
جواد احمد-ادارت
برلن: عالمی اسپورٹس برانڈ ایڈیڈاس کو اسرائیل میں اپنی ’’سنگل شو سروس‘‘ کی تشہیری مہم میں سابق اسرائیلی فوجی شالِیو بیٹن کو شامل کرنے پر شدید تنقید اور بائیکاٹ کے مطالبات کا سامنا ہے۔ فلسطین کے حامی کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین نے کمپنی کے اس فیصلے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر اعضا سے محرومی اور معذوری کے بحران کے دوران ایک ایسے سابق فوجی کو تشہیری مہم میں نمایاں کرنا، جس نے غزہ کے قریب فوجی کارروائی کے دوران اپنی ٹانگ کھوئی، انتہائی حساس معاملہ ہے۔
’سنگل شو سروس‘ کیا ہے؟
ایڈیڈاس کی Single Shoe Service بنیادی طور پر ایسے افراد کے لیے متعارف کرائی گئی ہے جنہیں جسمانی معذوری یا کسی اور وجہ سے صرف ایک جوتے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سروس کے تحت صارفین مکمل جوڑے کے بجائے صرف ایک جوتا خرید سکتے ہیں، جس کی قیمت عام طور پر مکمل جوڑے کی تقریباً نصف رکھی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایڈیڈاس نے یہ سروس جنوری 2026 میں یورپ کے 20 سے زائد ممالک میں متعارف کرائی اور بعد ازاں اسے اسرائیل سمیت دیگر مارکیٹوں تک وسعت دی۔ اسرائیل میں اس سروس کی تشہیر کے لیے شالِیو بیٹن سمیت 11 معذور ایتھلیٹس کو مہم کا حصہ بنایا گیا۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ سروس صرف فوجیوں کے لیے مخصوص نہیں بلکہ عمومی طور پر ان افراد کے لیے ہے جنہیں صرف ایک جوتے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایڈیڈاس کی جانب سے اسرائیل میں چلائی جانے والی مہم پر تنازع بنیادی طور پر اس وقت پیدا ہوا جب بیٹن کی شمولیت اور ان کے فوجی پس منظر کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر اجاگر کیا گیا۔
شالِیو بیٹن کون ہیں؟
شالِیو بیٹن ایک سابق اسرائیلی فوجی ہیں جنہوں نے غزہ کے قریب مئی 2021 میں لڑائی کے دوران زخمی ہونے کے بعد اپنی بائیں ٹانگ کھو دی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ بحالی کا عمل مکمل کیا اور دوبارہ دوڑنے کی طرف واپسی کی۔
ایڈیڈاس کی مہم میں ان کی شمولیت نے اس لیے بھی خاص توجہ حاصل کی کہ وہ خود ایسی جسمانی معذوری کا سامنا کر چکے ہیں جس کے باعث انہیں صرف ایک جوتے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ بیٹن نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں بھی اس سروس کے حوالے سے اپنے ذاتی تجربے اور اس کی اہمیت کا ذکر کیا۔
فلسطینی حامی حلقوں کی شدید تنقید
مہم سامنے آنے کے بعد فلسطینی حامی کارکنوں اور سماجی شخصیات نے ایڈیڈاس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران بڑی تعداد میں فلسطینیوں کے اعضا ضائع ہونے کے پس منظر میں ایک سابق اسرائیلی فوجی کو اس نوعیت کی مہم میں نمایاں کرنا کمپنی کے لیے انتہائی حساس اور متنازع انتخاب ہے۔
فلسطینی نژاد امریکی مصنفہ اور کارکن سوزن ابو الحوا سمیت متعدد افراد نے ایڈیڈاس کے فیصلے پر اعتراض کیا، جبکہ پاکستانی مصنفہ فاطمہ بھٹو بھی کمپنی کے بائیکاٹ کی اپیل کرنے والوں میں شامل ہوئیں۔
سوشل میڈیا پر #BoycottAdidas کے مطالبات بھی گردش کرنے لگے اور مہم سے متعلق پوسٹس نے بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی۔ بعض ناقدین نے سوال اٹھایا کہ ایک عالمی برانڈ کو اپنی معذوری سے متعلق مہم کے لیے ایسے نمائندے کے انتخاب کے وسیع انسانی اور سیاسی تناظر کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔
غزہ میں اعضا سے محرومی کا بحران
تنقید کرنے والوں نے ایڈیڈاس کی مہم کو غزہ میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں دیکھا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے حوالے سے 2026 میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں 5 ہزار سے زائد تکلیف دہ اعضا کے امپیوٹیشنز رپورٹ ہوئے، جبکہ بڑے اعضا کی چوٹوں کی تعداد بھی ہزاروں میں بتائی گئی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں معذوری اور اعضا سے محرومی کے موضوع پر کسی بھی عالمی اشتہاری مہم کو انتہائی حساس انداز میں تیار کیا جانا چاہیے، بالخصوص جب مہم میں شامل فرد کا براہ راست فوجی پس منظر اور غزہ سے متعلق جنگی تجربہ موجود ہو۔
تاہم اس بحث میں یہ فرق بھی واضح رہنا چاہیے کہ غزہ میں اعضا سے محرومی کے اعداد و شمار اور ایڈیڈاس کی مہم کے خلاف سیاسی و اخلاقی اعتراضات الگ الگ نوعیت کے دعوے ہیں؛ دستیاب رپورٹس ایڈیڈاس کی سروس کو عمومی طور پر معذور یا ایسے صارفین کے لیے بیان کرتی ہیں جنہیں صرف ایک جوتے کی ضرورت ہے۔
بائیکاٹ کی اپیلیں کیوں تیز ہوئیں؟
سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ ایڈیڈاس نے ایک ایسے شخص کو تشہیری مہم میں شامل کیا جو اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے چکا ہے اور غزہ کے قریب فوجی کارروائی کے دوران زخمی ہوا تھا۔
ناقدین کے مطابق مسئلہ خود ’’سنگل شو سروس‘‘ نہیں بلکہ اس سروس کی تشہیر کے لیے چہرے کے انتخاب سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی کے پاس متعدد معذور ایتھلیٹس کو مہم میں شامل کرنے کے باوجود ایسے نمائندے کے انتخاب کے سیاسی اور انسانی اثرات کا اندازہ ہونا چاہیے تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی ذرائع نے اس مہم کے بارے میں یہ مؤقف پیش کیا ہے کہ بیٹن 11 مقامی شرکاء میں سے ایک تھے اور یہ مہم صرف ان کے لیے مخصوص نہیں تھی۔ ایڈیڈاس کے اسرائیل سے متعلق رابطہ کاروں نے بھی وضاحت کی ہے کہ Single Shoe Service عالمی سطح پر دستیاب اقدام ہے اور اسے صرف اسرائیلی فوجیوں کے لیے مخصوص قرار دینا درست نہیں۔
ایڈیڈاس پہلے بھی اسرائیل سے متعلق اشتہاری تنازع کا سامنا کر چکا ہے
ایڈیڈاس کو اسرائیل اور فلسطین سے متعلق اشتہاری مہم کے معاملے میں یہ پہلا تنازع درپیش نہیں۔ 2024 میں کمپنی نے اپنی SL72 جوتوں کی مہم میں فلسطینی نژاد امریکی ماڈل بیلا حدید کو شامل کیا تھا۔
یہ مہم 1972 کے میونخ اولمپکس سے متعلق جوتے کے ڈیزائن کی دوبارہ تشہیر پر مبنی تھی۔ اسرائیلی حلقوں کی جانب سے اس مہم پر شدید اعتراضات سامنے آئے کیونکہ انہی اولمپکس میں اسرائیلی وفد کے 11 ارکان ہلاک ہوئے تھے۔ ایڈیڈاس نے بعد ازاں مہم میں تبدیلی کرتے ہوئے بیلا حدید اور دیگر شراکت داروں سے معذرت کی تھی۔
بیلا حدید نے بھی بعد میں کہا تھا کہ انہیں مہم کے تاریخی پس منظر کا علم نہیں تھا اور اگر وہ اس تعلق سے پہلے آگاہ ہوتیں تو اس مہم میں حصہ نہ لیتیں۔
ایک عالمی برانڈ کے لیے بڑھتا ہوا دباؤ
تازہ تنازع نے ایک مرتبہ پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ عالمی برانڈز کو اسرائیل، فلسطین اور غزہ سے متعلق انتہائی حساس سیاسی اور انسانی معاملات میں اشتہاری فیصلے کس حد تک احتیاط سے کرنے چاہئیں۔
ایڈیڈاس کے لیے موجودہ معاملہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس کی Single Shoe Service بنیادی طور پر رسائی، معذوری اور شمولیت کے تصور کو فروغ دینے کے لیے بنائی گئی ہے، جبکہ مہم میں شامل شخصیت کے فوجی پس منظر نے اسی پیغام کو سیاسی اور انسانی حقوق کے تناظر میں متنازع بنا دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کی اپیلیں اس بات کی علامت ہیں کہ صارفین اب صرف مصنوعات کے معیار یا قیمت کی بنیاد پر ہی نہیں بلکہ کمپنیوں کے سماجی، سیاسی اور انسانی رویوں کو بھی اپنے خریداری کے فیصلوں میں شامل کر رہے ہیں۔
تنازع کا مرکز تشہیری انتخاب
مجموعی طور پر موجودہ تنازع ایڈیڈاس کی Single Shoe Service کے بنیادی مقصد سے زیادہ اس بات کے گرد گھوم رہا ہے کہ اسرائیل میں اس سروس کی تشہیر کے لیے شالِیو بیٹن کو کیوں نمایاں کیا گیا۔
فلسطینی حامی کارکن اس انتخاب کو غزہ میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں نامناسب قرار دے رہے ہیں اور بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایڈیڈاس سے متعلق دستیاب وضاحتوں کے مطابق یہ سروس عالمی سطح پر معذور افراد اور ان صارفین کے لیے ہے جنہیں ایک جوتے کی ضرورت ہوتی ہے، اور اسرائیلی مہم میں بیٹن کئی مقامی شرکاء میں سے ایک تھے۔
یوں ایک بظاہر معذور افراد کے لیے سہولت فراہم کرنے والی تشہیری مہم اسرائیل، فلسطین اور غزہ کی جنگ سے جڑے وسیع سیاسی و انسانی تنازع میں تبدیل ہو گئی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کی اپیلوں نے ایڈیڈاس کے لیے ایک نیا عوامی تعلقات کا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔



