
دامنِ قاتل کی ہوا اور طرح کی……حیدر جاوید سید
اس امر پر سوالیہ نشان ہے کہ کیا یہ ایکشن کمیٹی کے اجتماعی ضمیر کی آواز ہے یا اس میں شامل لبریشن فرنٹ کے ہمدردوں کی آواز ؟ بہر طور تلخ حقیقت یہی ہے کہ آزاد کشمیر میں سب اچھا ہرگز نہیں ہے
بلاول بھٹو کو پیپلز پارٹی میں بھرتی کروائے گئے بلوچستان امن لشکر ( سابق ) اور کالعدم لشکر جھنگوی والے شفیق مینگل ( شفیق الرحمٰن مینگل ) کی رہائش گاہ پر گزشتہ سے پیوستہ روز ہونے والے حملے پر افسوس ہوا ہے انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جرات و بہادری کا خراج تحسین پیش کیا شفیق مینگل جیسے داغدار ماضی کے حامل سفاک شخص کو چند ماہ قبل پیپلز پارٹی میں بھرتی کروایا گیا افسوس کے اُس وقت متروک جیالوں کی نسل کے اِکا دُکا جیالوں نے اس پر شرمساری محسوس کی زیادہ تر یہ کہتے دیکھائی دیئے پیپلز پارٹی سیاسی جماعت ہے کوئی شخص ماضی کا کردار بُھلا کر قومی دھارے میں آنا چاہتا ہے تو بُرائی کیا ہے ؟ ہم نے تب بھی یہ عرض کیا تھا کہ سابق امن لشکر کا رزق ہوئے بلوچوں کا خون شفیق مینگل کے دامن پر ہے لیکن اب یہ خون پیپلز پارٹی کے چہرے کی زینت بن گیا ایک جماعت جو ماضی میں دہشتگردی کا شکار رہی آج ایک سکہ بند دہشتگرد کو سیاسی رہنما بننے کیلئے کاندھا فراہم کررہی ہے اس پر کیا کہیں سوائے اس کے کہ ” بھاگ لگے رین اور توفیقات میں اضافہ ہو ”
پاکستان کے زیرانتظام آزاد جموں کشمیر میں ریاست کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری ہے گزشتہ ماہ کے اوائل میں شروع ہوئے اس احتجاج کا آغاز ریاستی و پاکستانی حکومت سے ایکشن کمیٹی کے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنوانے کے لئے ہوا تھا پھر اچانک راولاکوٹ دھرنے میں ہونے والی بعض تقاریر سے عیاں ہوا کہ ایکشن کمیٹی کی تحریک اصل میں خود مختار کشمیر کیلئے ہے مقررین پاکستان سے مطالبہ کرتے دیکھائی دیئے کہ وہ اپنے زیرانتظام کشمیری ریاست کے حصے سے نکل جائے اس مطالبے اور راولاکوٹ دھرنے میں کی گئی تقاریر کو ریاستی باشندوں کے ایک طبقے کی حمایت حاصل تھی اور ہے بھی لیکن اس امر پر سوالیہ نشان ہے کہ کیا یہ ایکشن کمیٹی کے اجتماعی ضمیر کی آواز ہے یا اس میں شامل لبریشن فرنٹ کے ہمدردوں کی آواز ؟ بہر طور تلخ حقیقت یہی ہے کہ آزاد کشمیر میں سب اچھا ہرگز نہیں ہے گو کہ ریاست کے بعض اضلاع میں ہڑتال اور دھرنوں کی وہ صورتحال نہیں جو ماہِ جون کا پورا مہینہ رہی لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ مکمل امن و امان ہے دھرنے ختم اور دکانوں کے شٹر سوفیصد کُھل گئے ہوں آزاد کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے عام انتخابات رواں ماہ کے آخری ہفتے کے دوران ہونے ہیں ایک جانب بعض علاقوں میں دھرنے اور احتجاج جاری ہے
دوسری جانب انتخابی مہم بھی شروع ہوچکی دستیاب اطلاعات کے مطابق انتخابی مہم پھیکی پھیکی ہے تحریک انصاف عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرچکی لیکن اس کے نامزد کردہ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس نہیں لئے بعض ذرائع یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی نے انتخابی کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا تو معاملات سنبھالنا مشکل ہوجائے گا اندریں حالات ہم تو یہی عرض کرسکتے ہیں کہ درمیانی راستہ نکالنے کیلئے زمینی حقائق سے رہنمائی لی جائے طرفین طاقت اور جذبات کی بجائے عصری شعور کا مظاہرہ کریں تاکہ بداعتمادی اور عدم برداشت کا خاتمہ ہو
خلیج کی بدلتی صورتحال کو جواز بنا کر گزشتہ سے پیوستہ شب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیئے گئے اضافے پر عام شہریوں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں اتنی زیادہ نہیں بڑھتیں مگر حکمران ٹیکسز کی مد میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں بعض شہریوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم انتظار میں ہیں کہ حکومت کب سانس لینے پر ٹیکس کب لگائے گی یاد رہےکہ گزشتہ سے پیوستہ شب حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 13 روپے 18 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 310 روپے 71 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 80 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 323 روپے 30 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے نیز یہ کہ پٹرول پر لیوی میں 9 روپے 36 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پٹرول پر لیوی 80 روپے فی لٹر ہو گئی، اس سے قبل پٹرول پر لیوی 70 روپے 36 پیسے فی لٹر تھی یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں ہر اضافے کے بعد مہنگائی کا جو طوفان اٹھتا ہے اس سے عام شہری کے فقط اوسان خطا نہیں ہوتے بلکہ جینے کی امید میں کمی ہوتی ہے اس پر ستم یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے دعووں کے باوجود شہری اس وقت بدترین مہنگائی کے عذاب کو بھگت رہے ہیں ٹماٹر ہی ساڑھے 3 سو روپے کلو تک فروخت ہورہے ہیں اسی سے مہنگائی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے شکر ہے اپنے حاجی محمد اسحٰق ڈار نے ابھی تک یہ مشورہ نہیں دیا کہ ٹماٹر مہنگے ہیں تو ہنڈیا میں دہی ڈال لیجے ماضی میں وہ ایسے مشورے دیا کرتے تھے
لیجے عوام الناس کو مبارک ہو کہ اسلامی جمہوریہ ایٹمی پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا ہے نیز یہ کہ اگر آبادی میں اسی بے ہنگم انداز میں اضافہ جاری و ساری رہا تو اللہ کے فضل اور لوگوں کی کوششوں سے 2050 تک پاکستان کی آبادی 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی بتایا جارہا ہے کہ آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 25 فیصد کے لگ بھگ ہے آبادی میں اس تیز رفتار اضافے کی کئی وجوہات ہیں مگر اہم ترین وجہ یہ معروف متھ ہے کہ ہر آنے والا اپنے حصے کا رزق ساتھ لے کر آتا ہے ویسے ہم نے آج تک دنیا میں تشریف لانے والے کسی بچے کے ہاتھ میں نقد رقم کا بیگ دیکھا نہ ہی کوئی کراس چیک بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے یہاں کبھی بھی اس حوالے سے لوگوں کی رہنمائی نہیں کی گئی کہ محض اللہ کے آسرے پر اولاد پیدا کرتے چلے جانا کوئی جہاد ہرگز نہیں بلکہ ہرجنم لینے والے بچے کی تعلیم تربیت اس کے عہد کی ضرورتوں کے مطابق کرنا والدین کا فرض ہے
حکومت وقت کو اس کے فرائض کی جانب متوجہ کرنے سے پہلے اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ دینا لازمی ہے ہمارے ہاں اس طرح سوچنے والے بہت کم ہیں لیکن قدیم متھوں پہ ایمان رکھنے والے زیادہ بہرحال آبادی میں جس رفتار اضافہ ہورہا ہے اس کی بدولت تعلیم صحت روزگار اور دیگر بنیادی سہولتوں پر دباو بڑھ رہا ہے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت ایک آدمی کے حصے پر تین افراد کا بوجھ ہے نتائج ہم سب کے سامنے ہیں اس لئے یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ آبادی میں اضافے کی خطرناک رفتار پر قابو پانے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے ہرشخص کو اپنے حصے کی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونا ہوگا
میدانی علاقوں میں برسات کا موسم ابھی باقاعدہ شروع نہیں ہوا حبس ہے جان لیوا حبس لوڈشیڈنگ ہی نہیں بجلی کے نرخوں اور ان پر اوپر تلے چھ سات اقسام کے ٹیکسوں نے بھی مت ماررکھی ہے حکومت تو یوٹیلٹی بلوں میں شامل ٹیکسوں سے کمائی کرلیتی ہے جیسے پیٹرولیم لیوی والا جگا ٹیکس لیا جاتا ہے ایسے میں ٹال پلازہ کے بھتوں میں مسلسل اضافہ کُھلا ظلم ہے ایسا لگتا ہے کہ حکومت ایسے منشیوں کے ہاتھ چڑھی ہوئی ہے جو زیادہ تر اینٹوں کے بھٹوں اور خرکار کیمپوں میں پائے جاتے ہیں عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں شہری جبرواستحصال کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پستے چلے جارہے ہیں طبقاتی خلیج وسیع ہوتی جارہی ہے مزے میں اشرافیہ کے طبقات ہیں یا پھر پیر ملا اور ذاکرین یہ سب عوام الناس کی کمائی پر پلتے ہیں آج نہیں صدیوں سے پل رہے ہیں اصلاح احوال کی کوئی صورت بنتی دور تلک دیکھائی نہیں دے رہی ان حالات میں مصدق ملک اور علی پرویز ملک جیسے "نابغوں” کو کون سمجھائے کہ
دُکھ اور طرح کے ہیں دوا اور طرح کی
اور دامنِ قاتل کی ہوا اور طرح کی



