مشرق وسطیٰتازہ ترین

واشنگٹن اور تہران میں ممکنہ جزوی معاہدہ، اسرائیل میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں

ایران امریکا مذاکرات کے ممکنہ نتائج پر اسرائیلی قیادت شدید پریشان

ایجنسیاں

واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری پس پردہ سفارتی رابطوں اور ممکنہ جزوی معاہدے کی خبروں نے اسرائیل میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ اسرائیلی سیاسی اور سیکیورٹی حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایسا محدود معاہدہ کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں تہران اپنے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل صلاحیت اور خطے میں موجود حمایت یافتہ گروہوں کی پشت پناہی برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم کے مطابق اسرائیلی قیادت اس ممکنہ پیش رفت کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک ’’بدترین منظرنامہ‘‘ تصور کر رہی ہے، کیونکہ اس سے ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا۔


اسرائیل کو کن نکات پر سب سے زیادہ تشویش ہے؟

اسرائیلی حکام کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی جزوی یا عبوری معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس میں کئی اہم خامیاں موجود ہو سکتی ہیں۔

اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی معاہدے میں:

  • ایران سے افزودہ یورینیم مکمل طور پر ہٹانے کی شرط شامل نہیں ہوگی،
  • مستقبل میں یورینیم افزودگی روکنے کی مستقل ضمانت نہیں دی جائے گی،
  • ایرانی جوہری تنصیبات کی نگرانی محدود سطح پر ہوگی،
  • اور ایران کے میزائل پروگرام یا خطے میں اس کے اتحادی گروہوں سے متعلق واضح پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق یہ صورتحال ایران کو وقتی دباؤ سے نکال کر مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔


’’ایران کو مالی فائدہ ہوگا‘‘

اسرائیلی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر امریکا ایران کے ساتھ کسی محدود معاہدے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں تہران کو معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

ان خدشات میں شامل ہیں:

  • امریکی پابندیوں میں جزوی نرمی،
  • ایرانی تیل کی فروخت میں اضافہ،
  • بین الاقوامی مالیاتی نظام تک محدود رسائی کی بحالی،
  • اور منجمد اثاثوں کے اجرا کے امکانات۔

اسرائیل کے نزدیک یہ تمام عوامل ایران کی معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں، جس سے خطے میں اس کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے۔


ٹرمپ کا بیان، ’’ایران اب بھی معاہدہ چاہتا ہے‘‘

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایران کی جانب سے ’’بہت جلد‘‘ جواب موصول ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا:

’’ایران اب بھی شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اور ہم دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر قیاس آرائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کسی محدود سفارتی سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔


نئی امریکی تجویز کیا ہے؟

رپورٹس کے مطابق امریکا نے حالیہ دنوں میں ایران کو ایک ترمیم شدہ تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد فوری اور مکمل امن معاہدے کے بجائے ایک محدود اور عارضی فریم ورک تشکیل دینا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ امریکی منصوبہ ایک جامع معاہدے کے بجائے مختصر المدتی مفاہمتی یادداشت پر مبنی ہے۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد:

  • خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنا،
  • ممکنہ فوجی تصادم کو روکنا،
  • اور آئندہ مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانا بتایا جا رہا ہے۔

مجوزہ معاہدے کے تین مراحل

ذرائع کے مطابق امریکی منصوبے پر تین مراحل میں عمل درآمد تجویز کیا گیا ہے۔

پہلا مرحلہ: جنگ اور کشیدگی کا خاتمہ

اس مرحلے میں خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور کسی بھی ممکنہ عسکری تصادم کو روکنے کے لیے اقدامات شامل ہوں گے۔

امریکی حکام چاہتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ محاذ آرائی کو فوری طور پر کم کیا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ کے خطرات کم ہوں۔


دوسرا مرحلہ: آبنائے ہرمز بحران اور پابندیوں میں نرمی

دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز سے متعلق جاری بحران پر توجہ دی جائے گی۔

اس مرحلے کے تحت:

  • بحری کشیدگی میں کمی،
  • تیل بردار جہازوں کے تحفظ،
  • اور ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں جزوی نرمی جیسے اقدامات زیر غور ہیں۔

امریکی ذرائع کے مطابق اس کا مقصد عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام پیدا کرنا بھی ہے۔


تیسرا مرحلہ: 30 روزہ مذاکراتی دور

منصوبے کے تیسرے حصے میں ایک 30 روزہ مذاکراتی مدت شامل ہے جس کے دوران دونوں ممالک ایک وسیع تر معاہدے پر بات چیت کریں گے۔

اس مجوزہ جامع مذاکرات میں:

  • ایرانی جوہری پروگرام،
  • یورینیم افزودگی،
  • بیلسٹک میزائل پروگرام،
  • علاقائی ملیشیاؤں کی حمایت،
  • اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام

جیسے اہم معاملات شامل ہوں گے۔


اختلافات اب بھی برقرار

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی انتہائی گہرے ہیں۔

امریکا چاہتا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں قبول کرے، جبکہ ایران مکمل پابندیوں کے خاتمے اور اپنے جوہری حق کو تسلیم کرنے پر زور دے رہا ہے۔

اسی وجہ سے سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ مرحلے میں اگر کوئی معاہدہ ہوتا بھی ہے تو وہ عارضی اور محدود نوعیت کا ہوگا، جس کا مقصد صرف فوری بحران کو ٹالنا ہوگا۔


اسرائیل کے ممکنہ ردعمل پر سوالات

اسرائیلی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کر لیتا ہے جو اسرائیلی تحفظات کو دور نہ کر سکا تو تل ابیب ممکنہ طور پر اپنی آزادانہ حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔

اسرائیل ماضی میں کئی بار واضح کر چکا ہے کہ وہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، چاہے اسے یکطرفہ اقدامات ہی کیوں نہ اٹھانے پڑیں۔

اسی تناظر میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے، جبکہ دنیا امریکا اور ایران کے درمیان متوقع سفارتی پیش رفت پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button