بین الاقوامیتازہ ترین

ایران کی ناکہ بندی بھرپور طریقے سے جاری ہے: امریکی فوج

13 اپریل سے اب تک 58 تجارتی بحری جہازوں کا راستہ بدلا اور 4 جہازوں کو روکا ہے: سینٹ کام

User Rating: Be the first one !

ایران اور امریکہ کے درمیان متفرق جھڑپوں کے کچھ دنوں بعد ہفتے کے روز آبنائے ہرمز کے اطراف نسبتاً سکون کی صورتحال رہی تاہم امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے’’ ایکس ‘‘پر شائع ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران پر عائد بحری محاصرہ مکمل طور پر برقرار ہے۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی افواج نے 13 اپریل سے اب تک 58 تجارتی بحری جہازوں کا راستہ بدلا ہے اور 4 جہازوں کو روکا ہے تاکہ انہیں ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے سے روکا جا سکے۔

سب سے بڑی کشیدگی

یہ صورتحال گزشتہ جمعرات کی رات آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں گزشتہ ماہ شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے ہونے والی لڑائی کی سب سے بڑی کشیدگی کے بعد پیدا ہوئی۔ نیوز ایجنسی ’’ تسنیم ‘‘کے مطابق جمعہ کو بھی آبنائے ہرمز میں ایرانی افواج اور امریکی بحری جہازوں کے درمیان متفرق جھڑپیں ہوئیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے تہران سے منسلک دو بحری جہازوں پر بمباری کی جو ایک ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک امریکی لڑاکا طیارے نے دونوں بحری جہازوں کے چمنیوں کو نشانہ بنایا اور انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

ایران اور دوسری طرف امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے تہران نے اس اہم آبنائے سے غیر ایرانی جہازوں کی آمد و رفت کو بڑی حد تک روک رکھا ہے۔ یہ وہ آبنائے ہے جہاں سے عالمی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ امریکہ نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے امریکی ایرانی مذاکرات کے پہلے دور میں کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کے بعد 13 اپریل سے ایرانی بحری جہازوں اور بندرگاہوں پر ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔ توقع ہے کہ تہران جنگ کے خاتمے اور بعد ازاں 30 دنوں کے اندر جوہری معاملے پر بات چیت کے لیے امریکی تازہ ترین تجویز پر جلد جواب جمع کرا دے گا۔
مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button