غزہ پٹی کے لیے امداد لے کر جانے والے ایک بحری قافلے کے اسرائیل کی طرف سے بین الاقوامی سمندری پانیوں میں روکے جانے کے بعد اس فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر سوار بیسیوں سرگرم امدادی کارکن جمعہ یکم مئی کے روز یونانی جزیرے کریٹے پر اس فلوٹیلا سے اتر گئے۔
یونانی دارالحکومت ایتھنز سے ملنے والی رپورٹوں میں ملکی کوسٹ گارڈز کے حوالے سے جنگ سے تباہ شدہ غزہ پٹی کے لیے بہت سی کشتیوں میں امداد لے کر جانے والے اس قافلے میں شامل کارکنوں کے کریٹے کے جزیرے پر اتر جانے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
یونانی کوسٹ گارڈز نے بتایا کہ وہ اس فلوٹیلا میں شامل افراد کو اپنی حفاظت میں کریٹے کی جزیرے تک لائے اور ان کی تعداد تقریباﹰ 175 تھی۔

ان میں سے اکثریت مختلف یورپی ممالک کے شہریوں کی تھی اور ان افراد کو کریٹے کے جنوب مشرق میں ایتھیرینولاکوس تک پہنچانے کے لیے چار بسوں میں سوار کرایا گیا، جس دوران وہ ’’فلسطین کو آزا دکرو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
اس غزہ ایڈ فلوٹیلا کے منتظمین نے اس قافلے میں شامل کارکنوں کی تعداد 211 بتائی ہے۔
فلوٹیلا کا سفر مختلف یورپی ممالک سے شروع ہوا تھا
کل جمعرات کے روز اسرائیلی وزارت خارجہ نے تصدیق کر دی تھی کہ اس فلوٹیلا میں شامل 20 سے زائد کشتیوں پر سوار تقریباﹰ 175 افراد کو سمندر میں ان کشتیوں سے اتار کر عارضی طور پر تحویل میں لے لیا گیا تھا۔

یہ امدادی قافلہ مجموعی طور پر 50 سے زائد امدادی کشتیوں ہر مشتمل تھا، جس نے حالیہ ہفتوں میں غزہ پٹی کی طرف اپنا سفر مختلف یورپی ممالک سے تقریباﹰ بیک وقت شروع کیا تھا۔
یہ کشتیاں غزہ کی طرف سفر پر فرانس میں مارسے کے شہر، اسپین میں بارسلونا سے اور اٹلی میں سیراکوز سے روانہ ہوئی تھیں۔
اسی دوران اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے جمعے کے روز کہا کہ اس فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر سوار اور کھلے سمندر میں روکے گئے دو کے سوا باقی تمام افراد اب واپس یونان پہنچ گئے ہیں۔



