
جو گزر گیا، اسے جانے دیں…..علی عباس کاظمی
کسی نے کچھ کہہ دیا تو وہ جملہ دل میں گھر کر لیتا ہے۔ کسی فیصلے کا نتیجہ توقع کے مطابق نہ نکلے تو ہم اپنی پوری زندگی کو اسی ناکامی کے پیمانے سے ناپنے لگتے ہیں
انسان نے دنیا کے بڑے بڑے قید خانے توڑنے کے طریقے سیکھ لیے، مگر ایک قید خانہ ایسا ہے جس کی دیواریں نہ اینٹوں سے بنی ہیں نہ لوہے سےاور جس کی چابیاں اکثر خود قیدی کی جیب میں ہوتی ہیں۔ یہ قید خانہ انسان کا اپنا ذہن ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہاں دروازے کھلے ہوتے ہیں مگر انسان باہر نہیں نکلتا، راستے موجود ہوتے ہیں مگر قدم آگے نہیں بڑھتے، زندگی سامنے ہوتی ہے مگر نگاہیں کبھی گزرے ہوئے کل کے ملبے میں الجھی رہتی ہیں اور کبھی اس آنے والے کل کے خوف میں جس نے ابھی دنیا میں قدم بھی نہیں رکھا۔
ہم میں سے کتنے لوگ حقیقت سے کم اور اپنے خیالات سے زیاد ہ مجروح ہوتے ہیں؟ ایک واقعہ گزر جاتا ہے مگر ذہن اسے بار بار دہراتا رہتا ہے۔ ایک غلطی ہو جاتی ہے مگر انسان برسوں خود کو اسی ایک لمحے کی عدالت میں کھڑا رکھتا ہے۔ کسی نے کچھ کہہ دیا تو وہ جملہ دل میں گھر کر لیتا ہے۔ کسی فیصلے کا نتیجہ توقع کے مطابق نہ نکلے تو ہم اپنی پوری زندگی کو اسی ناکامی کے پیمانے سے ناپنے لگتے ہیں۔ یوں ایک واقعہ ختم ہو جاتا ہے مگر اس کی بازگشت ہمارے اندر زندہ رہتی ہے۔ اصل المیہ یہ نہیں کہ زندگی میں دکھ آتے ہیں، اصل المیہ یہ ہے کہ ہم گزرے ہوئے دکھوں کو اپنے ذہن میں دوبارہ پیدا کرتے رہتے ہیں۔
ماضی اپنی جگہ ایک استاد ہے، مگر جب وہ استاد سے بڑھ کر مالک بن جائے تو زندگی کی آزادی چھین لیتا ہے۔ جو ہو چکا، اسے بدلا نہیں جا سکتا۔ اس پر غور کیا جا سکتا ہے، اس سے سبق لیا جا سکتا ہے، اپنی غلطیوں کی اصلاح کی جا سکتی ہے، مگر گزرا ہوا لمحہ واپس لا کر اس کی ترتیب تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ پھر ہم کیوں اپنی ذہنی توانائی ایسے دروازے پر خرچ کرتے ہیں جو کبھی دوبارہ نہیں کھلنا؟ پچھتاوا اگر اصلاح کا سبب بنے تو مفید ہے، لیکن اگر انسان کو مسلسل خود ملامتی میں مبتلا رکھے تو وہ اصلاح نہیں، خود اذیتی بن جاتا ہے۔
دوسری طرف مستقبل بھی ہمارے ذہن کا ایک عجیب کھیل ہے۔ ہم آنے والے دنوں کے بارے میں سوچتے سوچتے آج کا دن کھو دیتے ہیں۔ روزگار کا کیا ہوگا، صحت کا کیا ہوگا، کاروبار کہاں پہنچے گا، لوگ کیا کہیں گے، حالات کس طرف جائیں گے، کل کیا ہوگا۔ یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں کیونکہ انسان کو منصوبہ بندی کرنی چاہیے، مگر منصوبہ بندی اور اندیشے میں ایک باریک فرق ہے۔ منصوبہ بندی انسان کو قدم اٹھانے پر آمادہ کرتی ہے، جبکہ بے قابو فکر اسے قدم اٹھانے سے پہلے ہی تھکا دیتی ہے۔ مستقبل کی تیاری ضروری ہے، مستقبل کے خوف میں جینا نہیں۔
ہماری ایک بڑی ذہنی غلطی یہ بھی ہے کہ ہم ہر خیال کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ ذہن میں کوئی خوف پیدا ہوا اور ہم نے اسے آنے والے حادثے کی خبر سمجھ لیا۔ کسی نے ہمارے بارے میں برا سوچا ہوگا، ہم نے فرض کیا کہ سب ہمارے خلاف ہیں۔ ایک مشکل سامنے آئی اور ذہن نے فوراً اس کا انجام تباہی کی صورت میں پیش کر دیا۔ حالانکہ خیال صرف خیال ہوتا ہے، حقیقت نہیں۔ ذہن ایک قصہ گو ہے، وہ امکانات کو کہانیوں میں بدل دیتا ہے اور پھر کبھی کبھی ہم انہی کہانیوں کے کردار بن کر جینے لگتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انسان کو اپنے ذہن کے ساتھ جنگ کرنے کے بجائے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہر خیال کو روکنا ممکن نہیں، ہر خوف کو مٹانا بھی ممکن نہیں اور ہر منفی احساس سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا بھی نہیں مل سکتا۔ مگر انسان یہ ضرور سیکھ سکتا ہے کہ کون سا خیال قابلِ توجہ ہے اور کون سا محض ذہنی شور۔ خیال آئے تو اسے دیکھنا، اس کی حقیقت جانچنا اور پھر فیصلہ کرنا کہ اسے اپنے اندر جگہ دینی ہے یا گزر جانے دینا ہے، یہی ذہنی پختگی کی ابتدا ہے۔
زندگی کا سب سے قیمتی حصہ شاید وہی لمحہ ہے جسے ہم سب سے زیادہ نظر انداز کرتے ہیں، یعنی موجودہ لمحہ۔ ہم کھانا کھاتے ہوئے موبائل میں ہوتے ہیں، گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کسی اور جگہ سوچ رہے ہوتے ہیں، سفر کرتے ہوئے منزل کے بعد کے منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں اور آرام کے وقت بھی ذہن کو آرام نہیں دیتے۔ جسم ایک جگہ ہوتا ہے مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا ہوتا ہے۔ یوں زندگی ہمارے سامنے سے گزرتی رہتی ہے اور ہم اسے بعد میں یاد کرنے کے لیے محفوظ بھی نہیں کر پاتے کیونکہ ہم اسے اس وقت محسوس ہی نہیں کر رہے ہوتے جب وہ ہمارے پاس ہوتی ہے۔
یہاں ایک اور تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ ہم اکثر سکون کو حالات کے ساتھ مشروط کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں جب مسائل ختم ہوں گے تو سکون ملے گا، جب پیسہ بڑھ جائے گا تو اطمینان ہوگا، جب لوگ ہمیں سمجھیں گے تو دل خوش ہوگا، جب مستقبل محفوظ ہوگا تو زندگی اچھی لگے گی۔ لیکن زندگی شاید کبھی مکمل طور پر مسئلوں سے خالی نہیں ہوتی۔ اگر سکون کے لیے دنیا کے ہر مسئلے کے حل ہونے کا انتظار کیا جائے تو سکون ہمیشہ مستقبل کی تاریخ بن کر رہ جائے گا۔ اصل ضرورت حالات کو مکمل طور پر قابو کرنے کی نہیں بلکہ اپنے ردعمل کو سمجھنے کی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان مشکلات سے آنکھیں بند کر لے یا ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرے۔ موجودہ لمحے میں جینا بے فکری کا نام نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کام آج کیا جا سکتا ہے، اسے کل کے خوف کی نذر نہ کیا جائے۔ جس رشتے میں محبت کا اظہار آج ممکن ہے، اسے انا کے سپرد نہ کیا جائے۔ جس غلطی کی اصلاح آج ہو سکتی ہے، اسے پچھتاوے کے حوالے نہ کیا جائے۔ جس خوشی کا ایک چھوٹا سا موقع آج موجود ہے، اسے کسی نامعلوم مستقبل کے انتظار میں ضائع نہ کیا جائے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ذہنی آزادی محض ذاتی مسئلہ نہیں، یہ معاشرتی ضرورت بھی ہے۔ ایک ایسا انسان جو مسلسل خوف، احساسِ کمتری، دوسروں کی رائے اور ماضی کے بوجھ میں مبتلا ہو، وہ نہ اپنی صلاحیت پوری طرح استعمال کر سکتا ہے اور نہ معاشرے میں صحت مند کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہم نے بچوں کو کامیابی کا سبق تو بہت دیا مگر انہیں ناکامی کے ساتھ جینا نہیں سکھایا۔ ہم نے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا کہا مگر انہیں یہ نہیں بتایا کہ ہر ناکامی زندگی کا اختتام نہیں ہوتی۔ ہم نے انہیں دوسروں سے مقابلہ کرنا سکھایا مگر اپنے ذہن کے شور کو خاموش کرنا نہیں سکھایا۔
شاید ہمیں زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ گزرے ہوئے کل کو قبر نہیں، سبق سمجھیں۔ آنے والے کل کو خوف نہیں، امکان سمجھیں اور آج کو محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ زندگی کا واحد ایسا لمحہ سمجھیں جس پر ہمارا اختیار موجود ہے۔ جو گزر گیا وہ ہماری کہانی کا حصہ ہے، جو آنے والا ہے وہ ابھی ہماری گرفت میں نہیں، مگر جو سامنے ہے وہ ہماری ذمہ داری ضرور ہے۔
آخرکار انسان کی اصل آزادی شاید یہ نہیں کہ دنیا اس کی مرضی کے مطابق چلنے لگے، بلکہ یہ ہے کہ دنیا کے بے شمار شور کے باوجود وہ اپنے اندر ایک ایسی جگہ پیدا کر لے جہاں ہر خیال کو داخل ہونے کی اجازت نہ ہو۔ جہاں خوف فیصلہ نہ کرے، ماضی سزا نہ بنے، مستقبل دہشت نہ بنے اور حال بے معنی نہ ہو۔ زندگی بہت مختصر ہے، مگر ہم اسے اکثر سوچنے میں اتنا خرچ کر دیتے ہیں کہ جینے کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔ شاید ہمیں ایک دن اپنے آپ سے یہ پوچھنے کے بجائے کہ زندگی ہمارے ساتھ کیا کر رہی ہے، یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگی اپنے ہی ذہن کے حوالے کرکے آخر کہاں جا رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ قید خانہ ہمارے باہر نہیں، ہمارے اندر ہے اور دروازہ آج بھی کھلا ہے؟


