کاروبارتازہ ترین

خلیجی کشیدگی کے پاکستان پر اثرات: ایندھن مہنگا، بجلی بحران شدت اختیار کر گیا، مگر اشیائے خورونوش تاحال مستحکم

پنجاب کے پرائس کنٹرول محکمے کی سربراہ سلمہ بٹ کے مطابق حکومت روٹی کو بنیادی ضرورت سمجھتے ہوئے اس کی قیمت میں اضافہ نہیں چاہتی

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

خطے میں جاری خلیجی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے اثرات پاکستان میں بتدریج نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں ایک جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور بجلی کی لوڈشیڈنگ نے عوام کو متاثر کیا ہے، وہیں دوسری جانب اشیائے خورونوش کی قیمتیں فی الحال بڑی حد تک مستحکم دکھائی دیتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے جاری اس صورتحال نے سب سے زیادہ اثر توانائی کے شعبے پر ڈالا ہے۔ ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔ ان حالات سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب سے شام آٹھ بجے کے بعد کاروباری سرگرمیوں کو محدود کرنے جیسے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں، جسے حکومتی حلقے توانائی بچاؤ حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔

تاہم حیران کن طور پر روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش، خصوصاً سبزیوں، دالوں اور گوشت کی قیمتوں میں ابھی تک نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کی مارکیٹوں میں ٹماٹر، پیاز اور دیگر سبزیوں کی قیمتیں عمومی سطح پر برقرار ہیں، جو عوام کے لیے کسی حد تک ریلیف کا باعث ہیں۔

روٹی کی قیمت پر تنازع، حکومت کا سخت مؤقف

دوسری جانب روٹی اور دودھ کی قیمتوں کے حوالے سے صورتحال قدرے مختلف ہے۔ نان بائی ایسوسی ایشن نے بڑھتی لاگت، خصوصاً ایل پی جی گیس کی قلت اور مہنگائی کے باعث روٹی کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے رکن محمد رزاق کے مطابق بلیک مارکیٹ میں مہنگی گیس خرید کر تندور چلانا مشکل ہو چکا ہے اور موجودہ نرخ پر روٹی فروخت کرنا نقصان دہ ہو رہا ہے۔

تاہم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واضح طور پر روٹی کی قیمت میں اضافے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد روٹی کی قیمت 14 روپے مقرر کی تھی اور اس فیصلے کو برقرار رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

پنجاب کے پرائس کنٹرول محکمے کی سربراہ سلمہ بٹ کے مطابق حکومت روٹی کو بنیادی ضرورت سمجھتے ہوئے اس کی قیمت میں اضافہ نہیں چاہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ نان، کلچہ اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی محدود اجازت دی گئی ہے تاکہ نان بائیوں کو کچھ ریلیف مل سکے، جبکہ عام صارفین کو بنیادی خوراک سستی دستیاب رہے۔

سبزیوں اور دالوں کی قیمتیں کیوں مستحکم ہیں؟

حکام کے مطابق اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام کی بڑی وجہ مقامی پیداوار اور ذخائر ہیں۔ سلمہ بٹ نے بتایا کہ اگرچہ افغانستان کے ساتھ سرحدی بندش کے باعث درآمدات متاثر ہوئی ہیں، تاہم پاکستان میں اس وقت سبزیوں، دالوں اور چکن کی وافر مقدار موجود ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں پر فوری دباؤ نہیں پڑا۔

البتہ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ لاگت بڑھ گئی ہے، جس کا اثر فی کلو قیمت میں چار سے پانچ روپے کے اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

دودھ کی قیمتوں میں اضافہ

جہاں دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں مستحکم ہیں، وہیں دودھ کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو شہریوں کے لیے ایک نئی تشویش بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق مویشیوں کی خوراک، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات بڑھنے سے دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔

مستقبل کی صورتحال

حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ دو ماہ تک صورتحال قابو میں رہنے کی توقع ہے کیونکہ مقامی پیداوار مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جیسے ہی لوکل پیداوار کم ہو گی اور درآمدات پر انحصار بڑھے گا، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر خلیجی کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو اس کے اثرات توانائی کے بعد خوراک کے شعبے تک بھی پہنچ سکتے ہیں، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

عوام کے لیے چیلنجز اور حکومتی حکمت عملی

موجودہ صورتحال میں عوام کو توانائی بحران اور محدود معاشی دباؤ کا سامنا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ذخائر کے مؤثر استعمال، مقامی پیداوار کے فروغ اور سخت پرائس کنٹرول کے ذریعے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

یوں پاکستان اس وقت ایک پیچیدہ معاشی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں ایک طرف عالمی حالات کے اثرات سے نمٹنا ہے اور دوسری جانب عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنانا بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button