پاکستاناہم خبریں

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کیس میں سپریم کورٹ کا 2024 کا مسماری حکم کالعدم قرار دے دیا، تنازع دوبارہ ماتحت عدالتوں کو بھجوا دیا

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ تنازع کا فیصلہ پہلے مجاز عدالتوں کو کرنے دیا جائے تاکہ تمام فریقین کو قانونی حقِ سماعت حاصل ہو سکے۔

ناصر خان خٹک-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد: پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے معروف مونال ریسٹورنٹ، لا مونتانا اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں قائم دیگر تجارتی مراکز کو مسمار کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس دوبارہ متعلقہ سول عدالتوں اور ریگولیٹری اداروں کو بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ زمین کی ملکیت، لیز، انتظامی اختیارات اور ماحولیاتی ضوابط سے متعلق تنازعات کا فیصلہ متعلقہ قانونی فورمز پر ہونا چاہیے اور ان معاملات کا میرٹ پر فیصلہ کیے بغیر براہِ راست مسماری کا حکم دینا مناسب قانونی طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ فیصلہ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی آئینی بینچ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کے بعد سنایا۔

زمین کی ملکیت کا تنازع فیصلہ کن نکتہ قرار

سماعت کے دوران سی ڈی اے، ایم سی آئی اور ریسٹورنٹس کے مالکان کی جانب سے پیش ہونے والے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ مارگلہ ہلز میں واقع متنازع اراضی کی ملکیت کئی برسوں سے ملٹری ڈائریکٹوریٹ آف فارمز اور سی ڈی اے کے درمیان تنازع کا شکار ہے، جبکہ اس حوالے سے مقدمات پہلے ہی سول عدالتوں میں زیر سماعت تھے۔

وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ کاروبار قانونی لیز، سرکاری اجازت ناموں اور بھاری سرمایہ کاری کے بعد قائم کیے گئے تھے، اس لیے ملکیت اور لیز سے متعلق مقدمات کے فیصلے سے پہلے مسماری کا حکم قانونی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ تنازع کا فیصلہ پہلے مجاز عدالتوں کو کرنے دیا جائے تاکہ تمام فریقین کو قانونی حقِ سماعت حاصل ہو سکے۔

وفاقی آئینی عدالت کے اہم ریمارکس

سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کے بعض قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کا فرض قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے، نہ کہ عوامی جذبات یا دباؤ کے تحت۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ:

"عدالتیں جذباتی بنیادوں پر فیصلے نہیں کرتیں بلکہ قانون، شواہد اور دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں انصاف فراہم کرتی ہیں۔”

عدالت نے مزید کہا کہ جب کوئی معاملہ پہلے ہی متعلقہ سول عدالت یا مجاز فورم کے سامنے زیر سماعت ہو تو اعلیٰ عدالت کو ٹرائل کورٹ کا کردار اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

بینچ نے یہ بھی واضح کیا کہ مسماری جیسے انتہائی اقدامات صرف اس وقت کیے جانے چاہییں جب تمام قانونی مراحل مکمل ہو جائیں اور متعلقہ تنازعات کا فیصلہ ہو چکا ہو۔

ماحولیاتی تحفظ اہم، مگر قانون کے مطابق

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر پر زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ ریاست کی اہم ذمہ داری ہے اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک جیسے قدرتی ورثے کا تحفظ ناگزیر ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے قانونی اور ریگولیٹری طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی کاروبار یا تعمیرات سے ماحول کو نقصان پہنچنے کے خدشات موجود ہوں تو متعلقہ ادارے قانون کے مطابق کارروائی کریں، لیکن قانونی طور پر قائم کاروباروں کے خلاف کسی بھی انتہائی اقدام سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

مقدمات دوبارہ ماتحت عدالتوں کو منتقل

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ:

  • زمین کی ملکیت سے متعلق مقدمات متعلقہ سول عدالتیں میرٹ پر سنیں۔
  • لیز اور انتظامی اختیارات سے متعلق معاملات متعلقہ ریگولیٹری ادارے قانون کے مطابق طے کریں۔
  • زیر التوا مقدمات کا فیصلہ جلد از جلد کیا جائے۔
  • ماتحت عدالتیں سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے کے مشاہدات سے متاثر ہوئے بغیر آزادانہ طور پر قانون اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئندہ تمام انتظامی فیصلے متعلقہ حکومتی ادارے اور ریگولیٹری اتھارٹیز اپنے قانونی اختیارات کے مطابق کریں گے۔

سپریم کورٹ نے 2024 میں کیا فیصلہ دیا تھا؟

یہ مقدمہ جون 2024 میں اس وقت نمایاں ہوا جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں، جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحولیاتی آلودگی کے خدشات کا ازخود جائزہ لیتے ہوئے ایک تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ نیشنل پارک کی حدود میں قائم تمام ریسٹورنٹس اور تجارتی سرگرمیاں قدرتی ماحول، جنگلی حیات اور قومی ورثے کے لیے نقصان دہ ہیں، لہٰذا مونال، لا مونتانا اور دیگر ریسٹورنٹس کو تین ماہ کے اندر بند کرکے ان کے ڈھانچے مسمار کیے جائیں۔

اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ستمبر 2024 میں انتظامیہ نے آپریشن کیا، ریسٹورنٹس سیل کیے گئے اور کاروباری سرگرمیاں بند کر دی گئی تھیں۔

قانونی صورت حال میں بڑی تبدیلی

وفاقی آئینی عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد مونال ریسٹورنٹ کیس ایک نئے قانونی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

اب زمین کی اصل ملکیت، لیز کے قانونی حقوق، ماحولیاتی قوانین کی تشریح اور متعلقہ اداروں کے اختیارات کا فیصلہ اسلام آباد کی سول عدالتوں، ہائی کورٹ اور دیگر مجاز فورمز پر دوبارہ کیا جائے گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف مونال ریسٹورنٹ بلکہ سرکاری اراضی، ماحولیاتی ضوابط اور ریگولیٹری اختیارات سے متعلق مستقبل کے مقدمات کے لیے بھی اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں عدالت نے ماحولیاتی تحفظ اور قانونی حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک جیسے حساس قدرتی علاقوں کے تحفظ کے لیے مؤثر ریگولیٹری نظام، شفاف نگرانی اور واضح قانونی فریم ورک کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں اور قدرتی ماحول کے تحفظ کے درمیان متوازن پالیسی اختیار کی جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button