
مدثر احمد-ادارت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کی اتوار کے روز ایک اہم ریاستی انتخاب میں بھاری کامیابی کا خیرمقدم کیا ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے اتوار کی شام اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر انتخابی نتائج پر مبنی ایک معلوماتی گرافک شیئر کیا، جسے اس کامیابی میں ان کی دلچسپی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں جرمنی میں امریکی سفیر رہنے والے رچرڈ گرینل نے نتائج کو ’’بڑی فتح اور جرمنی کے لیے ایک نئے دور کا آغاز‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’لوگ تبدیلی کے لیے تیار ہیں، چاہے انہیں کسی بھی نام سے پکارا جائے۔‘‘
ٹیکنالوجی کے شعبے کی ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک بھی اے ایف ڈی کی کامیابی پر ردعمل دینے والوں میں شامل تھے۔ انہوں نے جماعت کی شریک سربراہ ایلس وائیڈل کی ایک پوسٹ کے جواب میں Well done لکھ کر اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
سیکسنی انہالٹ میں اے ایف ڈی کے 35 سالہ سرکردہ امیدوار اُلرش زیگمنڈ نے مسک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’مضبوط اور تعمیری تعاون کے مواقع کا خیرمقدم‘‘ کریں گے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’جرمنی ایک مرتبہ پھر سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش ملک بن جائے گا۔‘‘
ایلون مسک طویل عرصے سے اے ایف ڈی کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ فروری 2025 کے وفاقی انتخابات سے قبل بھی وہ اس جماعت کو ’’جرمنی کے مستقبل کی بہترین اُمید‘‘ قرار دے چکے ہیں۔



