جنگ دوبارہ شروع ہونے کا اندیشہ ہے، ایرانی فوجی کمانڈر
میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایران نے یہ مسودہ پاکستان کے ذریعے پیش کیا تھا تاہم اس کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایجنسیاں
ایران کے ایک سینیئر فوجی افسر کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ نئی مذاکراتی تجاویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ان پر عدم اطیمنان کا اظہار کیا تھا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایران نے یہ مسودہ پاکستان کے ذریعے پیش کیا تھا تاہم اس کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’فی الوقت میں ان (ایران) کی پیشکش سے مطمئن نہیں ہوں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے مذاکرات میں تعطل کی وجہ ایران کی قیادت کے اندر ’’شدید اختلافات‘‘ کو قرار دیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ دو ہی سوال ہیں، ’’کیا ہم جا کر انہیں مکمل تباہ کر دیں یا کوئی معاہدہ کرنے کی کوشش کریں؟ تاہم انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وہ پہلے آپشن کو ترجیح نہیں دیتے۔
ادھر ہفتے کی صبح ایرانی فوج کی مرکزی کمان کے ایک سینیئر عہدیدار محمد جعفر اسدی نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا، ’’شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کسی بھی وعدے یا معاہدے پر قائم نہیں رہتا۔‘‘

جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے آبنائے ہرمز پر مضبوط گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے، جس سے عالمی معیشت کے لیے تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے جبکہ امریکہ نے جواباً ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
دوسری طرف واشنگٹن میں قانون ساز اس قانونی تنازعے پر بحث میں مصروف ہیں کہ آیا ٹرمپ نے ایران جنگ کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کرنے کی مقررہ مدت کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔
سن 1973 کے وار پاورز ریزولوشن کے تحت کسی بھی جنگ کے آغاز کے 60 دن کے اندر کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنا یا فوجی کارروائی کی منظوری دینا ضروری ہوتا ہے۔ ایران جنگ کے لیے یہ 60 دن جمعہ یکم مئی کو مکمل ہو گئے تھے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگی کارروائیاں’’ختم‘‘ ہو چکی ہیں لیکن امریکی فوجی پوزیشن میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ امریکی بحریہ اب بھی ایرانی بندرگاہوں اور بحری آمد و رفت کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔



