
تحقیق و تحریر-محمد عاصم صدیقی -پاکستان
تاریخ گواہ ہے کہ جارح قوتیں میدانِ جنگ میں فیصلہ کن شکست سے دوچار ہونے کے بعد اکثر تنازع کے پُرامن حل کی جانب رجوع کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی نے 1945 میں سقوطِ برلن کے بعد غیر مشروط ہتھیار ڈال دئیے، جبکہ 1982 میں جزائر فاک لینڈ پر حملہ کرنے والا ارجنٹائن بھی برطانیہ کے ہاتھوں فوجی شکست کے بعد جنگ بندی اور افواج کے انخلا پر آمادہ ہوا۔مئی 2025 میں بھی بھارت کو ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا، جب 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب اور پھر 10 مئی کو فضائی معرکے میں بھارتی فضائیہ کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم، میدانِ جنگ میں بھارتی عسکری قیادت کے لیے ناکامی کوئی نئی بات نہیں۔ 6 ستمبر 1965بھی بھارتی عسکری قیادت کے لیے ایک ایسا ہی دن تھا، جب لاہور جمخانہ میں ظہرانے کی خواہش پاکستانی مسلح افواج کی بروقت اور بھرپور مزاحمت کے باعث ادھوری رہ گئی۔سترہ روزہ جنگ کے دوران پاکستانی مسلح افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، جرات، ثابت قدمی اور قومی جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا مؤثر مقابلہ کیا۔ اس معرکے میں بہادری، قربانی اور عزم و حوصلے کی بے شمار داستانیں رقم ہوئیں، جو آج بھی ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں۔ 1965کی جنگ نے ثابت کیا کہ مضبوط عزم، پیشہ ورانہ تیاری اور قومی یکجہتی سے سرشار افواج کسی بھی جارحیت کا مؤثر اور دلیرانہ مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
قیادت ایک خداداد صلاحیت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے چند منتخب افراد کو عطا فرماتا ہے۔ ایئر مارشل نور خان اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی انہی بصیرت مند اور دوراندیش قائدین میں شامل ہیں، جنہوں نے بالترتیب 1965 اور 2025 کے تنازعات سے قبل بھارتی عزائم اور ممکنہ خطرات کا بروقت ادراک کیا۔ایئر مارشل نور خان نے جولائی 1965 میں پاک فضائیہ کی کمان سنبھالی اور جنگ کے آغاز سے چند ہفتے قبل ہی انہوں نے صورتِ حال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے یکم ستمبر 1965 کو ریڈ الرٹ جاری کیا، جس سے پاک فضائیہ کو ممکنہ معرکے کے لیے بھرپور تیاری کا موقع ملا۔ 1965کی جنگ میں پاک فضائیہ نے فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف پاکستانی فضائی حدود کا مؤثر دفاع کیا بلکہ بھارتی فضائیہ کو بھی نمایاں نقصان پہنچایا۔ 6 ستمبر کو نمبر 19 اسکواڈرن کا پٹھان کوٹ ہوائی اڈے پر کامیاب حملہ، 7 ستمبر کو اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کی جانب سے پانچ بھارتی طیاروں کو مار گرانا، اور ونگ کمانڈر زاہد بٹ کی قیادت میں سی-130 ہرکیولس کے ذریعے بی آر بی نہر کے ساتھ تعینات بھارتی توپ خانے کو مؤثر طور پر نشانہ بنانا، پاک فضائیہ کی غیر معمولی آپریشنل صلاحیت اور جرات مندانہ کارکردگی کی نمایاں مثالیں ہیں۔
مئی 2025 کے تنازع کے دوران بھارت کا طرزِ عمل ماضی سے مختلف نہیں تھا۔ پہلگام حملے کے محض تیس منٹ کے اندر پاکستان پر الزام عائد کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا تھا کہ قابلِ اعتماد تحقیقات کے بجائے سیاسی مقاصد کے تحت خطے میں کشیدگی بڑھانے کی راہ اختیار کی گئی۔پاک فضائیہ کی قیادت نے بھارتی عزائم کا بروقت ادراک کرتے ہوئے پوری فورس کو کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے ہائی الرٹ کر دیا۔ وسیع آپریشنل تیاری، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور کثیرالجہتی جنگی صلاحیتوں کے باعث پاک فضائیہ نے فضائی معرکے میں نمایاں برتری حاصل کی، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی نمایاں ہوئے۔ اس دوران پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی فضائیہ کے 8 طیاروں اور 2 ایس-400 فضائی دفاعی نظاموں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد بھارتی عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ۔ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے فضائی، سائبر، خلائی اور زمینی فضائی دفاع سمیت مختلف شعبوں کو یکجا کرتے ہوئے ایک مربوط جنگی حکمتِ عملی تشکیل دی، جس نے ایک مؤثر کِل چین کو عملی شکل دی۔ اس مربوط نظام نے بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچایا اور اس کی عسکری حکمتِ عملی کو ناکام بنایا۔
2021میں چیف آف دی ایئر اسٹاف کا منصب سنبھالنے کے بعد ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے جدید صفِ اول کے لڑاکا طیاروں کو اپنے جنگی نظام میں شامل کیا، جن میں جے-10 سی اور جے ایف-17 تھنڈر بلاک تھری نمایاں ہیں، جبکہ نیکسٹ جنریشن کے جنگی پلیٹ فارمز کے حصول کی راہ بھی ہموار کی گئی۔اسی تسلسل میں جدید جنگی ڈرونز، بشمول بائراکتار اکینچی ، بائراکتار ٹی بی-2، وِنگ لونگ ٹو، شاہپر تھری، لوئٹرنگ میونیشنز اور سوارم ڈرونز کو بھی شامل کیا گیا، جس سے میدانِ جنگ میں مؤثر، ہمہ جہت اور بیک وقت کارروائی کی صلاحیت مزید مستحکم ہوئی۔تزویراتی شراکت داروں کے تعاون سے خلائی شعبے، سائبر آپریشنز اور زمینی فضائی دفاع کی آپریشنل صلاحیتوں کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔ اس جامع جدت طرازی کے نتائج نہ صرف گزشتہ ایک برس کے دوران بھارت اور دیگر عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کے خلاف آپریشنل میدان میں نمایاں ہوئے بلکہ دفاعی شعبے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی تجارتی کامیابیوں کی صورت میں بھی سامنے آئے ہیں۔پاکستان نے دفاعی برآمدات کے دائرۂ کار کو بھی نمایاں طور پر وسعت دی ہے۔ جے ایف-17 تھنڈر اور سپر مشاق طیاروں کی دوست اور اتحادی ممالک کو برآمدات سمیت متعدد معاہدوں کے نتیجے میں دفاعی برآمدات کی آئندہ ترسیلات کا حجم تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یہ پیش رفت پاک فضائیہ کی جدت طرازی اور مقامی دفاعی صنعت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی دوراندیش قیادت میں پاکستان مقامی اور خود انحصار دفاعی صلاحیتوں کے فروغ پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارکس اور پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس جدید جنگی ٹیکنالوجیز کی تحقیق، تیاری اور ترقی کے ذریعے مستقبل کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔جے ایف-17 تھنڈر بلاک تھری، جے-10 سی اور ایف-16 جیسے جدید جنگی طیاروں کے ساتھ ہائپر سونک ہتھیاروں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضا سے فضا میزائلوں اور دقیق ہدفی وار ہیڈز جیسی جدید جنگی صلاحیتیں پاک فضائیہ کی آپریشنل استعداد کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔ ان صلاحیتوں میں اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، سینسرز کے باہمی امتزاج اور مربوط نیٹ ورک پر مبنی آپریشنز کے امتزاج سے پاک فضائیہ 2030ء کی دہائی اور اس کے بعد مستقبل کی فضائی جنگ کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے اور فضائی طاقت کے نئے معیارات متعین کرنے کے لیے تیار ہے۔
سائبر شعبوں میں پیش رفت اور پاک فضائیہ کی اسپیس کمانڈ کا قیام قومی دفاع کو مزید مضبوط اور مربوط بنا رہا ہے۔ گزشتہ 79 برسوں میں ایئر مارشل نور خان سے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو تک، دوراندیش قیادت، پیشہ ورانہ مہارت اور مسلسل جدید کاری نے پاک فضائیہ کو جنوبی ایشیا کی ایک مؤثر فضائی قوت کے طور پر مستحکم کیا ہے۔ آج جدید ٹیکنالوجی، خود انحصاری اور مستقبل کی جنگی ضروریات سے ہم آہنگ صلاحیتوں کے ساتھ پاک فضائیہ قومی فضائی حدود کے دفاع اور فضائی برتری برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔



