کاروبارتازہ ترین

ایران میں اَن سبسیڈائزڈ پیٹرول کی قیمت دوگنی کرنے کا اعلان

لاکھوں کی آبادی والے دارالحکومت تہران میں ڈرائیور رات کے وقت بھی پیٹرول اسٹیشنوں کے باہر انتظار کرتے رہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ڈی پی اے، اے ایف پی کے ساتھ

ایرانی حکومت نے جنگ اور پابندیوں کے باعث جاری شدید معاشی بحران کے دوران ماہانہ رعایتی کوٹے سے زیادہ استعمال ہونے والے پیٹرول کی قیمت دوگنی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی قیمت کا اطلاق منگل سے ہوگا۔

ایران کی سرکاری پیٹرولیم مصنوعات کی ڈسٹریبیوٹنگ کمپنی کے سربراہ کرامت ویس کرمی نے سرکاری ٹیلی وژن پر بتایا کہ 110 لیٹر کا ماہانہ رعایتی کوٹہ ختم ہونے کے بعد خریدے جانے والے پیٹرول کی قیمت 50 ہزار ریال سے بڑھا کر ایک لاکھ ریال فی لیٹر کردی جائے گی۔

تاہم رعایتی کوٹے میں ملنے والے پیٹرول کی قیمتیں تبدیل نہیں ہوں گی۔ ایرانی شہری فیول سبسڈی کارڈ کے ذریعے پہلے 60 لیٹر پیٹرول 15 ہزار ریال فی لیٹر اور اگلے 50 لیٹر 30 ہزار ریال فی لیٹر کے حساب سے حاصل کرسکتے ہیں۔ مجموعی طور پر 110 لیٹر کا یہ ماہانہ کوٹہ ختم ہونے کے بعد خریداروں کو ایک لاکھ ریال فی لیٹر کی نئی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد ایران میں ایک ایندھن کی ذخیرہ گاہ کا منظر
اسرائیل اور امریکہ نے ایران کی توانائی کی ذخیرہ گاہوں پر بھی بمباری کی تھیتصویر: Social Media via REUTERS

ایران میں پیٹرول سستا، مگر مسائل موجود

ایران میں پیٹرول دنیا کے سستے ترین ایندھن میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم مغربی ممالک کے مقابلے میں آمدنی کی سطح بہت کم ہونے کے باعث قیمتوں میں اس اضافے کے ٹرانسپورٹ کے اخراجات، توانائی کی قیمتوں اور مجموعی مہنگائی پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اگست کے آخر میں ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشات کے باعث پیٹرول پمپوں پر طویل قطاریں لگ گئی تھیں۔ تب لاکھوں کی آبادی والے دارالحکومت تہران میں ڈرائیور رات کے وقت بھی پیٹرول اسٹیشنوں کے باہر انتظار کرتے رہے۔

ایرانی حکومت نے فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد پیدا ہونے والی مشکلات کا اعتراف کیا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے اپنی حکومت اور عوام دونوں سے اخراجات کم کرنے اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

تہران میں لوگ فیول حاصل کرتے ہوئے
ایندھن کی قلت کے باعث ایران میں پیٹرول پمپوں پر لوگوں کی بڑی قطاریں نظر آئی تھیںتصویر: Majid Asgaripour/WANA/REUTERS

مارچ اور اپریل کے اوائل میں ہونے والے شدید امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ایران کی توانائی کی تنصیبات، تیل و گیس کی صنعت کے بعض حصوں اور ایندھن کے ذخائر کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایرانی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق نقصان کا شکار ہونے والے انفراسٹرکچر کے بعض حصوں کی مرمت کی جا چکی ہے۔

دوسری جانب امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کا مقصد ایران کو تیل برآمد کرنے سے روکنا ہے۔ تیل کی برآمدات ایران کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر 2019 میں احتجاج

ایران میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ سیاسی طور پر انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ماضی میں پیٹرول کی کھپت کم کرنے کے لیے قیمتیں بڑھانے کی تجاویز پر متعدد مرتبہ بحث ہوتی رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button