پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

کچے سے چولستان تک،طالبعلم سے کسان تک،میگا پراجیکٹس سے مائیکرو ریلیف تک پنجاب کابینہ کے بڑے فیصلے

حکومت پر واجبات کا بوجھ ڈالنے کی ذہنیت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام مالی واجبات کو فوری کلیئر کیا جائے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 34واں اجلاس منعقد ہوا جس میں عوامی فلاح، زراعت، صنعت، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور سکیورٹی سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر قائد محمد نواز شریف، وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ایئر چیف اور نیول چیف کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔
پنجاب کابینہ نے کچے کے علاقوں میں کامیاب آپریشن پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ وزیراعلیٰ نے تیز ترین انشورنس کمپنی کے قیام پر وزیر خزانہ اور سیکرٹری فنانس کی کارکردگی کو سراہا۔ کابینہ نے پنجاب جنرل انشورنس کمپنی (PGIC) کے قیام کی باضابطہ منظوری بھی دے دی۔
اجلاس میں چولستان اور کچے کے شہریوں کے لیے آسان شرائط پر “اپنا کھیت، اپنا روزگار” اسکیم شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ اسکیم کے لیے 30 ہزار لاٹ کی نشاندہی کر لی گئی ہے جبکہ اب تک تقریباً 2 لاکھ خاندانوں کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اسکیم کی سخت ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو تمام معلومات ایک کلک پر دستیاب ہونی چاہئیں۔
پنجاب کابینہ نے 22 مئی سے 24 اگست تک اسکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات کی منظوری بھی دی۔ قائداعظم بزنس پارک شیخوپورہ میں مزید 200 ایکڑ رقبے کی توسیع، پنجاب میں ایکسل لوڈ مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ اور مری گلاس ٹرین منصوبے کے لیے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز کی بھی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے پنجاب آٹزم اسکول اینڈ ریسورس سینٹر ترمیمی ایکٹ 2026، پنجاب کنٹرول آف غنڈہ اینڈ اینٹی سوشل بیہویئر ایکٹ 2025، اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997 میں ترامیم اور انسداد پرتشدد انتہاپسندی سینٹر آف ایکسیلنس ایکٹ 2025 میں ترمیم کی منظوری دی۔
سیلاب سے بچاؤ، دریاؤں کے کٹاؤ کی روک تھام، پوٹھوہار میں زرعی تبدیلی کے منصوبوں، پی ڈی ایم اے کی تنظیم نو اور جدید صوبائی ٹریفک مینجمنٹ اینڈ کمانڈ سینٹر کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔ داتا دربار ہسپتال کا انتظام محکمہ اوقاف کے سپرد کرنے کی منظوری بھی اجلاس کا حصہ رہی۔
پنجاب میں اسپیشل اکنامک زونز کے لیے ایل ڈی اے لینڈ یوز رولز میں ترمیم، گارمنٹ سٹی اور انڈسٹریل زونز میں پلاٹوں کی لیز اور کرائے کے قواعد، ٹیچنگ اسٹاف کی کنٹریکٹ پر تعیناتی اور پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں نئی بھرتیوں پر پابندی ختم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں “چیف منسٹر اسٹروک انیشیٹو” کی منظوری کے ساتھ ساتھ ایکوا کلچر اتھارٹی آف پنجاب کے قیام اور شرمپ اسٹیٹس کے لیے جنگلاتی اراضی کی منتقلی کی منظوری دی گئی۔ راجن پور اور ڈی جی خان کے رود کوہی منصوبوں کو اے ڈی پی میں شامل کرنے اور کسانوں کے لیے ای ڈبلیو آر اور کموڈٹی ٹریڈنگ سسٹم کے فنڈز کی منظوری بھی دی گئی۔
کابینہ نے یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنے والے سرکاری کالجوں کے اصل نام بحال کرنے، یو ای ٹی سب کیمپس نارووال کو اپ گریڈ کر کے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نارووال بنانے، مختلف عدالتوں کے قیام اور جوڈیشل افسران کے لیے نظرثانی شدہ مراعات کی منظوری دی۔
لالہ موسیٰ سے موئیوانہ تک سڑک کی تعمیر کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے منصوبہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ شیخوپورہ، ساہیوال، میانوالی، فیصل آباد اور قصور میں مختلف ترقیاتی اسکیموں اور سڑکوں کی بحالی کے منصوبوں کی منظوری بھی دی گئی۔
پنجاب کے لیے نیو انرجی وہیکل پالیسی، موٹر وہیکل رولز 1969 میں ترامیم اور جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ کے اجرا کی منظوری بھی دی گئی۔ 150 سی سی تک موٹر سائیکلوں کی ٹرانسفر فیس ختم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کابینہ نے بینک آف پنجاب کو “کلین ایئر پروگرام” کے لیے مالیاتی ایجنٹ مقرر کرنے، اسٹیمپ ایکٹ 1899 میں ترامیم، دیہی علاقوں میں اسٹیمپ ڈیوٹی کو معقول بنانے اور پنجاب الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2012 میں ترامیم کی بھی منظوری دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جو پنجاب میں صنعت لگانا چاہتا ہے، اسے مکمل معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعت کار اپنا کنسٹرکشن پلان لے کر آئیں اور صنعت لگانے کے عمل کو ہر ممکن آسان بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ این او سیز اور دیگر منظوریوں میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پہلے خرچ کرکے بعد میں بل بھیجنے کی روایت کسی صورت قبول نہیں ہوگی اور ہر خرچے سے پہلے حکومت کو آگاہ کرنا لازم ہوگا۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت پر واجبات کا بوجھ ڈالنے کی ذہنیت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام مالی واجبات کو فوری کلیئر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کام کروا لے اور ادائیگی نہ کرے، یہ طرزعمل انہیں ہرگز قبول نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button