پاکستاناہم خبریں

معرکہ حق کی پہلی برسی: فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دوٹوک پیغام، ’’پاکستان کے خلاف ہر مس ایڈونچر کا جواب انتہائی تکلیف دہ ہوگا‘‘

جی ایچ کیو راولپنڈی میں تاریخی تقریب، عسکری و سیاسی قیادت کی شرکت

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا ’’مس ایڈونچر‘‘ کے نتائج دشمن کے لیے نہ صرف شدید بلکہ ’’انتہائی دور رس، خطرناک اور تکلیف دہ‘‘ ہوں گے۔

انہوں نے یہ اہم بیان اتوار کے روز جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا، جو گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والے تنازع اور ’’مارکۂ حق‘‘ میں پاکستان کی کامیابی کی پہلی برسی کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔

تقریب میں پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، اعلیٰ عسکری حکام، وفاقی وزراء، سیاسی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔


’’پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں‘‘

اپنے خطاب کے آغاز میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ یہ دن پاکستان، اس کے عوام اور مسلح افواج کے لیے ’’باعث فخر‘‘ ہے کیونکہ قوم نے اتحاد، قربانی اور عزم کی مثال قائم کی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ دشمن نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب سے 10 مئی تک پاکستان کی خودمختاری اور سرزمین کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان نے مکمل قومی اتحاد اور عسکری طاقت کے ساتھ اس کا جواب دیا۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا:

’’ہمارے دشمن یہ جان لیں کہ اگر آئندہ پاکستان کے خلاف کوئی مہم جوئی کی گئی تو اس کے اثرات محدود نہیں ہوں گے بلکہ انتہائی وسیع، خطرناک، دور رس اور تکلیف دہ ہوں گے۔‘‘


’’مارکۂ حق‘‘ صرف جنگ نہیں بلکہ نظریات کا تصادم تھا

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ ’’مارکۂ حق‘‘ محض دو ممالک یا دو افواج کے درمیان روایتی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ حق اور باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔

انہوں نے قرآن پاک کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل سے حق کو کامیابی حاصل ہوئی جبکہ باطل کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

آرمی چیف کے مطابق مئی 2025 کا تنازع اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ بھارت کی جانب سے برسوں سے جاری ’’جھوٹے فلیگ آپریشنز‘‘ اور اشتعال انگیز پالیسیوں کا تسلسل تھا۔


بھارت کا ’’جھوٹے فلیگ آپریشنز‘‘ کا الزام

فیلڈ مارشل منیر نے کہا کہ:

  • 2001
  • 2008
  • 2016
  • 2019

میں ہونے والے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت ماضی میں بھی پاکستان پر الزام تراشی کے ذریعے جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے ہمیشہ مبالغہ آرائی، پروپیگنڈے، جنگی جنون اور محدود سوچ کے ذریعے اپنے سیاسی و عسکری مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ ہر بار پاکستان نے نہ صرف دشمن کے غلط اندازوں کو بے نقاب کیا بلکہ اسے مؤثر جواب بھی دیا۔


’’آپریشن بنیانم مرصوص‘‘ کا مقصد کیا تھا؟

آرمی چیف نے بتایا کہ ’’آپریشن بنیانم مرصوص‘‘ کا بنیادی مقصد بھارت کے اس رویے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا تھا جس کے تحت وہ اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ہر واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر کے پاکستان کو عسکری دباؤ اور سفارتی تنہائی کا شکار بنا سکتا ہے، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا:

’’عالمی اور دفاعی ماہرین جانتے ہیں کہ بھارت کے عزائم اس کی حقیقی صلاحیتوں سے کہیں بڑے ہیں۔‘‘

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کبھی بھی طاقت کے دباؤ سے خوفزدہ نہیں ہوں گی۔


شہداء کو خراج عقیدت، قوم کو سلام

تقریب کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ’’مارکۂ حق‘‘ کے شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حملوں میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت بے گناہ شہریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور انہی قربانیوں کی بدولت پاکستان کو کامیابی حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا:

’’مارکۂ حق کے شہداء اور ان کے اہل خانہ ہمارا تاج ہیں۔ ان کی قربانیاں ہماری آزادی کی ضمانت ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے شہداء کو ایک مقدس امانت سمجھتا ہے جبکہ قومی طاقت کو ذمہ داری اور کامیابی کو اللہ تعالیٰ کا فضل تصور کرتا ہے۔


سیاسی قیادت، حکومت اور قوم کو خراج تحسین

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر، وزیر اعظم، وفاقی کابینہ، سیاسی قیادت اور تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قومی قیادت نے غیر معمولی سیاسی بصیرت، اتحاد اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے یہ واضح پیغام دیا کہ:

  • قومی خودمختاری
  • علاقائی سالمیت
  • قومی وقار

پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔


سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کی کامیابی

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان نے صرف عسکری میدان میں ہی نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارتکاروں اور حکومتی نمائندوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، جس کے باعث دنیا کو پاکستان کا نقطہ نظر سمجھنے میں مدد ملی۔


پاکستانی میڈیا اور نوجوانوں کا اہم کردار

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستانی میڈیا، صحافی برادری اور خصوصاً نوجوانوں کے کردار کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں نے سوشل میڈیا، سائبر اسپیس اور اطلاعاتی جنگ میں دشمن کے پروپیگنڈے اور نفسیاتی حربوں کو ناکام بنایا۔

انہوں نے کہا:

’’پاکستانی نوجوانوں نے جس انداز میں دشمن کے سائبر اور نفسیاتی حملوں کا مقابلہ کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔‘‘


’’یہ جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ قومی اتحاد سے جیتی گئی‘‘

اپنے خطاب کے اختتام پر آرمی چیف نے زور دیا کہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے عوام کے اتحاد، حب الوطنی اور اجتماعی شعور میں ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’مارکۂ حق‘‘ صرف سرحدوں پر نہیں جیتا گیا بلکہ پاکستان کے ہر طبقے، ہر ادارے اور ہر شہری نے اس کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب جنگ کے بادل چھٹے تو پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستانی قوم تمام نظریاتی، سیاسی اور ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مضبوط قوم کی صورت میں کھڑی تھی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ یہی قومی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے اور مستقبل میں بھی دشمن کے ہر عزائم کو ناکام بنانے کی ضمانت ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button