
65ء کی جنگ ،پاکستان ناقابل تسخیر ……. پیر مشتاق رضوی
لاہور کی خواتین نے کھانا پکایا، بچوں نے پانی پہنچایا اور پوری قوم ایک لشکر بن گئی۔ نتیجتاً بھارت آٹھ کلومیٹر اندر آ کر رک گیا اور شرمناک پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوا
الحمدللہ! 1965ء کی سترہ روزہ جنگ نے پوری دنیا کو یہ حقیقت ثابت کر دی کہ پاکستان ناقابل تسخیر مملکت خداداد ہے اور پاک افواج اس ملک کی حفاظت کی ضمانت ہیں۔ یہ جنگ صرف بارود، ٹینکوں اور جہازوں کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ ایمان، اتحاد اور نظم کی جنگ تھی۔ 6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے رات کے اندھیرے میں سرحد پار کر کے سوچا تھا کہ تین دن میں لاہور فتح کر لے گا۔ لیکن لاہور کے محاذ پر برکی اور واہگہ کے مقام پر پاک فوج اور لاہور کے بہادر شہریوں نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے پانچ دن تک بغیر سوئے برکی نہر (بی آر بی) کے پل کی حفاظت کی اور آخری دم تک دشمن کے ٹینکوں کے سامنے سینہ سپر رہے۔ لاہور کی خواتین نے کھانا پکایا، بچوں نے پانی پہنچایا اور پوری قوم ایک لشکر بن گئی۔ نتیجتاً بھارت آٹھ کلومیٹر اندر آ کر رک گیا اور شرمناک پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔لاہور میں ناکامی کے بعد بھارت نے اپنا سارا زور چونڈہ کے محاذ پر لگا دیا۔ یہاں 300 سے زیادہ بھارتی ٹینکوں نے حملہ کیا تاکہ وزیر آباد کا پل توڑ کر پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ لیکن چونڈہ کی سرزمین پر دنیا کی دوسری بڑی ٹینک جنگ لڑی گئی۔ پاک فوج کے جوانوں نے وسائل کی کمی کے باوجود ایمان کی طاقت سے دشمن کو روکا۔ جب گولہ بارود ختم ہوا تو ہمارے جانباز سپاہیوں نے سینے پر بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے۔ شیر دل سپاہیوں نے زخمی حالت میں بھی دستی بموں سے بھارتی ٹینک تباہ کیے اور جام شہادت نوش کیا۔چونڈہ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گئے اور بھارت کے 120 سے زیادہ ٹینک تباہ ہوئے۔ شکست فاش ہونے کے پاکستان ہوائی اڈے سرگودھا کے محاذ پر بھارت نے گھمنڈ میں آ کر بڑا فضائی حملہ کیا لیکن PAF کے شاہینوں نے اسے ناکام بنا دیا۔ اسکواڈرن لیڈر ایم عالم نے ایک منٹ کے اندر پانچ بھارتی جہاز مار گرائے جو آج بھی عالمی ریکارڈ ہے۔ سمندر میں PNS غازی نے اکیلے پورے بھارتی بحری بیڑے کو کراچی سے دور رکھا پاکستان نیوی کے سرفروشوں حملہ آور بھارتی بحری جہازوں کو سمندر میں غرق کردیااور بھارت کے ڈوارکا پر حملے کو بے اثر کر دیا۔ 6 ستمبر سے 22 ستمبر سترہ روزہ جنگ 1965ء کے بعد بھارت کے ہاتھ میں "نہ لاہور آیا، نہ کشمیر ملا، نہ عزت بچی”۔ فوجی لحاظ سے بھارت کو شرمناک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے سوچا تھا کہ تین دن میں لاہور اور ایک ہفتے میں پورا پاکستان فتح کر لے گا لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ لاہور محاذ پر برکی اور واہگہ کے مقام پر بھارتی فوج آگے بڑھ کر رُک گئی اور لاہور کا دروازہ بھی نہ کھول سکی۔ چونڈہ کے محاذ پر دنیا کی دوسری بڑی ٹینک جنگ لڑی گئی جہاں بھارت کو شکست ہوئی اور وہ 120 سے زیادہ ٹینک میدان میں چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس کے ساتھ ہی "بلٹزکریگ” کا نظریہ بھی ناکام ہو گیا۔ فضا میں پاکستان کی فضائیہ نے 17 دن تک برتری قائم رکھی۔ اسکواڈرن لیڈر ایم عالم نے ایک منٹ میں پانچ بھارتی جہاز مار گرائے اور سرگودھا پر بھارت کا بڑا حملہ ناکام بنا دیا۔ سمندر میں بھی PNS غازی کی موجودگی کی وجہ سے بھارتی بحریہ کراچی کے قریب تک نہ پہنچ سکی۔ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی بھارت کو سبکی اٹھانی پڑی۔ چونکہ جنگ کا آغاز بھارت نے کیا تھا اس لیے بین الاقوامی سطح پر اسے "جارح” قرار دیا گیا۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت دونوں ممالک کو اپنی افواج واپس بلانے کا حکم دیا گیا یعنی جتنی زمین حاصل کی تھی وہ واپس کرنا پڑی۔ اس کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ نے دونوں ملکوں کو اسلحے کی فراہمی بند کر دی جس کے نتیجے میں بھارت کو سوویت یونین پر مزید انحصار کرنا پڑا۔ معاشی طور پر بھی بھارت کو شدید نقصان ہوا۔ سترہ دن کی جنگ میں اربوں روپے کا اسلحہ اور ایندھن ضائع ہوا۔ جنگ کے بعد دفاعی بجٹ اور خوراک کا بوجھ بڑھ گیا اور 1966ھ میں بھارت کو گندم کے لیے امریکہ کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑا۔
کشمیر کے معاملے میں بھارت کو صفر ملا۔ اس کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو شکست دے کر کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے لیکن جنگ کے بعد ہونے والے تاشقند معاہدے کے تحت 23 ستمبر تک دونوں افواج پانچ اگست 1965ء کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں اور کشمیر کا ایک انچ بھی ادھر اُدھر نہ ہوا۔ نفسیاتی لحاظ سے بھی بھارت کا گھمنڈ ٹوٹ گیا۔ 1962ء میں چین سے شکست کے بعد بھارت 1965ء میں خود کو بڑی طاقت ثابت کرنا چاہتا تھا لیکن ایک چھوٹے پاکستان نے 17 دن تک مقابلہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ جنگ میں تعداد اور اسلحہ ہی سب کچھ نہیں ہوتے۔ بھارتی جرنیل لیفٹیننٹ جنرل ہری پرساد نے بعد میں لکھا کہ "ہم لاہور لینے گئے تھے، اپنی عزت گنوا کر واپس آئے” سترہ روزہ جنگ کے بعد بھارت کو نہ زمین ملی، نہ فتح اور نہ عزت۔ اسے صرف نقصان، قرضہ اور سبکی اور شرمنک شکست ملی۔
اس جنگ میں پاکستان کے ہیروز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ 1965ء کی جنگ میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید اور میجر محمد سرور شہید کو نشان حیدر کا اعلیٰ ترین اعزاز ملا جبکہ 1948 کی جنگ میں لانس نائیک محمد محفوظ شہید اس اعزاز سے سرفراز ہوئے۔ ان تین ہیروز کے علاوہ ہزاروں گمنام سپاہیوں نے "یا غازی یا شہید” کا نعرہ لگا کر وطن کی مٹی کی حرمت کی حفاظت کی۔ جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی ہوئی اور تاشقند معاہدے کے تحت دونوں افواج پانچ اگست 1965ء کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں۔ یعنی بھارت کو نہ لاہور ملا، نہ کشمیر اور نہ ہی کوئی سیاسی کامیابی۔ اس کے برعکس اسے اربوں کا نقصان، اٹھانا پڑا بھارت کوبین الاقوامی سطح پر سبکی اور فوجی گھمنڈ کے ٹوٹنے کی صورت میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی جرنیلوں نے خود اعتراف کیا کہ وہ لاہور لینے گئے تھے اور اپنی عزت گنوا کر واپس آئے۔
آج 65ء کے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کی قربانیوں کو یاد رکھیں، چھ ستمبر کو یوم دفاع جوش سے منائیں، شہداء کے لیے دعا اور فاتحہ کریں اور سب سے بڑھ کر "ایمان، اتحاد، نظم” کے قائداعظم کے فلسفے پر عمل کریں ملک کی ترقی کے لیے کام کریں گے اور پاک افواج پر اعتماد رکھیں گے تو یہی شہداء کے خون کا اصل خراج تحسین ہوگا۔ 65ء کی جنگ نے ثابت کر دیا کہ جب تک پاکستانی قوم کا ایمان بلند ہے اور پاک افواج چوکس ہیں، الحمدللہ ! پاکستان کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ پاکستان زندہ باد، پاک افواج پائندہ باد۔

