
سید عاطف ندیم-پاکستان-ادارت
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے دنیا کے نقشے کو زیادہ درست انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک نئی نقشہ جاتی پروجیکشن کے حق میں قرارداد منظور کیے جانے کے بعد پاکستان اور بھارت ایک مرتبہ پھر جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے معاملے پر آمنے سامنے آ گئے ہیں۔
نقشہ جاتی پروجیکشن سے متعلق قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک میں بھارت بھی شامل تھا، تاہم بعد ازاں بھارت میں بعض حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے نئے نقشے میں بھارت کی جغرافیائی حدود اور جموں و کشمیر کی نمائندگی پر اعتراضات سامنے آئے۔ اس کے بعد نئی دہلی نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ سمیت بھارتی زیرانتظام علاقوں کو صرف بھارت کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے۔
پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور خودمختاری کے دعوے جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
جنرل اسمبلی نے نئے نقشہ جاتی پروجیکشن کی حمایت میں قرارداد منظور کر لی
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کے روز دنیا کے نقشے کو زمینی رقبے کے اعتبار سے زیادہ درست انداز میں ظاہر کرنے کے لیے ایکویل ارتھ کارٹوگرافک پروجیکشن (Equal Earth Cartographic Projection) کی حمایت میں قرارداد منظور کی۔
قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ امریکہ نے اس کی مخالفت کی اور چھ ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک میں فرانس، برطانیہ اور بھارت بھی شامل تھے۔
اس قرارداد کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سرحدوں یا متنازع علاقوں کی سیاسی حیثیت تبدیل کرنا نہیں بلکہ دنیا کے براعظموں اور زمینی خطوں کے حجم کو نقشے پر زیادہ متناسب اور حقیقت کے قریب انداز میں دکھانے کے لیے ایک متبادل نقشہ جاتی نظام کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
بھارت میں نقشے پر اعتراضات، سوشل میڈیا پر بحث شروع
اگرچہ بھارت نے جنرل اسمبلی میں قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، تاہم نئے نقشے میں بھارت اور بالخصوص جموں و کشمیر اور لداخ کی نقشہ جاتی نمائندگی پر اندرونِ ملک بحث اور تنقید سامنے آئی۔
بعض بھارتی سوشل میڈیا صارفین اور حلقوں نے نقشے میں جغرافیائی حدود کو دکھانے کے انداز پر اعتراضات کیے، جس کے بعد بھارتی حکومت کو اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرنا پڑا۔
تنازع شدت اختیار کرنے کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اتوار کے روز کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے علاقوں سمیت بھارت کے زیرِ دعویٰ خودمختار علاقوں کو صرف بھارت کے سرکاری نقشے کے مطابق ہی ظاہر کیا جانا چاہیے۔
بھارتی مؤقف کے مطابق کوئی بھی ایسی نقشہ جاتی نمائندگی جو نئی دہلی کے سرکاری مؤقف سے مختلف ہو، بھارت کے لیے قابل قبول نہیں ہو گی۔
بھارتی وزارت خارجہ کی وضاحت کیا تھی؟
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 4 ستمبر کو منظور کی جانے والی قرارداد سیاسی نقشوں سے متعلق معاملات، بین الاقوامی سرحدوں، متنازع علاقوں یا مختلف مقامات کے ناموں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔
بھارتی ترجمان کے مطابق قرارداد کا مقصد بنیادی طور پر نقشوں میں دنیا کے مختلف زمینی علاقوں کے حجم کو زیادہ درست انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک مخصوص نقشہ جاتی پروجیکشن کی حمایت کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرارداد کی منظوری سے جموں و کشمیر یا لداخ کی سیاسی اور قانونی حیثیت سے متعلق کوئی فیصلہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ:
بھارتی خودمختار علاقوں، جن میں مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ بھی شامل ہیں، کو بھارت کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے۔
پاکستان نے بھارتی دعوے کو مسترد کر دیا
دوسری جانب پاکستان نے جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے مؤقف کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقائق کے منافی قرار دیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان سے متعلق میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور مسلسل غیر قانونی قبضے سے جموں و کشمیر کی قانونی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا:
"بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور مسلسل غیر قانونی قبضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔”
پاکستانی ترجمان کے مطابق بھارت کی جانب سے نقشوں میں یکطرفہ طور پر حدود ظاہر کرنے یا خودمختاری کے دعوے کرنے سے متنازع علاقے کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔
جموں و کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ تنازع ہے: پاکستان
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعات میں شامل ہے اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب معاملات میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تنازع کا حتمی حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے تعین کا حق دیا جانا ضروری ہے اور تنازع کے حتمی حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
سجاد حیدر خان نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو کسی ملک کے یکطرفہ سیاسی یا انتظامی اقدامات کے ذریعے حل شدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اقوام متحدہ کے سرکاری نقشوں میں کشمیر متنازع خطہ ظاہر کیا جاتا ہے
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سرکاری نقشہ جاتی نمائندگیوں میں جموں و کشمیر کو ایک متنازع علاقے کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق یہی نقشہ جاتی حیثیت علاقے کی موجودہ قانونی اور بین الاقوامی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت کے نام نہاد سرکاری نقشوں اور یکطرفہ خودمختاری کے دعووں کا اس متنازع خطے کی بین الاقوامی قانونی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کسی بھی حتمی حل کا فیصلہ بین الاقوامی قانونی اصولوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تحت ہونا چاہیے۔
عالمی برادری سے بھارتی زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر زور دے کہ بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حوالے سے اقوام متحدہ کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے بغیر خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی کوششیں ادھوری رہیں گی۔
کیا ہے ایکویل ارتھ کارٹوگرافک پروجیکشن؟
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے جس نقشہ جاتی نظام کی حمایت میں قرارداد منظور کی گئی ہے، اسے ایکویل ارتھ کارٹوگرافک پروجیکشن کہا جاتا ہے۔
یہ بنیادی طور پر دنیا کے نقشے کو اس انداز میں پیش کرنے کی کوشش ہے جس میں مختلف براعظموں اور زمینی خطوں کے باہمی رقبے کو روایتی نقشوں کی نسبت زیادہ متناسب اور درست انداز میں دکھایا جا سکے۔
قرارداد کے مطابق اس پروجیکشن کا مقصد دنیا کے زمینی رقبے کی نسبتاً زیادہ درست عکاسی کرنا اور عالمی نقشے کے لیے ایک موزوں متبادل فراہم کرنا ہے۔
یہ قرارداد افریقی ممالک کی قیادت میں سامنے آئی اور اس منصوبے پر کئی برس سے کام جاری تھا۔
نقشے دنیا کے بارے میں ہماری سوچ تشکیل دیتے ہیں: ٹوگو کے وزیر خارجہ
قرارداد کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے نقشوں کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ نقشے صرف جغرافیہ سمجھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیا کے بارے میں انسانوں کی مجموعی سوچ اور تصور کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
ان کے مطابق نقشے:
- تعلیم کی سمت متعین کرتے ہیں؛
- دنیا کے بارے میں انسانی تخیل کو متاثر کرتے ہیں؛
- مختلف خطوں کی اہمیت کے بارے میں اجتماعی تصورات تشکیل دیتے ہیں؛
- اور نسلوں تک دنیا کو دیکھنے کے انداز پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر دنیا کو نقشوں میں غیر متناسب یا مسخ شدہ انداز میں پیش کیا جائے تو ایسی غلط نمائندگی نسل در نسل منتقل ہو سکتی ہے۔
روایتی مرکیٹر نقشے کی جگہ متبادل پر زور
اقوام متحدہ کی قرارداد میں ممالک کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ روایتی مرکیٹر پروجیکشن (Mercator Projection) کے مقابلے میں ایکویل ارتھ پروجیکشن کو بھی اپنانے پر غور کریں۔
مرکیٹر پروجیکشن 1569ء میں فلیمش نقشہ ساز خیرارڈوس مرکیٹر نے تیار کیا تھا۔ یہ نقشہ صدیوں سے دنیا کی جغرافیائی نمائندگی کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا رہا ہے۔
مرکیٹر پروجیکشن کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ شکلوں اور زاویوں کو ایسے انداز میں ظاہر کرتا ہے جو خصوصاً سمندری جہاز رانی اور نیوی گیشن کے لیے مفید رہا ہے۔
تاہم اس کی سب سے بڑی خامی یہ سمجھی جاتی ہے کہ یہ زمین کے مختلف حصوں کے حقیقی باہمی حجم کو درست تناسب سے ظاہر نہیں کرتا۔
قطبی علاقے بڑے، خطِ استوا کے قریب خطے نسبتاً چھوٹے دکھائی دیتے ہیں
مرکیٹر نقشے میں زمین کے قطبی علاقوں کے قریب واقع خطے اپنے اصل رقبے کے مقابلے میں بہت بڑے دکھائی دے سکتے ہیں، جبکہ خطِ استوا کے قریب واقع علاقوں کا حجم نسبتاً چھوٹا نظر آتا ہے۔
اسی وجہ سے نقشے میں بعض شمالی علاقے، خصوصاً گرین لینڈ، اپنے حقیقی رقبے سے کہیں زیادہ بڑے محسوس ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر نقشے پر گرین لینڈ تقریباً افریقہ کے حجم کے قریب دکھائی دے سکتا ہے، حالانکہ حقیقت میں افریقہ کا زمینی رقبہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے۔
ایکویل ارتھ پروجیکشن کی حمایت کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ دنیا کے براعظموں اور ممالک کے حقیقی رقبے کے بارے میں زیادہ متوازن تصور پیدا کرنے کے لیے ایسے نقشہ جاتی نظام کی ضرورت ہے جو زمینی حجم کے تناسب کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرے۔
تکنیکی نقشہ جاتی قرارداد سے سیاسی تنازع کیسے پیدا ہوا؟
نئے عالمی نقشے سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد بنیادی طور پر نقشہ سازی اور جغرافیائی نمائندگی سے متعلق تھی، لیکن بھارت میں جموں و کشمیر اور لداخ کی نقشہ جاتی حیثیت کے حوالے سے پیدا ہونے والی بحث نے اسے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک نئے سفارتی تنازع کی شکل دے دی۔
بھارت نے ایک طرف جنرل اسمبلی میں ایکویل ارتھ پروجیکشن کی حمایت میں ووٹ دیا، جبکہ دوسری جانب اندرونِ ملک اعتراضات سامنے آنے کے بعد اپنی وزارت خارجہ کے ذریعے جموں و کشمیر سے متعلق اپنے روایتی سرکاری مؤقف کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے جواباً کہا کہ کسی بھی نقشے یا یکطرفہ دعوے کے ذریعے جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
یوں ایک ایسی قرارداد، جس کا بنیادی مقصد دنیا کے جغرافیائی حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھانا تھا، جنوبی ایشیا کے دیرینہ مسئلہ کشمیر کے باعث ایک مرتبہ پھر سیاسی اور سفارتی بحث کا موضوع بن گئی۔
پاکستان کا دوٹوک مؤقف، کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر زور
پاکستان نے اپنے تازہ ردعمل میں واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تحت حل ہونا چاہیے اور کشمیری عوام کو ان کے حقِ خودارادیت کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کے یکطرفہ نقشے، انتظامی فیصلے یا خودمختاری سے متعلق دعوے تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔
دوسری جانب بھارت نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر اور لداخ کے حوالے سے اپنے سرکاری نقشے اور علاقائی دعووں پر قائم ہے۔
اس طرح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا کے نقشے کے حجم کو زیادہ درست انداز میں پیش کرنے کے لیے منظور ہونے والی قرارداد نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کی حساسیت کو عالمی سفارتی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جبکہ پاکستان اور بھارت دونوں اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔



