سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
آصف علی زرداری نے چین کا پانچ روزہ سرکاری دورہ کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچ کر پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ دورہ دوطرفہ تعاون کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور علاقائی ترقی کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق صدر زرداری جمعرات کو چین کے جنوبی شہر سانیا سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے، جہاں انہیں چین کی کمیونسٹ پارٹی ہینان کے سینئر رہنما وانگ کیانگ نے پرتپاک انداز میں رخصت کیا۔ اس موقع پر چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ اور چینی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
اقتصادی تعاون اور سی پیک 2.0 پر پیش رفت
دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا تھا، خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے یعنی CPEC 2.0 کے تحت صنعتی ترقی، زراعت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینا۔
صدر زرداری نے اپنے دورے کے دوران چین کے صوبہ ہنان اور ہینان میں مختلف صنعتی و زرعی منصوبوں کا جائزہ لیا اور چینی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اہم معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں
چین کے شہر چانگشا میں پاکستانی اور چینی اداروں کے درمیان تین اہم مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں کے تحت سمندری پانی کو صاف کرنے (ڈی سیلینیشن)، زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ اور چائے کی پیداوار میں بہتری کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔
مزید برآں، سانیا میں صدر کی موجودگی میں دو مزید مفاہمتی یادداشتوں اور ایک مشترکہ سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط کیے گئے، جن میں مشینری، لائیو اسٹاک کے لیے ویکسینز اور جدید طبی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ ان معاہدوں کو پاکستان کی صنعتی اور زرعی معیشت کے لیے سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
بلیو اکانومی اور زرعی ترقی پر زور
صدر زرداری نے دورے کے دوران "بلیو اکانومی” یعنی سمندری وسائل کے مؤثر استعمال کو پاکستان کی معیشت کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اپنی ساحلی پٹی اور سمندری وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کر سکتا ہے۔
اسی طرح زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، پیداوار میں اضافے اور ویلیو ایڈیشن کے لیے مشترکہ منصوبوں پر بھی اتفاق کیا گیا، جس سے پاکستان کی فوڈ سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
سفارتی اور اسٹریٹجک اہمیت
ماہرین کے مطابق صدر زرداری کا یہ دورہ نہ صرف اقتصادی بلکہ سفارتی لحاظ سے بھی اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان "آئرن برادرہڈ” پر مبنی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اس دورے نے خطے میں اقتصادی استحکام کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں پر عملدرآمد کے لیے جلد مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے تاکہ منصوبوں کو عملی شکل دی جا سکے۔ CPEC 2.0 کے تحت صنعتی زونز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مشترکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے دورے کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنائے گا اور دونوں ممالک مل کر خطے میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف حاصل کریں گے۔



