
ڈی پی اے، اے ایف پی کے ساتھ
ایران کی سرکاری پیٹرولیم مصنوعات کی ڈسٹریبیوٹنگ کمپنی کے سربراہ کرامت ویس کرمی نے سرکاری ٹیلی وژن پر بتایا کہ 110 لیٹر کا ماہانہ رعایتی کوٹہ ختم ہونے کے بعد خریدے جانے والے پیٹرول کی قیمت 50 ہزار ریال سے بڑھا کر ایک لاکھ ریال فی لیٹر کردی جائے گی۔
تاہم رعایتی کوٹے میں ملنے والے پیٹرول کی قیمتیں تبدیل نہیں ہوں گی۔ ایرانی شہری فیول سبسڈی کارڈ کے ذریعے پہلے 60 لیٹر پیٹرول 15 ہزار ریال فی لیٹر اور اگلے 50 لیٹر 30 ہزار ریال فی لیٹر کے حساب سے حاصل کرسکتے ہیں۔ مجموعی طور پر 110 لیٹر کا یہ ماہانہ کوٹہ ختم ہونے کے بعد خریداروں کو ایک لاکھ ریال فی لیٹر کی نئی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

ایران میں پیٹرول سستا، مگر مسائل موجود
ایران میں پیٹرول دنیا کے سستے ترین ایندھن میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم مغربی ممالک کے مقابلے میں آمدنی کی سطح بہت کم ہونے کے باعث قیمتوں میں اس اضافے کے ٹرانسپورٹ کے اخراجات، توانائی کی قیمتوں اور مجموعی مہنگائی پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اگست کے آخر میں ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشات کے باعث پیٹرول پمپوں پر طویل قطاریں لگ گئی تھیں۔ تب لاکھوں کی آبادی والے دارالحکومت تہران میں ڈرائیور رات کے وقت بھی پیٹرول اسٹیشنوں کے باہر انتظار کرتے رہے۔
ایرانی حکومت نے فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد پیدا ہونے والی مشکلات کا اعتراف کیا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے اپنی حکومت اور عوام دونوں سے اخراجات کم کرنے اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

مارچ اور اپریل کے اوائل میں ہونے والے شدید امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ایران کی توانائی کی تنصیبات، تیل و گیس کی صنعت کے بعض حصوں اور ایندھن کے ذخائر کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایرانی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق نقصان کا شکار ہونے والے انفراسٹرکچر کے بعض حصوں کی مرمت کی جا چکی ہے۔
دوسری جانب امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کا مقصد ایران کو تیل برآمد کرنے سے روکنا ہے۔ تیل کی برآمدات ایران کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر 2019 میں احتجاج
ایران میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ سیاسی طور پر انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ماضی میں پیٹرول کی کھپت کم کرنے کے لیے قیمتیں بڑھانے کی تجاویز پر متعدد مرتبہ بحث ہوتی رہی ہے۔



