم ہے۔ سعودی عرب جیسے قریبی اتحادیوں کے تعاون اور داخلی اصلاحات کے ذریعے پاکستان معاشی چیلنجز پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا بھی حکومتی ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button