مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران کے خلاف امریکی فضائی کارروائیاں تیسرے روز بھی جاری، ٹرمپ کا بحری ناکہ بندی کے دوبارہ نفاذ کا اعلان

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم آج رات بھی انہیں سخت نشانہ بنائیں گے اور کل بھی بھرپور حملے کریں گے۔‘‘

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

امریکہ  نے ایران پر مسلسل تیسرے روز بھی فضائی حملے کیے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے منگل سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ حملوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدے کا امکان اب بھی موجود ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک جہاز کے عملہ کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔

امریکی فوج کے مطابق پانچ گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن میں ایران کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ساحلی شہر بوشہر اور بندر عباس بھی شامل ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد ایران کی تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

حملوں کے بعد ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ انہوں نے بحرین میں امریکی افواج کی رہائشی عمارت اور دیگر تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم آج رات بھی انہیں سخت نشانہ بنائیں گے اور کل بھی بھرپور حملے کریں گے۔‘‘

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران پر کیے گئے حملوں کے دوران ایک میزائل داغا جا رہا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق پانچ گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن میں ایران کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ساحلی شہر بوشہر اور بندر عباس بھی شامل ہیںتصویر: U.S. Central Command/Handout/REUTERS

کشیدگی میں مزید اضافہ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے سے متعلق ٹرمپ کا اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد اب تک کی شدید ترین فوجی کارروائیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جس سے جنگ کے مستقل خاتمے کی کوششوں پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ایران نے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کی تھیں، جس کے جواب میں واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نافذ کی تھی۔ تاہم جون میں دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی معاہدے کے بعد ان پابندیوں میں نرمی کر دی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا ’’کنٹرول سنبھال رہا ہے‘‘ اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کی جائے گی۔ ایران نے اس اعلان کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے ’’سمندری قزاقی‘‘ قرار دیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ منگل کو عالمی وقت کے مطابق رات 8 بجے سے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا نفاذ ہو جائے گا۔

سیٹلائٹ سے لی گئی اس تصویر میں ایران کے صوبہ ہرمزگان کے علاقے سرخور تہروی میں حالیہ امریکی حملوں کے بعد ایک ایرانی بندرگاہ کی عمارت کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصویر 9 جولائی 2026 کی ہے
یہ امریکی حملے ایسے وقت پر کیے گئے جب پاسدارانِ انقلاب نے بحرین، اردن، کویت اور عمان میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا بھی اعلان کیا تھاتصویر: Planet Labs PBC/Handout/REUTERS

نشانے پر صرف امریکی مفادات ہیں، پاسدارانِ انقلاب اسلامی

جنگ کے خدشات بڑھنے پر پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 9 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ منگل کو بھی قیمتوں میں مزید ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایران نے خطے میں امریکہ کے دیگر اتحادی ممالک کو بھی نشانہ بنایا۔ اردن نے بتایا کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔

پاسدارانِ انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ ان کے حملوں کا ہدف اردن میں امریکی فوج کا ایک فضائی اڈہ تھا۔ پاسداران کا اردن کے عوام سے مطالبہ ہے کہ وہ خطے سے ’’قابض امریکی فوجی اڈوں کے انخلا‘‘ کا سنجیدہ مطالبہ کریں۔

یہ حملے ایسے وقت پر کیے گئے جب پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو بحرین، اردن، کویت اور عمان میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا بھی اعلان کیا تھا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ وہ خلیجی خطے میں صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم ایرانی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر خلیجی ممالک نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون کیا تو اسے ’’اقدامِ جنگ‘‘ تصور کیا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button